Advertisement

اس میں آپ پڑھ سکیں گے

  • (1) *تراویح پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
  • (2) *تراویح گزشتہ گناہوں کی معافی کا سبب ہے
  • (3) *تراویح کا وقت کب سے کب تک ہے
  • (4) *تراویح کا وقت وتر سے پہلے ہے یا بعد میں
  • (5) *تراویح کی کتنی رکعتیں ہیں
  • 6)( *سرکار صلی الله عليه وسلم کتنی رکعت تراویح ادا فرمایا کرتے؟*)

سوال: تراویح پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ مردوعورت دونوں کے لیے بیان فرما دیں؟

جواب: تراویح مردوعورت سب کے لیے بالا جماع سنت
مؤکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں ، اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ تعالی عنہم نے مداومت فرمائی ۔عمدة المتاخرین علامہ علاءالدین علی رحمہ اللہ علی فرماتے ہیں ( *اَلتَّرَاوِيْحُ سُنَّةُُ مُؤَكِّدَةُُ لِمُوَاظِبِةِ الْخُلَفَاءِ الرَاشِدِيْنَ*( (لِلرَّجَالِ وَالنِّسَاءِ) إجْمَاعًا ‘‘ ترجمہ: تراویح مردوعورت سب کے لیے بالا جماع سنت مؤکدہ ہے کیونکہ خلفائے راشدین نے اس پر ہمیشگی فرمائی ہے۔ (الدرالمختار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، ج 2، ص 596، مکتبه رشیدیه، کوئٹه )

نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم* کا ارشاد ہے کہ میری سنت اور سنت خلفائے راشدین کو اپنے اوپر لازم سمجھو۔

تراویح گزشتہ گناہوں کی معافی کا سبب

تراویح کی پابندی کی برکت سے سارے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ *رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا*: *مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إيْمَاناً واِحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ* یعنی جور مضان میں ( نماز تراویح یا دیگر عبادات وغیرہ کے لیے ) قیام کرے ایمان کی وجہ سے اور ثواب طلب کرنے کے لیے تو اس کے گزشتہ سب گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
(بخاری، کتاب الایمان، باب تطوع قيام رمضان من الايمان، ۲۲/۱،حدیث: ۳۷)

Advertisement

سوال: تروایح کا وقت کب سے کب تک ہے؟

جواب: تراویح کا وقت فرض عشا کے بعد سے طلوع فجر تک ہے ۔

سوال: تراویح کا وقت وتروں سے پہلے سے یابعد میں؟

جواب: وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی ۔ تو اگر کچھ رکعتیں اس کی باقی رہ گئیں کہ امام وتر کو کھڑا ہو گیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کر لے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے. اور اگر تراویح پوری کر کے وتر تنہا پڑھے تو بھی جائز ہے ۔ درمختار میں ہے’’ *وَوَقْتُهَا بَعْدَ صَلاَةِ الْعِشَاءِ*) إلى الْفَجْرِ ( *قَبْلَ الْوِتْرِ وَبَعْدَهُ* ) *فِي الْأَصَحِّ، فَلَوْ فَاتَهُ بَعْضُهَا وَقَامَ الْإِمَامُ إِلَى الْوِتْرِ أَوْتَرَ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّى مَا فَاتَهُ* ‘‘ ترجمہ: اس کا وقت عشاء کے وقت سے فجر تک ہے ، چاہے وتر سے پہلے ہو یا بعد میں لہذا اگر اس کی بعض تراویح فوت ہو جائیں اور امام وتر کے لیے کھڑا ہو جائے تو امام کے ساتھ وتر پڑھے اور بعد میں فوت شدہ پڑھے۔ (الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، ج2، ص43، دار الفکر بیروت )

سوال: تراویح کی رکعتیں کتنی ہیں؟

جواب: جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی ہیں رکعتیں ہیں ۔خاتم المحققین علامه ابن عابدین شامی رحمہ علیہ فرماتے ہیں ( *وَهِيَ عِشْرُوْنِ رَکْعَةً هـُوَ قُـوْلُ الْـجَـمـْهُـوْرِ وَعَـلَيْهِ عَمَلُ النَّاسِ شَرْقًا وَغَرْبًا* ” ترجمہ: تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اور یہی جمہور کا قول ہے اور مشرق ومغرب کے لوگوں کا اس پر عمل ہے۔
(ردالـمـحـتـار عـلـى الـدر المختار، کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، مبحث صلاة التراويح، ج 2،ص 45،دارالفکر، بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علہ فرماتے ہیں تراویح سنت مؤکدہ ہے محققین کے نزدیک سنت مؤکدہ کا تارک گنہگار ہے خصوصاً جب ترک کی عادت بنالے، تراویح کی تعداد جمہور امت کے ہاں بیس ہی ہے ۔ ایک روایت کے مطابق امام مالک کے ہاں ان کی تعداد چھتیس ہے۔
(فتاوی رضویه، ج7، ص 457،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

اور یہی *مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم* کی سنت سے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان ، تابعین اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ کے اقوال وافعال سے ثابت ہے۔

سرکار علیہ السّلام 20رکعت (تراویح) ادا فرماتے

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی 20 رکعتیں ہیں اور یہی احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت سید نا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے:
*اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلَّيْ فِيْ رَمَضَانَ عِشْرِيْنَ رَكْعَةً وَالوِتْر* يعنى *نبی کریم صلى الله تعالى عليه واله وسلم* رمضان المبارک میں 20 رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے (. مصنف ابن ابي شيبة، كتاب صلاة التطوع والامامة، ۲۸۷/۲، حدیث: ۱۳ دار الفکر بیروت)
۔ امیر المؤمنین حضرت سید نا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنے دور خلافت میں 20 تراویح کو رائج فرمایا صحابہ و تابعین اللہ مجتہدین اور ان حضرت شیخین رضوان اللہ تعالی علیہ اجمعین کا 20 رکعت تراویح پر ہمیشہ عمل کرنا اور 20 سے کم پر راضی نہ ہونا اس حدیث کو تقویت کے اعلی مقام پر پہنچادیتا ہے۔