• نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
  • ہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے
  • ترا غرور ،مرا عجز،تاکجا ظالم
  • ہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے
  • جلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سے
  • کہیں ہے مہر بھی جگ میں کہیں وفا بھی ہے
  • ستم روا ہے اسیروں پہ اس قدر صیاد
  • چمن چمن کہیں بلبل کی اب نوا بھی ہے
  • سمجھ کے رکھیو قدم دشتِ خار میں مجنوں
  • کہ اس نواح میں سوداؔ ابرہنہ پا بھی ھے
مرزا محمد رفیع سوداْؔ
Advertisements