1 Answers
Best Answer
یہ شعر حیدر علی آتش کا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں حیدر علی آتش انسانی زندگی کی فنا اور دنیا کی ناپائیداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا:
1.اس مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے مشہور و معروف فاتحین اور بادشاہوں، جیسے سکندر اعظم اور دارا، کی قبریں بھی باقی نہیں رہیں۔ یہ عظیم لوگ جنہوں نے دنیا کو فتح کیا، ان کی قبریں بھی وقت کی گرد میں دفن ہو چکی ہیں۔
2. مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے:
اس مصرعے میں شاعر یہ بیان کرتے ہیں کہ وقت نے کتنے ہی مشہور اور طاقتور لوگوں کے نام و نشان مٹا دیے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ دنیا کی شہرت اور عظمت عارضی ہے، اور وقت کے ساتھ سب کچھ فنا ہو جاتا ہے۔
شاعر دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی عارضی حقیقت کو اجاگر کر رہا ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ کوئی بھی دنیاوی طاقت یا عظمت ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی۔
تشریح:
اس شعر میں حیدر علی آتش انسانی زندگی کی فنا اور دنیا کی ناپائیداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا:
1.اس مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے مشہور و معروف فاتحین اور بادشاہوں، جیسے سکندر اعظم اور دارا، کی قبریں بھی باقی نہیں رہیں۔ یہ عظیم لوگ جنہوں نے دنیا کو فتح کیا، ان کی قبریں بھی وقت کی گرد میں دفن ہو چکی ہیں۔
2. مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے:
اس مصرعے میں شاعر یہ بیان کرتے ہیں کہ وقت نے کتنے ہی مشہور اور طاقتور لوگوں کے نام و نشان مٹا دیے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ دنیا کی شہرت اور عظمت عارضی ہے، اور وقت کے ساتھ سب کچھ فنا ہو جاتا ہے۔
شاعر دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی عارضی حقیقت کو اجاگر کر رہا ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ کوئی بھی دنیاوی طاقت یا عظمت ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی۔
Please login or Register to submit your answer