شمالی ہند میں اردو شاعری کے ارتقا پر روشنی ڈالیے ۔

ادبی محفل › Category: اردو ادب سوالات و جوابات › شمالی ہند میں اردو شاعری کے ارتقا پر روشنی ڈالیے ۔
beingsajid Staff asked 6 دن ago
1 Answers
Best Answer
beingsajid Staff answered 6 دن ago
شمالی ہند میں اردو شاعری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اگرچہ شروع میں اردو زبان دکن یعنی جنوبی ہند میں پروان چڑھ رہی تھی، لیکن اس نے اپنی اصل خوبصورتی اور ترقی شمالی ہند میں حاصل کی۔ اردو شاعری کے سب سے پہلے اور واضح نقوش ہمیں حضرت امیر خسرو کے ہاں ملتے ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی پہیلیاں، مکرنیاں اور گیت آج بھی بہت مشہور ہیں۔ لیکن اس زمانے میں فارسی زبان کا زیادہ رواج تھا اور اردو کو شاعری کی باقاعدہ زبان نہیں سمجھا جاتا تھا۔   امیر خسرو کے بعد اور ولی دکنی کی دہلی آمد سے پہلے کے کئی سو سالوں میں اردو شاعری خاموشی سے آگے بڑھتی رہی۔ اس درمیانی دور یعنی سترھویں صدی کے شروع میں افضل پانی پتی نے "بکٹ کہانی" کے نام سے ایک مشہور بارہ ماسہ لکھا، جس میں ایک عورت کی جدائی کے دکھ کو سال کے بارہ مہینوں کے حوالے سے بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی زمانے میں جعفر زٹلی نے بھی اپنی مزاحیہ اور طنزیہ شاعری کے ذریعے معاشرے اور اس وقت کے حالات پر کھل کر تنقید کی۔ ان شاعروں کے کام سے پتا چلتا ہے کہ شمالی ہند میں اردو شاعری کا پودا ولی دکنی کے آنے سے پہلے ہی جڑیں پکڑ چکا تھا۔   شمالی ہند میں اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب مشہور شاعر ولی دکنی کا کلام اور دیوان دہلی پہنچا۔ یہ تقریباً 1700ء کی بات ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد کی مشہور کتاب "آبِ حیات" کے مطابق، ولی دکنی کی شاعری دیکھ کر دہلی کے شعرا حیران رہ گئے کہ اردو زبان میں بھی اتنی اچھی اور اعلیٰ درجے کی شاعری ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد دہلی کے فارسی گو شاعروں نے بھی اردو میں شعر کہنا شروع کر دیے۔   شروع شروع میں شاعروں کو ایسے مشکل لفظ استعمال کرنے کا شوق تھا جن کے دو معنی ہوتے تھے، اسے ادبی زبان میں "ایہام گوئی" کہتے ہیں۔ آبرو، ناجی اور شاہ حاتم اس دور کے مشہور شاعر تھے۔ بعد میں شاہ حاتم نے محسوس کیا کہ شاعری سادہ ہونی چاہیے، اس لیے انہوں نے زبان کو آسان بنانے کی تحریک چلائی۔   اس تبدیلی کے بعد اردو شاعری کا سب سے شاندار اور سنہرا دور شروع ہوا۔ مستند تاریخوں کے مطابق اس دور میں شاعری بہت سادہ، سچی اور دل کو چھونے والی ہو گئی۔ اس دور کی پہچان تین بڑے نام میر تقی میر، مرزا محمد رفیع سودا اور خواجہ میر درد ہیں۔ میر تقی میر کو "خدائے سخن" کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی غزلوں میں سچا درد اور سادگی تھی۔ سودا نے قصیدے لکھے اور درد نے خالص صوفیانہ شاعری کی بنیاد رکھی۔   جب دہلی پر بیرونی حملوں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تو بہت سے شاعر دہلی چھوڑ کر لکھنؤ چلے گئے، جہاں امن اور خوشحالی تھی۔ لکھنؤ کی پرامن زندگی نے شاعری کا انداز بدل دیا۔ وہاں شاعروں نے سچے جذبات کی بجائے لفظوں کی خوبصورتی، چمک دمک اور نئے محاوروں پر زیادہ زور دیا۔ وہاں ناسخ اور آتش جیسے بڑے شاعروں نے اردو زبان کی درستی اور صفائی پر بہت کام کیا۔   مغل بادشاہت کے آخری دور میں دہلی میں ایک بار پھر عظیم شاعر پیدا ہوئے اور یہ غزل کی معراج کا دور تھا۔ ان میں مرزا غالب، شیخ ابراہیم ذوق اور مومن خاں مومن شامل ہیں۔ مرزا غالب نے اردو شاعری میں سوچ اور فلسفے کی گہرائی پیدا کی۔ ذوق نے محاورات کا بہترین استعمال کیا اور مومن نے خالص عشق کو اپنے اشعار میں سمویا۔ ان شعراء نے اردو شاعری کو پوری دنیا میں مشہور کر دیا۔   1857ء کی جنگ آزادی کے بعد حالات بالکل بدل گئے اور شاعری کا رنگ بھی بدل گیا۔ پرانی طرز کی شاعری کا رواج کم ہو گیا۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور کتاب "مقدمہ شعر و شاعری" میں کہا کہ شاعری میں صرف گل و بلبل اور فرضی عشق کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں بلکہ اس میں حقیقی زندگی کے مسائل کا ذکر ہونا چاہیے۔ اس طرح مولانا حالی اور محمد حسین آزاد کی کوششوں سے جدید، قدرتی اور مقصدی اردو شاعری کا آغاز ہوا۔