1 Answers
Best Answer
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
تحریر: آر جے باسطؔ
عنوان: عورت — عظمتِ انسانیت اور معاشرے کی روح
آج آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ یہ دن دراصل اس حقیقت کے اعتراف کا دن ہے کہ عورت انسانی معاشرے کی اساس، تہذیب کی امین اور آنے والی نسلوں کی بہترین معمار ہے۔ عورت صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ محبت، ایثار، صبر، استقامت اور وفاداری کی ایک مکمل کائنات ہے۔ اس کے وجود سے زندگی میں روشنی، گھروں میں سکون اور معاشروں میں توازن پیدا ہوتا ہے۔
عورت قدرت کی وہ حسین تخلیق ہے جس کے بغیر زندگی کی تصویر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ وہ بیٹی کی صورت میں گھر کی رونق اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے، بہن بن کر محبت اور خلوص کا استعارہ بنتی ہے، بیوی کی حیثیت سے زندگی کے سفر میں وفاداری اور رفاقت کی مثال پیش کرتی ہے اور ماں کے روپ میں دنیا کی سب سے عظیم اور بے لوث محبت کا پیکر بن جاتی ہے۔ ماں کی آغوش دراصل انسان کی پہلی درسگاہ ہے جہاں سے انسان محبت، اخلاق، صبر اور انسانیت کے بنیادی اسباق سیکھتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عورت کو عزت، تعلیم اور مواقع فراہم کیے گئے تو اس نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ علم و ادب، تعلیم و تحقیق، طب و سائنس، سیاست اور سماجی خدمت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں خواتین نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ عورت کی فطرت میں شفقت، برداشت اور ہمدردی جیسی صفات شامل ہیں اور یہی خوبیاں اسے معاشرے کا ایک نہایت مضبوط اور مثبت کردار بناتی ہیں۔
اسلام نے بھی عورت کو غیر معمولی عزت اور بلند مقام عطا کیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جنہوں نے اس کے وقار اور مقام کو محفوظ بنایا۔ بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دیا گیا، ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی خوبصورتی قرار دیا گیا۔ یہ تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی بنیاد ہے۔
عورت قربانی اور ایثار کی اعلیٰ مثال بھی ہے۔ وہ اپنی خوشیوں کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کی خوشیوں کو ترجیح دیتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کی بہتر تربیت اور روشن مستقبل کے لیے اپنی نیند، آرام اور خواہشات تک قربان کر دیتی ہے۔ ایک بہن اپنے بھائیوں کے لیے دعا اور محبت کا سایہ بنی رہتی ہے جبکہ ایک بیوی ہر مشکل گھڑی میں اپنے شریکِ حیات کا حوصلہ اور سہارا بنتی ہے۔ عورت کی یہی بے لوث محبت اور بے مثال صبر اسے عظمت کا درجہ عطا کرتا ہے۔
شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں
آج کے جدید دور میں یہ حقیقت مزید واضح ہو چکی ہے کہ عورت کی ترقی دراصل پورے معاشرے کی ترقی ہے۔ جب عورت تعلیم یافتہ، باشعور اور بااختیار ہوتی ہے تو وہ نہ صرف خود ترقی کرتی ہے بلکہ پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کو علم و شعور کی روشنی عطا کرتی ہے۔ ایک باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں عورت کو عزت، تحفظ اور آگے بڑھنے کے برابر مواقع حاصل ہوں۔
عالمی یومِ خواتین ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عورت کی عزت اور حقوق کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کے وقار اور مقام کو تسلیم کیا جائے۔ عورت کے خوابوں کو سمجھنا، اس کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور اسے معاشرے میں باعزت مقام فراہم کرنا دراصل ایک روشن اور مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔
عورت محبت کی خوشبو، صبر کی مثال اور امید کی روشن کرن ہے۔ وہ ایک گھر کی بنیاد، ایک معاشرے کی روح اور ایک قوم کی معمار ہے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کی عظمت، وقار اور حقوق کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا۔
عورت عزت بھی ہے، رحمت بھی ہے اور انسانیت کے مستقبل کی سب سے مضبوط ضمانت بھی۔
عورت دراصل زندگی کی وہ روشنی ہے جو ہر اندھیرے کو امید میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے وجود میں شفقت، محبت اور برداشت کی وہ قوت پوشیدہ ہے جو ایک بکھرے ہوئے معاشرے کو بھی جوڑ سکتی ہے۔ جہاں عورت کو عزت اور اعتماد ملتا ہے وہاں گھروں میں سکون اور معاشروں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
انسانی تہذیب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عورت ہمیشہ سے علم، ہنر اور شعور کی علامت رہی ہے۔ اس نے اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے نہ صرف خاندانوں کی پرورش کی بلکہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ عورت کی تعلیم دراصل پوری نسل کی تعلیم کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
عورت کی شخصیت میں ایک عجیب توازن پایا جاتا ہے۔ وہ نرمی اور مضبوطی دونوں کا حسین امتزاج ہے۔ ایک طرف اس کے دل میں بے پناہ محبت اور رحم دلی ہوتی ہے اور دوسری طرف مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور صبر بھی۔ یہی خوبیاں اسے زندگی کے ہر میدان میں کامیاب بناتی ہیں۔
معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہاں عورت کو کس حد تک احترام اور مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ جب عورت کو تعلیم، آزادی اور اعتماد دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوارتی ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
عورت کی سب سے بڑی خوبی اس کی بے لوث محبت ہے۔ وہ اپنے پیاروں کی خوشی کے لیے اپنی خواہشات تک قربان کر دیتی ہے۔ ماں کی صورت میں وہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کے لیے ہر مشکل برداشت کرتی ہے اور انہیں زندگی کے روشن راستوں کی طرف رہنمائی دیتی ہے۔
ادب اور شاعری میں بھی عورت کو ہمیشہ حسن، لطافت اور وقار کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اس کے کردار، صبر اور محبت کو الفاظ میں ڈھال کر انسانی جذبات کی خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں۔ عورت کے بغیر نہ تو محبت کی داستان مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی زندگی کی کہانی۔
حقیقت یہ ہے کہ عورت صرف گھر کی ذمہ داریوں تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دے چکی ہے۔ تعلیم، طب، تحقیق، فنون اور سماجی خدمات سمیت بے شمار شعبوں میں خواتین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ عزم اور محنت کے سامنے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔
ایک مہذب معاشرہ وہی کہلاتا ہے جہاں عورت کو تحفظ، عزت اور آزادی حاصل ہو۔ جب عورت کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انسانیت کی خدمت کا ایک روشن باب رقم کرتی ہے۔
عورت دراصل زندگی کے حسن اور وقار کی علامت ہے۔ اس کے وجود سے محبت کو معنی ملتے ہیں اور رشتوں کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔ وہ خاندان کی بنیاد اور معاشرے کے استحکام کی اصل قوت ہے۔
اگر ہم ایک روشن اور خوشحال مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کے مقام اور کردار کو دل سے تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کی عزت، تعلیم اور خود اعتمادی دراصل ایک بہتر دنیا کی بنیاد ہے جہاں انسانیت، محبت اور انصاف کے اصول مضبوطی سے قائم رہتے ہیں۔
Please login or Register to submit your answer