1 Answers
Best Answer
اولاً آپ کو آپ کے جملہ اہل خانہ کو،آپکے رفقاء کو آپکے عزیز و اقارب کو میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے عید الاضحٰی 1446 کی پر خلوص بہاریں اور خوشیوں کے جھرمٹ میں عید کی خوشیاں مبارک ہوں۔
عید ہر سال آتی ہے مسرتوں کے پیغام لاتی ہے، خوشیاں تقسیم کرتی ہے
چہروں پر حقیقی و معنوی مسکراہٹ جگماتی ہے بڑے بہت سارے رنج و غم بھول کر نئ امیدوں کے چراغ روشن کرتے ہیں بچے ہنستے ہیں کھلکھلاتے ہیں قہقہوں میں اپنی خوشیاں بکھیر کر ان کو چنتے ہیں اور وہ بھی بڑوں کی طرح ہونا بننا چاہتے ہیں عید گاہوں کی طرف جانے والے راستے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں عورتیں اگرچہ چار دیواری کا تقدس مزید پر رونق بنانے میں اہم حقیقی اور اہم کردار ادا کرتی ہیں اگرچہ انکو باہر کی دنیا کی زیادہ خبر نہیں رہتی ہے کیونکہ عید کے دن ہو اور طرح طرح کے لذیذ، عمدہ،ذائقے دار اور نت نئے پکوان تیار کرنے میں اپنی پوری مہارت بروئے کار لاتے ہوئے دسترخوانوں کی رونقیں دوبالا کرتی ہیں بچیاں بچے اپنے حقیقی رشتے داروں مثلاً ماما، ماسی،پھوپھی چاچا چاچی تایا تائی نانی دادی دادا یا دیگر ان کی راہیں بھی تکتے ہیں کیونکہ ان سے اپنی ایک معنی خیز خوشی جڑی ہوتی ہے جسکو عیدی کہا جاتا ہے۔ علماء، ائمہ خطباء اپنی عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہوئے انکی دینی، ملی اور مذہبی ذمہ داریوں کے ہجوم میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر جملہ لواحقین اعزا و اقرباء کی یادیں بھی ستاتی ہیں انکی آمد و رفت اور نشت و برخواست کی جگہیں سونی بھی نظر آتی ہیں تڑپاتی ہیں دل سے دعائیں نکلتی ہیں اور آخر دل کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اس میں جو آیا اس نے آخر جانا ہے ہم نے بھی تو چلے جانا ہے
جاتے جاتے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اور دونوں جہاں میں خوشیاں عطا فرمائے آپکی دعائیں میرے حق میں اور میری دعائیں آپکے حق میں قبول فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم علیہ السلام و أفضل التسليم
نوٹ آؤ خوشیاں تقسیم کریں۔
محبتوں کو عام کریں۔
نفرتوں کو دفن کریں ایک نئ اور پرخلوص زندگی گزاریں یہی زندگی ہے اور یہ پرسکون زندگی ہے یہی اصل زندگی ہے۔ تحریر: مختار علیمی
چہروں پر حقیقی و معنوی مسکراہٹ جگماتی ہے بڑے بہت سارے رنج و غم بھول کر نئ امیدوں کے چراغ روشن کرتے ہیں بچے ہنستے ہیں کھلکھلاتے ہیں قہقہوں میں اپنی خوشیاں بکھیر کر ان کو چنتے ہیں اور وہ بھی بڑوں کی طرح ہونا بننا چاہتے ہیں عید گاہوں کی طرف جانے والے راستے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں عورتیں اگرچہ چار دیواری کا تقدس مزید پر رونق بنانے میں اہم حقیقی اور اہم کردار ادا کرتی ہیں اگرچہ انکو باہر کی دنیا کی زیادہ خبر نہیں رہتی ہے کیونکہ عید کے دن ہو اور طرح طرح کے لذیذ، عمدہ،ذائقے دار اور نت نئے پکوان تیار کرنے میں اپنی پوری مہارت بروئے کار لاتے ہوئے دسترخوانوں کی رونقیں دوبالا کرتی ہیں بچیاں بچے اپنے حقیقی رشتے داروں مثلاً ماما، ماسی،پھوپھی چاچا چاچی تایا تائی نانی دادی دادا یا دیگر ان کی راہیں بھی تکتے ہیں کیونکہ ان سے اپنی ایک معنی خیز خوشی جڑی ہوتی ہے جسکو عیدی کہا جاتا ہے۔ علماء، ائمہ خطباء اپنی عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہوئے انکی دینی، ملی اور مذہبی ذمہ داریوں کے ہجوم میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ عید کے موقع پر جملہ لواحقین اعزا و اقرباء کی یادیں بھی ستاتی ہیں انکی آمد و رفت اور نشت و برخواست کی جگہیں سونی بھی نظر آتی ہیں تڑپاتی ہیں دل سے دعائیں نکلتی ہیں اور آخر دل کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے اس میں جو آیا اس نے آخر جانا ہے ہم نے بھی تو چلے جانا ہے
جاتے جاتے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے اور دونوں جہاں میں خوشیاں عطا فرمائے آپکی دعائیں میرے حق میں اور میری دعائیں آپکے حق میں قبول فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم علیہ السلام و أفضل التسليم
نوٹ آؤ خوشیاں تقسیم کریں۔
محبتوں کو عام کریں۔
نفرتوں کو دفن کریں ایک نئ اور پرخلوص زندگی گزاریں یہی زندگی ہے اور یہ پرسکون زندگی ہے یہی اصل زندگی ہے۔ تحریر: مختار علیمی
Please login or Register to submit your answer