اردو صحافت کا آغاز انیسویں صدی کے ابتدائی میں اس وقت ہوا جب 1822ء میں ”جام جہاں نما“ کے نام سے اردو کا پہلا ہفتہ وار اخبار ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی مصلحتوں کے تحت کلکتہ سے نکلوایا۔ یہ کبھی اردو میں کبھی فارسی میں کبھی دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا۔ابتدا میں اگرچہ اس کی اشاعت کوئی زیادہ نہیں تھی لیکن کسی نہ کسی طرح یہ نکلتا رہا لیکن جب اس اخبار نے پنجاب کی سکھ ریاست پر حملہ کرکے انگریزی تیاری کی بھانڑا پھوڑا تو یہ اخبار مطعوب ہوگیا اور آخر میں یہ اخبار صرف فارسی زبان کا اخبار بن کے رہ گیا۔

آہستہ آہستہ فارسی زبان کا زور ختم ہوتا گیا اس کی جگہ اردو زبان لیتی جا رہی تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ اردو زبان کا دنیا میں احساس عام ہوتا گیا۔ اردو کو صحافت میں فروغ دینے کی کوشش کی جانے لگی۔ چنانچہ ملک کے دوسرے علاقوں میں ایسی کوششیں کی گئیں تاکہ انگریزوں کے مقابلے میں اردو اخبار جاری کرے۔ انگریزوں کی سازشوں کو عام کیا جائے اور مختلف ریاستوں کے حکمرانوں کو بد نام کرنے کی جو چالیں چل رہے تھے ان کا مقابلہ کیا جائے۔

غدر سے پہلے دہلی سے نکلنے والا دہلی اخبار اردو کا سب سے بااثر اخبار تھا۔ جسے علامہ محمد حسین آزاد کے والد محمد باقر نے جاری کیا تھا۔جو غدر کے بعد انگریزوں کی مخالفت اور جہد آزادی کی حمایت کرنے کی پاداش میں شہید کروائے گے۔یہ حق کی راہ میں جان دینے والے پہلے صحافی تھے۔اس اخبار کے لیے محمد حسین آزاد بھی والد کی قلمی مدد کر رہے تھے اس لئے وہ بھی گرفت میں آنے والے تھے لیکن کسی نہ کسی طرح بچ گے۔

دہلی کا اس زمانے کا ایک اردو اخبار ”صادق الاخبار“ تھا یہ بڑا بیباک اخبار تھا‌۔ غدر سے پہلے سر سید کے بڑے بھائی سید محمد نے بھی ایک اخبار ”سیدا لخبار“ کے نام سے جاری کیا۔ سرسید احمد خان بھی اس تحریک میں حصہ لیا کرتے تھے۔یہ ایک متعدل قسم کا اخبار تھا جو غدر سے پہلے بند ہوگیا۔

غدر کے طوفان میں اردو کے بہت سے اخبار بند ہوگئے۔ جو بچ گئے ان میں لاہور کا ‘کوے نور’ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔یہ اخبار 1856میں پنجاب کے انگریز حاکم کی سرپرستی میں نکلنا شروع ہوا تھا اور انگریزوں کا خامی ہونے کے باوجود بہت معیاری اور ایک وسیع المشرب تھا۔اس کے پہلے ایڈیٹر منشی ہرسخن لال تھے جن کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ اس اخبار کی پالیسی سے بیزار ہوکر ا س سے علیحدہ ہو گئے۔ ان کے بعد اور کئی لوگ اس اخبار کے ایڈیٹر ہوئے انہی میں منشی نول لکشور بھی تھے۔یہ وہی نول لکشور ہیں جنہوں نے غدر کے بعد لکھنؤ میں اپنا عظیم الیشان ادارہ جاری کیا۔اس سے اردو فارسی عربی اور ہندی کی مایا ناز کتابیں اور اس کے ترجمے شائع ہوئے۔

سیدالا اخبار

دہلی ہی سے1841 میں ایک اور اہم اخبار جاری ہوا جس کا نام سید الخبار تھا۔ اس اخبار کو سر سید احمد کے بڑے بھائی سید محمد خان مرحوم نے جاری کیا تھا ۔جو سید الغفور کی ادارت میں شائع ہوا تھا ۔مولانا خالی نے خیات جاوید آثار الصنادید کا تذکرہ کرتے ہوئے ضمنا سید الاخبار کا بھی ذکر کیا اسی زمانے میں جب کہ وہ دہلی میں مصنف تھے ان کو عمارت شہر اور نواے شہر کی تحقیقات کا شوق ہوا اس کا سبب یہ تھا کہ ان کی آمدنی گھر کے اخراجات کو مشکل سے پوری کرتی تھی ۔ان کے بڑے بھائی کا انتقال ہو چکا تھا جس سے سو روپے ماہوار کی آمدنی کم ہو چکی ہیں قلعے کی تنخواہ تقریبا بند ہو گئی تھی ۔باپ کی ملکیت بھی یہ سب حسین حیات ہونے کے ضبط ہو گئی تھی ۔کرائے کی آمدنی بہت قلیل تھی صرف سرسید کی تنخواہ کہ ما ہوار سو روپے تھے ۔اور سارے کنبے کا خرچہ تھا ۔سرسید ابتدا سے نہایت فروغ حوصلہ اور کشادہ دل تھے حرچ کی تنگی سے اکثر پریشان رہتے تھے ۔لہذا ان کو یہ خیال ہوا کہ کسی تدبیر سے تنگی رفح ہوسید الخبار جو ان کے بھائی کا جاری کیا ہوا اخبار تھا ۔کچھ تو اس کو ترقی دینا چاہیے اور کچھ عمارت دہلی کے حالات ایک کتاب کی صورت میں جمع کر کے شائع کرنے کا ارادہ کیا۔

سرسید نے الخبار کا اہتمام اگرچہ برائے نام ایک اور شخص کے سپرد کر رکھا تھا ۔مگر زیادہ تو سر سید خود مضامین لکھا کرتے تھے ۔لیکن یہ اخبار ایک مدت تک جاری رہ کہ بند ہوگیا تھا ۔اس اقتباس سے اگرچہ یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ اخبار جاری کب ہوا لیکن ہمارے محققین کا خیال ہے کہ یہ اخبار 1837میں جاری کیا گیا ۔جو صحیح معلوم نہیں ہوتا ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق اس کا سنہ اجراح 1841 قرار پایا۔

سرسید احمد خان 1841 میں جب سید الخبار جاری کرنے کا ارادہ کیا تو ایک لتھو گرافک پریس بھی کام کیا ۔اس پریس میں صرف سید اخبار شائع نہیں ہوتا تھا ۔بلکہ متقدمین اور ہم عصر علمائے کرام اور شعرائے نامدار کی تصانیف بھی چھپی تھی ۔مرزا غالب کے اردو دیوان کا پہلا ایڈیشن اسی پریس سے شائع ہوا تھا ۔ان شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اخبار کے ساتھ ساتھ پریس کے قیام کی وجہ سے اس اخبار نے ایک ادارے کا درجہ حاصل کر لیا تھا ۔سرسید کی بہت سی کتابیں اسی ادارے سے شائع ہوئی۔

سرسید احمد خان نے جب 1841 نے سید الخبار جاری کیا تو اس کی ادارت سید عبدالغفور کے سپرد ہوئی کچھ پرسوں تک اس اخبار کی ادارت کے فرائض حسن و خوبی سے انجام دیتے رہے لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ اخبار تنزل کا شکار ہوگیا ۔اور سر سید کے دہلی میں مقیم رہنے کے باوجود اس کی خالت نہ سنبھل سکیں اور آخر کار 1849 میں بند ہوگیا اس اخبار کے فاعلوں کے متعلق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس اخبار نے بھی خبریں شائع کرنے اور ملک کے حالات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے سلسلے میں وہی راستہ اپنایا جو اس وقت کے دوسرے اخبار اپنا رہے تھے ۔یعنی عنوانات شہروں سے لے کر دیا ان کے نام لکھ کر نیچے خبریں شائع کرنا اس کے ساتھ علمی و ادبی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی تھیں ۔زبان و بیان کے اعتبار سے اس اخبار کا مرتبہ خاصا بلند تھا ۔سادہ نشر کو عام کرنے میں اس اخبار کی خدمات فراموش نہیں کی جا سکتی۔

فوائد الناظرین

ماسٹر رام چندر کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔آپ قدیم دہلی کالج کے مایہ ناز پروفیسروں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے علمی کمالات اور انکشافات کی وجہ سے انیسویں صدی کے ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے تھے ۔آپ نے صرف سائنس اور ریاضیات میں ہی ماہرین فن سے خراج تحسین حاصل نہ کیا ۔بلکہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی اپنے ملک کی پیش بہار کی خدمات انجام دیں مغربی علوم و فنون کا زوق عام کرنے اور شعور انسانی کو بیدار کرنے کے لیے آپ نے 22 مارچ 1845 کو فوائد الناظرین کے نام سے ایک پندرہ روزہ رسالہ جاری کیا ۔یہ اخبار بھی دہلی اردو اخبار کے ایڈیٹر محمد باقر کے گھر اور پریس سے شائع ہو کر نکلنے لگا ۔یہ اخبار ستمبر 1845 تک دہلی اردو اخبار کے ضمیمے کے طور نکلتا رہا 4اکتوبر 1846سے اخبار کے آخری صفحہ پر رام چندر کا نام چھپنے لگا۔ یہ کاغذی کاروائی تھی ورنہ شروع ہی سے یہ اخبار ماسٹر رام چندر کی ادارت میں نکلتا تھا ۔اور انہیں اس سلسلے میں کالج کے سبھی اساتذہ اور طلبا کا تعارف حاصل تھا۔

لیکن ماسٹر رام چندر جی کی ان کوششوں کے باوجود اس پرچے کے قارئین کا خلقہ بہت محدود رہا ۔چناچہ وہ خود یکم نومبر 1848 کے شمار میں لکھتے ہیں ۔واضح ہو کہ جب پرچہ فوائد الناظرین جاری ہوا تھا ۔اس وقت اس احقر کی یہی رائے تھی ۔سوائے طبیات و ریاضیات کے اور کوئی بات پرچہ مذکورہ نہ چھپے چنانچہ ایسا ہی مدت تک عمل میں آیا ۔لیکن اس عرصے میں ہر طرف سے ہی فریاد سنی کے مضامین پرچہ فوائد الناظرین کے کسی کی سمجھ میں نہیں آتے چنانچہ علوم عصریہ سے مناسبت پیدا کرنے اور علوم جدید کا ذوق عام کرنے کے لیے خالص علمی مقالات جو صرف نظر کر کے دوسرے موضوعات سے بحث کرنا بھی لازمی ہوگیا۔

1857کے دوران اردو صحافت

1857 کا غدر ایک ایسا طوفان تھا جس نے ہندوستانیوں کی زندگی میں انقلاب انگیز تبدیلیاں رونما کی ۔اس ہنگامے کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا ۔اس کے ساتھ ہی ہندوستان برطانوی سلطنت کا حصہ بنا اور انگریز ہندوستانیوں کے مقدر کے مالک بن گئے ۔غدر میں جیسے آزادی پہلی جنگ قرار دیا جاتا ہے ہندوستانیوں کو شکست ہوئی ۔لیکن یہ غلامی چند برکتیں اپنے ساتھ لے کر آئی۔مثلا ہندوستانیوں کو یورپی علوم سے روشناس کرنے کی ذمہ داری براہ راست برطانوی حکومت پر آن پڑی ۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں نے علوم کے دروازے کھل گئے ۔اس پیش رفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدیوں جاگیردارانہ نظام میں کھیلے جارہے ہندوستانیوں کو ایک نئی سیاسی اور سماجی ماحول میں جینے کا موقع ہاتھ آیا اور اس طرح ان تبدیلیوں کے لیے رائے ہموار ہوگی ۔جنہوں نے ہماری زندگی میں جدید دور کا آغاز کیا۔

غدر کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات ہندوستانیوں کی زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہو گے اور صحافت بھی اس اثر سے محفوظ نہ رہ سکی چنانچہ غذر کہ ہنگاموں کی وجہ سے اردو کتب کے اخبار بند ہوگئے اردو صحافت نے چونکہ غدر کے زمانے میں باغیوں کا بھرپور ساتھ دیا چنانچہ انگریز اس سے خوش نہیں تھے ۔چناچہ 1857 کہ ہنگا مے ختم ہوئے ،جب دارو کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اردو اخباروں پر ہوا ۔بہت سے اخبار ضبط کر لیے گئے ۔متعدد صحافیوں کو بغاوت کے الزام میں باتوں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا پھر عمر قید کی سزا دے کر کالے پانی روزانہ کر دیا گیا ۔سزا پانے میں بہت کم اخبار ایسے تھے جن میں زندہ رہنے کا حوصلہ تھا ایسے اخباروں میں کوئی نور کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے ۔یہ اخبار 1857 میں پنجاب کی انگریز حاکموں کی سرپرستی میں نکلنا شروع ہوا اور انگریزوں کا کٹر حامی ہونے کے باوجود بہت معیاری اور وسیع المشرب تھا یہ اخبار لاہور سے نکلتا تھا۔اور اس کے پہلے ایڈیٹر منشی ہر سنح تھے ۔جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اس اخبار کی پالیسی سے بیزار ہوکر اس سے علیحدہ ہوگئے ۔اور اس کے بعد انہوں نے اپنا ایک خریت پسند اخبار جاری کیا ۔ان کے بعد اس اخبار کے اور بھی بہت سے نامور لوگ ایڈیٹر رہے ۔جن میں منشی نولکشور بھی تھے ۔یہ وہی منشی نولکشور ہیں ۔جنوں نے غدر کے بعد لکھنؤ میں اپنا عظیم الشان پریس قائم کیا ۔جس سے اردو فارسی عربی اور ہندی کے مایہ ناز کتابیں شائع ہوئیں ۔ایسی پریس سے اردو اخبار بھی نکلا ۔جو پہلے ہفتہ وار تھا ۔اور پھر روز نامہ ہوا اور ایک مدت قوم کی خدمت انجام دیتا رہا ۔کوے نور کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے غدر کے بعد زمانے میں انگریزوں کی حمایت کی ۔لیکن غدر کے بعد انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان ہونے والے معر کوں کی پکڑ دھکڑ املا کی ضبطف مکانوں کے انہدم مقدمات اور سزاوں کی خبریں خبریں بڑی تیزی سے شائع کی۔

Advertisements