اردو غزل کی ابتدا کب اور کہاں ہوئی اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ عام طور پر امیر خسرو کو اردو کا پہلا غزل گو تسلیم کیا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں امیر خسرو کی ایک غزل جس کا مطلع حسب ذیل ہے پیش کیا جاتا ہے؀

ز حالِ مسکیں مکن تغافل دو رائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

یہ غزل ”آب حیات“ میں سب سے پہلے 1880 میں شائع ہوئی۔صفدر آہ کے مطابق اسپرنگر کے مضمون شائع 1852 عیسوی میں یہ غزل شامل ہے۔ اس غزل کی بنیاد پر امیر خسرو کو اردو غزل کا پہلا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے اور اب تک کی تحقیق کے مطابق اسے اردو غزل کی تاریخ میں پہلی غزل ہونے کا رتبہ حاصل ہے۔

شمالی ہند میں امیر خسرو کے بعد تقریباً تین سو سال بعد تک غزل کے اکّا دکّا نمونے ملتے ہیں۔ ان تمام غزلوں کی پہچان یہی ہے کہ ان میں ہندی اور فارسی الفاظ کی آمیزش ہے اور ان میں اردو زبان کی تشکیل کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔امیر خسرو کے بھائی امیر حسن دہلوی فارسی کے قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کا ہندی کلام بھی ملتا ہے انہوں نے بھی امیر خسرو کے انداز میں غزل کہی ہے؀

ہر لحظہ آید در دلم دیکھوں اوسے ٹُک جائے کر
گویم حکایت ہجر خود با آں صنم جیو لائے کر
﴿حسن دہلوی﴾

بابر کے زمانے میں شیخ جمالی فارسی کے مشہور شاعر تھے انہوں نے اردو میں بھی شعر کہے ہیں۔ بہرام سقہ بخاری فارسی کا صاحب دیوان شاعر تھا اس نے بھی زمانے کے رواج کے مطابق ریختہ کہا ہے۔رہی بات ولی سے قبل اردو غزل کی ابتدا سے ولی تک کلاسکل اردو غزل کی روایت یا شعریات کی، تو یہ ملحوظ خاطر رہے کہ اس وقت تک ابھی کوئی خاص ایک روایت ایسی تیار نہیں ہوئی تھی جس کی غزل کے شعرا پیروی کرتے۔ لہٰذا یہ تصور غلط ہے کہ ولی سے قبل کوئی اردو غزل کی کلاسیکی روایت موجود تھی۔بلکہ اس وقت جس شاعر نے بھی غزل کہی خواہ وہ شاعر شمالی ہند کر رہا ہو یا دکنی شاعر، ہر کوئی اپنی مرضی، اپنی ہئیت کے مطابق غزل کہتا رہا ہے۔مجموعی طور پر تو ریختہ غزل پر فارسی کا اثر غالب رہا اور دکنی غزل گو شعرا کے یہاں ہندوستانی تہذیب اور روایت کا اثر زیادہ ملتا ہے۔ان رجحانات کا ذکر آگے آئے گا۔

شمالی ہند میں تو زیادہ تر ردیف و قافیہ اردو کا رہا اور دیگر الفاظ فارسی کے۔ اس زمانے کے ملا نوری کا ایک شعر قائم چاند پوری نے ”مخزن نکات“ میں درج کیا ہے؀

ہر کس کہ خیانت کند البتہ بترسد
بےچارا نوری نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے
﴿ملا نوری﴾

اسی طرح دیگر شعرا کے بھی شعر ملتے ہیں؀

خوار شدم زار شدم لٹ گیا
در رہ عشق تو کمر ٹُٹا ہے
﴿شیخ جمالی﴾

شاہ جہان کے دور تک شمالی ہند میں اردو نے اپنے ارتقا کی کئی منزلیں طے کر لی تھیں مگر اس دور میں بھی غزل کے نمونے مشکل سے دستیاب ہیں۔منشی ولی رام ولی کی ایک مسلسل غزل محمود شیرانی نے اپنی کتاب ”پنجاب میں اردو“ میں درج کی ہے۔ یعنی اب بھی غزل کی کوئی روایت تیار نہیں ہو سکی، انہوں نے مسلسل غزل تحریر کی۔اس زمانے میں چندربھان برہمن کا نام بھی غزل کے سلسلے میں اہم ہے۔ ان کی غزلوں سے محسوس ہونے لگتا ہے کہ زبان میں احساسات و جذبات کے اظہار کی قوت پیدا ہوچکی ہے۔ دور عالمگیر کے شیخ ناصر علی سرہندی کی چند غزلوں کا ذکر بھی ”پنجاب میں اردو“ میں محمود شیرانی نے کیا ہے۔ ان کی غزلوں کے رجحان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ناصر علی فارسی مضامین کو اردو کا جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں؛

شراب سرخ سے مے نوشی، اجل کردی فراموش
مرن کو دور بہت سمجھو عجب یہ ٹک بہانا ہے
﴿منشی ولی رحم ولی﴾
خدا نے کس شہر اندرہمن کو لائے ڈالا ہے
نہ دلبر ہے نہ ساقی ہے نہ شیشہ ہے نہ پیالہ ہے
﴿چندر بھان برہمن﴾

دکن میں غزل اور اس کی روایت اور رجحانات

اردو زبان و ادب کا وہ کارواں جو کبھی شمالی ہند سے روانہ ہوا تھا ملک کے دوسرے صوبوں سے ہوتا ہوا دکن پہنچا۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں اردو زبان و ادب کی قدیم روایت پھلی پھولی۔ گجرات اور دکن زمانۂ قدیم سے ہی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ جو بھی فاتح شمال کی طرف سے آتا پہلے گجرات میں داخل ہوتا پھر دکن کی طرف بڑھتا۔ علاؤالدین خلجی اور پھر محمد تغلق کی دکن میں آمد کی وجہ سے دونوں علاقوں کو ایک دوسرے سے قریب آنے کا موقع ملا اور معاشی، سیاسی اور معاشرتی ضروریات کے تحت یہاں اردو کو پھلنے پھولنے کے خوب مواقع میسر آئے۔

بہمنی دور﴿1350ء تا 1525ء﴾ میں اردو زبان نے کافی ترقی کی۔ دکنی غزل کے اولین نقوش ہمیں اس دور کے مشتاق بیدری اور لطفی کی غزلوں میں ملتے ہیں۔محی الدین زور اور نصیرالدین ہاشمی انہیں بہمنی دور کا شاعر تسلیم کرتے ہیں۔

صفا اس گال کوں دیکھت نظر سوچا گا گر پڑتی
مکھی کے پیر میں کاں طاقت سورج لک جا گزر آوے
﴿مشتاق بیدری﴾
شہ کے ملن کی ماتی ہر سانس جلن کو آتی
سب قد کھرا جلاتی پن آہ نین کتی ہوں
﴿لطفی﴾

ابراہیم قطب شاہ کو اردو ادب کی تاریخ میں اس وجہ سے اہمیت حاصل ہے کہ اس کے عہد میں گولکنڈہ کی سرزمین پر شعروادب کی شمع روشن ہوئی۔ فیروز بیدری، محمود اور خیالی اس دور کی پیداوار ہیں۔ ابراہیم قطب شاہ کے انتقال کے وقت گولکنڈہ علم و ہنر اور تہذیب و معاشرت کا اہم مرکز بن چکا تھا۔ابراہیم قلی کا فرزند سلطان محمد قلی قطب شاہ اس مرکز کا نمائندہ تھا اسے ایک مستحکم حکومت باپ سے ورثے میں ملی تھی۔ ایک لائق ایرانی مشیر نے اسے کاروبار سلطنت سے آزاد کرا دیا تھا۔ اسی لئے اسے عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کا بھرپور موقع ملا اور وہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر ہے، جس کا دیوان پچاس ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کی تمام منظومات﴿ رباعی اور مثنوی کے علاوہ﴾ کا رجحان غزل کی فارم میں ہے انہیں آسانی کے لیے ہم مسلسل غزل کہہ سکتے ہیں۔ یہاں تک غزلیہ شاعری پہنچنے کے بعد بھی غزل ابھی تشکیلی دور میں تھی۔ اس کا کوئی خاص رجحان یا روایت قائم نہیں ہوئی تھی لیکن قلی قطب شاہ تک جو غزل کی شعریات ابھر کر سامنے آئیں خواہ وہ ہئیت ہو یا موضوعات اور رجحانات وہ اس طرح سے ہیں:

  • ١- قلی قطب شاہ کی غزلوں میں سادگی، روانی اور برجستگی عام طور پر ملتی ہے ض۔ اس کے یہاں فکر کی گہرائی، سوزوگداز، دردوغم اور نشتریت وغیرہ کی تلاش ایک کار فضول ہے۔
  • ٢- ان کی غزلوں کی دوسری نمایاں خصوصیت حقیقت نگاری ہے۔
  • ٣- اس نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے وہ اس کے تجربات اور مشاہدات ہیں اور اس کے یہاں فارسی غزل کی تصور پرستی نہیں بلکہ قلی قطب شاہ ہندوستانی تہذیب کا ایک بڑا پرستار تھا۔ اتحاد اور رواداری کا بھرپور مظاہرہ اس کے کلام میں ہوتا ہے، ہندوستانی تہواروں اور رسم و رواج کو اس نے نہ صرف قومی تقریب کی حیثیت سے رائج کیا بلکہ اپنے کلام میں بھی اس کی عکاسی کی ہے۔ بسنت، نوروز اور آمد برسات سے اسے خاص شغف معلوم ہوتا ہے نمونۂ کلام ملاحظہ ہو؀
میری سانولی من کی پیاری دسے
کہ رنگ روپ میں کونلی ناری دسے
ہے جب سہیلیاں میں بالی عجب
سروقد ناری اوتاری دسے
ہمارا سجن خوش نظر باز ہے
تو اس دل میں سب عشق کا راز ہے

محمد قلی قطب شاہ کی غزلوں کو غزل کے اعلیٰ معیار سے پرکھنا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اول تو ابھی زبان ہی تشکیلی دور سے گزر رہی تھی، دوسرے ایسا کوئی نمونہ، روایت یا غزل کے کوئی اصول و ضوابط اس کے سامنے نہیں تھے جسے سامنے رکھ کر وہ غزل کہتا۔ پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اسے ہندوی غزلیں کہنی تھیں نہ کہ فارسی۔یہی وجہ ہے کہ اس کے یہاں حسن کا مادی پہلو ملتا ہے۔ سراپا نگاری یا عریاں نگاری بڑے فطری انداز میں کی گئی ہے۔

  • ٤- اس نے لیلی مجنوں، شریں فرہاد اور یوسف زلیخا کے ساتھ ساتھ مینکا اور اروشی وغیرہ کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس نے محبوب کے چہرہ کو کنول، رل کو بھونرا، آواز کو کوئل کی تان، خرام ناز کو کبھی سست ہاتھی اور کبھی ہنس کی چال، قد کو سرو، چوٹی کو ناگ، آنکھ کو بت خانہ اور آنکھ کی پتلی کو بت سے تشبیہ دی ہے۔ اس نے اپنے محبوب کو نھنی، سانولی، پیاری، کنولی، گوری، سکی، سہیل، دھن، سودھن، نار، ناری، سندری، لالا، لالن، پدمنی، رنگیلی وغیرہ ناموں سے یاد کیا ہے۔ اس کا محبوب انفرادیت رکھتا ہے۔ کلاسیکل اردو غزل یا فارسی غزل کا محبوب اس کی شاعری یا غزل میں نہیں ہے کیونکہ وہ ہندوستانی تہذیب کے مطابق محبوب کو مونث صیغوں اور لفظیات سے مخاطب کرتا ہے یا ان کا ذکر کرتا ہے۔ابھی تک کلاسیکل روایت تشکیل پذیر نہیں ہوئی تھی اسی لیے اس نے اپنے انیس محبوبوں کو مذکورہ بالا ناموں سے موسوم کیا ہے۔اور انیس پیاریوں کا ذکر کیا ہے لیکن ہر ایک محبوبہ کا انفرادی ہے۔ اس نے اردو اور فارسی کے عام مثالی محبوب سے ہٹ کر ایسے محبوب پیش کیے ہیں جو واقعی ہماری دنیا کے چلتے پھرتے کردار لگتے ہیں۔

محمد قلی قطب شاہ کے بعد عبد اللہ کے کلام میں خارجیت کے ساتھ ساتھ داخلیت کا بھی عمل دخل ملتا ہے۔وہ ماہر موسیقی تھا اس لیے اس نے اکثر غزلوں میں الفاظ کی ترتیب اور قافیوں کے انتخاب سے شعر میں ترنم اور جھنکار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اکثر اشعار میں اس نے چار یا اس سے بھی زیادہ قافیے استعمال کیے ہیں جو کہ کلاسیکل اردو غزل سے بالکل مختلف ہے۔ اس کا ایک شعر ملاحظہ ہو؀

چندر کلا تیرا گلا ہے نرملا اچکلا
سو منج بھلا کے مبتلا کیا گلا و نرملا

کلاسیکل اردو غزل کی شعریات سے قبل قطب شاہی دور کا ایک ملک الشعرا غواصی بھی ایک ممتاز غزل گو تھا۔ غواصی قدیم اردو شاعری میں ایک نئی طرز کا بانی ہے۔ اس نے اپنی غزل میں اخلاقی مضامین اور روحانی عناصر شامل کرکے اردو غزل کو وسعت بخشی۔ابتدائی غزل اور دکنی شعراء سے جو چیز غواصی کو الگ کرتی ہے وہ اس کا سوزوگداز، اثر آفرینی اور شعریت ہے۔ اس کے یہاں ایک طرح کی پاکیزگی اور بلندی کا احساس ہوتا ہے۔

عشق کی آگ میں جل کر راک ہونا
عشق بازی میں چاک چاک ہونا
اس سجن کے وصال کی خاطر
آرزو دل میں لاک لاک ہونا
دل کی دیوانگی نہیں جاتی
پھونکتا ہوں جتا دعایاں پڑھ

اس دور کے دوسرے غزل گو شعرا میں سالک، میراں جی، ابن نشاطی، طبی اور ابوالحسن تاناشاہ کے نام بھی آتے ہیں۔ اول تو ان شعرا کی ایک دو غزلیں ہی دستیاب ہیں دوسرے ان میں کوئی نئی بات نہیں۔

بیجاپور میں غزل کے اولین شاعروں میں حضرت برہان الدین جانم، شہباز حسین قادری اور خواجہ محمد دیدار فانی کے نام قابل ذکر ہیں
اس دور کا ایک اہم شاعر حسن شوقی ہے۔اس نے غزل کے جدید اسلوب کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ اس کی غزلوں میں جذبات عشق کی مختلف کیفیات اور محبوب کے حسن و جمال کی تعریف و افر مقدار میں ملتی ہیں۔ اس کی غزل خیال، اسلوب، لہجے اور طرز ادا میں فارسی کی پیروی کرتی ہے۔مگر ہندوی اثرات اور مقامی طرز معاشرت کے رجحانات سے اس نے پرہیز نہیں کیا۔ مثلاً دو شعر ملاحظہ ہوں؛

شوقی ہمارے عشق میں کہیں زاہداں مشرک ہوئے
اس مذہب کفار میں تیری مسلمانی کدر
شمع کے سوز میں سکھ نہیں ولے آرام ہے دن کو
گھٹی ہے عمر سب میری سو نس دن جانگدازی میں

شوقی کے یہاں غزل ترقی کرتی ہوئی اپنی زبان و خیال صاف کرتے ہوئے اس مقام تک آن پہنچی ہے کہ اس کی غزل میں غزل کی گھلاوٹ اور سوزوگداز آہستہ آہستہ شامل ہو جاتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ یہاں زاہد و ناصح پر طنز اور اپنی کافری پر فخر، شمع و پروانہ اور ہشیار و دیوانہ وغیرہ مضامین بھی ملنے لگے ہیں۔اس دور کے اہم غزل گو شعرا میں بیجاپور کا آٹھواں فرمانروا علی عادل شاہ ثانی ،نصرتی، ہاشمی، ایاغی، ملک خوشنود، شاہ سلطان، شاہ امین الدین اعلی، شاہ معظم، شاہ عالم ثانی وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔

اس دور تک غزل میں جدید رجحانات یہاں تک پہنچے کہ غزل فارسی اثرات کافی قبول کر چکی تھی۔غزل کی ہیئت میں ردیف کے ساتھ قافیہ بھی داخل ہوچکا تھا تاہم غزل نے ابھی مثنوی کے توضیحی طرز سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں حاصل کیا تھا۔ موضوعات کے لحاظ سے بھی غزل میں کافی رنگا رنگی ملنے لگی تھی۔ حسن و عشق کے افسانے، سراپانگاری، تصوف کے مسائل، اخلاقیات، زاہد و ناصح پر طنز، ریختی کے ذریعہ ماحول و معاشرت کی عکاسی، غرض کہ ہر طرح کے موضوعات غزل میں داخل ہوچکے تھے۔

جب اورنگزیب نے اورنگ آباد کو اپنا پایۂ تخت بنایا تو آس پاس کے کچھ شعراء اورنگ آباد منتقل ہو گئے باقی ادھر ادھر بکھر گئے۔ اس افراتفری کے باوجود شعر و ادب کا ارتقا پوری طرح رکا نہیں، رفتار کم ضرور ہوگئی۔ جن لوگوں نے اس دور میں دکن میں غزل کی شمع کو روشن رکھا ان میں فدوی، بحری، فراقی، اور داؤد وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ مگر اس دور میں دو نام ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف یہ کہ قدیم دکنی غزل کی روایت کو آگے بڑھایا بلکہ اس میں مستقبل کے امکانات پیدا کیے، وہ نام ہیں ولی اور سراج کے۔ یہ دونوں دکنی غزل کے آخری علمبردار بھی ہیں اور آنے والے دور کے لیے مشعل راہ بھی۔

اردو غزل کی روایت میں ولی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس کا اعتراف باقر آگاہ، میرحسن، قائم چاند پوری، میر تقی میر، محمد حسین آزاد اور مصحفی وغیرہ تذکرہ نگاروں نے کیا ہے۔ ولی کا دلی کا سفر﴿1700﴾ء جس میں ان کی ملاقات شاہ سعد اللہ گلشن سے ہوئی، اس لحاظ سے بڑا اہم واقعہ ہے کہ اس نے ولی کی شاعری کا رخ موڑ دیا۔ولی نے اول تو دکنی غزل کی پوری روایت کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا تھا اب شاہ سعد اللہ گلشن کے مشورے کے بعد فارسی روایت کے مطابق اپنی شاعری کو ڈھالنا شروع کیا۔ گویا ولی کا انفراد اور کمال یہ ہے کہ اس نے ایک روایت کو دوسری روایت سے جوڑ دیا۔ دو روایتوں کو جوڑنے کا یہ عمل دکن میں کافی دنوں سے چل رہا تھا مگر اب تک اس کی کوئی قطعی شکل، روایت یا کلاسیکی روایت مرتب نہیں ہو سکی تھی۔

ولی دکنی کا اجتہاد یہ ہے کہ اس نے فارسی اصناف وبحور اور اوزان کو ریختہ کے مزاج کے مطابق ڈھال دیا۔ فارسی الفاظ و تراکیب کے استعمال سے شاعری کی نئی زبان کا خمیر تیار کیا۔ خود بھی نئی ترکیبیں تراشیں۔ دکنی، شمالی اور فارسی زبانوں کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کیا جس سے زبان کا وہ روپ سامنے آیا جسے معیاری زبان کہہ سکتے ہیں۔

ولی دکنی کی قائم کی ہوئی روایت کلاسیکل اردو غزل کی بنیاد بنی۔ غزل نے بہت جلد اپنا اصل مزاج پا لیا اور اس نے ترقی کی منازل بہت جلد طے کر لیں۔ غزل میں تہہ داری، تخیل، ایجاز و اختصار اور استعاراتی نظام، رموز و علائم کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ قبل اس کے دکنی غزل میں ان عناصر کی کمی کا احساس شدت سے ہوتا ہے مگر جب فارسی روایت سے غزل نے اکتساب کرنا شروع کیا تو اسے یہ سب کچھ تیار شدہ مالی کی شکل میں مل گیا۔

ولی کے دور تک غزل کے موضوعات محدود تھے۔ تھوڑا بہت تنوع کا احساس محمود، فیروز اور حسن شوقی کی غزلوں میں ضرور ہوتا ہے۔ ولی نے غزل کے دائرہ کو کافی وسیع کر دیا اور اس میں زندگی کے مختلف تجربات و احساسات کو شامل کر کے اسے رنگارنگی عطا کی۔ خاص رجحان یہ ہوا کہ غزل داخلیت کی صفت سے آشنا ہوگئی۔ ولی نے دکنی روایت سے بھی بھرپور استفادہ کیا اور اس کے بہترین اجزاء کو اپنی غزل میں شامل کیا، ساتھ ہی نئے امکانات بھی ان میں پیدا کیے۔

ولی نے اپنے سے پہلے کے شاعروں کی زمینوں میں غزلیں کہیں اور ساتھ ہی فارسی کی ان زمینوں کو بھی اپنایا جو اردو کی مزاج کے مطابق تھیں۔ موضوعات کے لحاظ سے بھی دیکھیں تو ہمیں ولی کے یہاں وہ تمام موضوعات مل جائیں گے جو بعد میں اردو غزل کے مستقل موضوعات بننے۔ ولی کی تشکیل کردہ روایت جو کلاسیکل اردو غزل کا منشور بنی، اس کی خوبی یہ ہے کہ حسن و عشق پہلے بھی غزل کے خاص موضوعات تھے ولی کے یہاں بھی انہیں بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر ولی کا عشق سادہ اور پیروکار ہے۔ اس میں جنسی تشنگی اور بوالہوسی کی جگہ پاکیزگی اور ٹھہراؤ ہے۔ وہ حسن کی ایک ایک ادا سے واقف ہیں مگر اعضاء پر للچائی ہوئی نظر نہیں ڈالتے۔نمونہ کلام ملاحظہ ہو؛

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
عشق کی راہ کے مسافر کو
ہر قدم تجھ گلی میں منزل ہے
خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ سے غلام کرتے ہیں
دل لجاتے ہیں اے ولی تیرا
سرو قد جب خرام کرتے ہیں

کلاسیکی اردو غزل کی روایت سے قبل محمد قلی قطب شاہ، شاہی ، نصرتی اور ہاشمی وغیرہ کے لئے محبوب کا وجود محض رنگ رلیاں منانے اور اختلاط جسم کے لیے ہے۔ ولی کا محبوب ان سب سے نرالا ہے۔ ولی کے یہاں تصور محبوب میں ایک طرح کی پاکیزگی اور علویت کا احساس ہوتا ہے۔

آغوش میں آنے کی کہاں تاب ہے اس کو
کرتی ہے نگہہ جس قد نازک پہ گرانی
ولی اس گوہر کان حیا کی کیا کہوں خوبی
میرے پہلو میں یوں آوئے ہے جیوں سینے میں راز آوے
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رو سوں
سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ

ولی کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے انحطاط پذیر معاشرہ میں عیش پسندی کی عام روش کے خلاف عام سطح سے اوپر اٹھ کر سوچا اور زبان اور شاعری کے ذریعے اس کا اظہار کیا۔ خیال کی پاکیزگی اور زبان کی صفائی دو سمتوں میں بیک وقت کام کرنا معمولی درجے کے شاعروں کے بس کا روگ نہیں۔

ولی نے عشق مجازی کے ساتھ عشق حقیقی سے بھی اپنا رشتہ جوڑا۔ اس طرح اس کے کلام میں تصوف اور اس کی ساری علامات بھی سمٹ آئیں۔

در وادی حقیقت جس نے قدم رکھا ہے
اول قدم ہے اس کا عشق مجاز کرنا
عارفاں پر ہمیشہ روشن ہے
کہ فن عاشقی عجب فن ہے
دل کو گر مرتبہ ہے درپن کا
مفت ہے دیکھنا سرجن کا

ولی ایک عہد ساز شاعر تھا اس کے معاصرین اور بعد کی نسل نے اس سے بہت کچھ اکتساب کیا یا۔سراج اورنگ آبادی نے دعوی کیا ہے:

تجھ مثال اے سراج بعد ولی
کوئی صاحب سخن نہیں دیکھا

اردو غزل نے اپنا سفر شمال سے شروع کیا تھا۔ اس کا پہلا پڑاؤ سرزمین دکن تھا۔ دکن میں وہ خوب پھلی پھولی اور ایک بار پھر اس نے شمال کا رخ کیا۔ مگر اس دوران اس نے اپنے ارتقا کی کئی منزلیں طے کر لی تھیں۔ اس امر کا اعتراف کیا گیا ہے کہ دکنی شعر و ادب شمال کے لئے نمونہ بنا۔ محی الدین قادری زور نے لکھا ہے؛

” اس زمانے میں اگرچہ شمالی فوجیوں نے دکن کو فتح کر لیا تھا لیکن دکن کے شاعروں نے شمال کو فتح کر لیا اور اپنی زبان کا ڈنکا دلی کے مشاعروں اور محفلوں میں اس طرح بھجوایا کہ دکن کی بھی زبان وہاں کی محفلوں کی جان بن گئی“
’دکنی ادب کی تاریخ‘ محی الدین قادری زور﴿ دہلی 1958ء﴾

ولی کے دیوان کی آمد سے دلی میں جگہ جگہ شعروشاعری کےچرچےہونےلگے۔

Dr. Mohd Asif Malik
Assistant Professor, Baba Ghulam Shah Badshah University Rajouri (Jammu & Kashmir) 185131