ایک غزل۔۔محمد اسماعیل

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر

سجدوں میں تیرے کیا ہوا صدیاں گزر گئیں
دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر

ایمان تیرا لٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایمان تیرا بچا لے وہ رہبر تلاش کر

ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تلاش کر

کر دے سوار اونٹ پہ اپنے غلام کو
پیدل ہی خود چلے وہ آقا تلاش کر

Close