Advertisement

غزل ایجازو اختصار کا فن ہے/ یا تقاضا کرتی ہے/ پر اصرار کرتی ہے۔اس میں معنی آفرینی، مضمون آفرینی، اثر آفرینی اور معنی کی تکثیریت کے لیے رنگارنگ شعری وسائل اور حربوں کو برتا جاتا ہے، ان ہی شعری وسائل میں سے ایک کثیر المعانی وسیلہ تلمیح ہے۔تلیح اس شعری وسیلہ کو کہتے ہیں کہ کلام میں ایسا لفظ یا کلمہ بھرتا جائے جس سے کسی تاریخی واقعہ، تاریخی شخصیت، یا کسی مخصوص تہذیب و ثقافت کی طرف اشارہ ہو سکے۔ اس کا استعمال شاعر اپنے شعری پیمانے میں اس لیے کرتا ہے کہ ایک تاریخی شخصی یا ثقافتی و تہذیبی پس منظر ایک کلمے میں سمٹ آئے۔ کیوں کہ ایک تخلیق کار ایک محشر خیال رکھتا ہے لیکن زبان میں اتنے الفاظ نہیں ہیں جن میں وہ اپنے ان خیالات کو مکمل طور پر ادا کرسکے اور وضاحتی لفظیات میں کئی طرح کی پابندیوں کے سبب طالبِ مقصودہ کو پیش کرنے سے قاصر ہوتا ہے، جس کے سبب وہ اشاراتی، ابہامی اور تلمیحاتی ڈکشن کا سہارا لیتا ہے۔

اس پیرائے کو برتنے میں وہی تخلیق کار کامیاب ہو سکتا ہے جو تخلیقی عمل پر دسترس رکھتا ہو۔ چونکہ تلمیح کسی روایت، کسی تہذیب، کسی کردار کی آئینہ داری کرتے ہوئے دو مختلف عہدوں کی تہذیبی، فکری، عملی، تمدنی اور تاریخی حالات و کیفیات کے ڈانڈے ملاتی ہے اور موازناتی عمل سے گزرتے ہوئے مثبت یا منفی نتیجہ نکالتی ہے۔ اگر اس تلمیح کو ایک اچھا اور بڑا فنکار برتے تو وہ معانی کی تکثیریت اپنے تخلیقی عمل سے شعری سانچہ میں فن کاری سے پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح اس کا اظہار ابلاغ و ترسیل کی ندرت و جمالیات کے ساتھ اعجازی شان پیدا کر لیتا ہے۔ہاں اگر کسی اچھے یا بڑے فن کار کے تخیلی تخلیقی عمل سے یہ نہ گزرے تو اس تلمیحی حربے میں نہ وہ معنی کی وسعت، نہ حالات کی موازناتی صورت پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی وہ کیفیات میں ہیجان پیدا ہو سکتا ہے، تلمیح جس کی متقاضی ہے۔

بعض شعرا تلمیح برائے تلمیح کے عمل سے گزر جاتے ہیں وہ اس کے تخلیقی جمال سے محروم رہ جاتے ہیں، وہ اپنی شاعری میں تلمیحات کا ہجوم تو برپا کر لیتے ہیں لیکن تلمیح کی معنویت سے تہی دامن/ دامان رہ جاتے ہیں۔ اس طرح ان کی استعمال کی ہوئی تلمیحات اکہرے پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔

Advertisement

اگر کسی شاعر نے تلمیح کا استعمال تو کیا ہے لیکن دونوں عہدوں کے حالات و کیفیات کا موازنہ اس نے اپنی تخلیقی شعور میں نہ کیا تو اس کا معنی خیز نتیجہ نکلنا عنقا کے مصداق ہے۔ اسی طرح بعض شعرا کو شعروں کی تعداد بڑھانے کا بڑا شوق رہتا ہے جس کے سبب ان کا شعری اظہار خام شکل میں وجود پذیر ہوتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اظہار قاری یا سامع کو اپنے جذباتی اور شعوری گرفت میں لینے سے قاصر رہتا ہے۔

اس مقالے میں راقم کی یہ کوشش رہی ہے کہ شہباز راجوروی کے غزلیہ کلام میں تلمیحاتی شعور کا جائزہ لیا جائے تاکہ میں اس کے تہذیبی اور تلمیحی شعور تک پہنچ سکوں کہ ان کے شعور، تحت الشعور یا لاشعور میں کس تہذیب کی کارفرمائی رہی ہے۔ اس حوالے سے میرے مطالعہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں حضرت انسان کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے وہ مختلف پیرائے میں تعمیر آدم یا آدم گری کی بات کرتے ہیں۔ جہاں وہ جنت سے آدم کا سفر دنیا، ابراہیم/ و موسی رسول اللہ اور اسلامی اہم کرداروں کا عکس آج کے انسان میں دیکھنے کے متمنی ہیں، وہیں وہ علمی، فلسفی اور دانش کے گوناگوں رنگ بھی ذریت آدم میں پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں۔ان کے یہاں جہاں ایک طرف خدائے واحد کے سامنے سجدہ ریزی عاجزی اور ہیچ پن کی کیفیات کا احساس ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف سسکتی آہوں کے پردے میں (کہیں کہیں) اپنے خالق کی بارگاہ بے نیاز میں شکوے کے سر بھی اترتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی برتی ہوئی تلمیحات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کل اور آج کے سماج، کردار، تہذیب اور تاریخ کا شعری موازنہ کرنے پر مصر ہیں اور ان لفظیات کے بین السطور میں، اصلاح اور پیغام کا جذبہ رکھتے ہیں:
(١) واعظاں ، سدریٰ نشیں
لفظ ”اقراء“ بیچ کر
(لمس خوشبو، ص 104)

(٢) میسر کب ہوا تھا وصف ارنی
شکایت ’لن ترانی‘ کی ہو کیوں کر
(ایضاً، ص 111)

(٣) یہ دنیا ہے نہیں واد ’طویٰ‘ یہ
دکھاتی راستہ، غیبی ندائیں
(لمس خوشبو، ص 121)

لیکن ان کی بھرتی ہوئی تلمیحات بعض مقامات پر اکہرے پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ان میں دو عہدوں کے موازناتی عناصر پیدا نہیں ہوپاتے جس کے سبب وہ وسیع معنویت خلق نہیں ہو پاتی جس کا تلمیح تقاضہ کرتی ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ کہیں کہیں ان کی تلمیحاتی ہم آہنگی مشترکہ تہذیب کے عناصر کے سبب اپنی اور ایک خاص کیفیت کے ساتھ متوجہ کرتی ہے۔ مثلا:

پیا شنکر نے سارا زہر پھر بھی
لہو کتنا بلوتا ہے سمندر
(لمس خوشبو، ص 115)

شہباز راجوروی سیاسی اور سماجی گہرا شعور رکھتے تھے۔ سماج اور سیاست کے دائرے میں جو بے اعتدالیاں اس جہان میں وجود پذیر ہوئی ہیں، یا مظلوموں کی آہ و بکا ان کے کانوں سے ٹکرا کر اور ماتھے کی نگاہوں کے ذریعے دل تک اتری ہیں ان کو خاص طور پر شہباز راجوروی نے اپنے تلمیحاتی شعور میں شامل کرکے تخلیقی عمل کے ذریعے شعری سانچوں میں ڈھالا ہے۔ ان تلمیحات کی انفرادیت یہ ہے کہ ان کو انہوں نے جغرافیائی زاویوں میں تخلیق کیا ہے اور کہیں کہیں ظلم و جبر کو کسی خاص خطے کے حصار میں رکھا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مالک حقیقی سے معصومانہ شکوہ بھی کیا ہے۔ چند شعر ملاحظہ ہوں:

انتہا در انتہا سوچا گیا
حضرت انسان کو بھیجا گیا

کون کہتا ہے کہ جہلم ہے رواں
اس میں بچوں کا لہو بہتا گیا

دور تک باران خون
اور محشر سوچنا

پاسبانی گل رو خوں کی تھا سوال
ادھ کھلے غنچوں کو بھی نوچا گیا

اے خدا تیری زمین خون رنگ ہے
کتنے چنگیزوں کو ہے سونپا گیا
(لمس خوشبو، ص: ٩٥-٩٩)

اس کا ذکر ہوچکا ہے کہ شہباز راجوروی ایک طرف خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہیں تو دوسری طرف آدم کا جنت میں پیدا کیا جانا، وہاں سے عرض بیابان میں اتارا جانا، اس کا جہان فانی کی محنت و مشقت کو برداشت کرنا اور ایک اجنبی پرندہ کی شکل جہانِ بے سمت کی جانب دھکیل دینا، اس کے سبب ذریت آدم کا آوارہ ہو جانا، ان تمام مسائل پر فکر مند ہیں۔ وہ ان مسائل کو فلسفیانہ اور نہایت غم ناک، حیرت و استعجاب کی کیفیات سے پر تلمیحاتی اصطلاحوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی ذات میں آدم کے بے وطن ہونے اور آدم گری کا کرب رچا بسا ہے، یہ واقعات اور مسائل ان کے تلمیحاتی شعور کو منفرد بنا دیتے ہیں:

میری تخلیق میں شامل نہ تھا میں
جہاں بے سمت کہیں بھیجا پرندہ

یہ مشت خاک ہنگامہ دوعالم
عجب سودا سمایا ہے سروں میں

اداسی نوچ لیتی ہے تخیل
جہنم اور جنت کیا کروں میں

وہ سانسیں لمس خوشبو گفتگو میں
تجھے کیا جہان بے وفا ہے

سزاوارترحم ہوں میں شہبازؔ
دل مضطر میں جیسے کربلا ہے

دیکھ میرا حوصلہ
‘اھبطو‘ فرمان ہوں

ہو خلاؤں میں رواں
من علیھا فان ہوں
(لمس خوشبو ، ص: ٩٣،٩٤، ١٠١، ١١٩)

شہباز رجوی نے مذہبیات پر بھی خاص توجہ دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور تابعین کے زمانے کے بعد دین کی ظاہری رسومات میں خارج سے بہت ساری رسمیں در آئی ہیں، جس کے سبب دین کے ماننے والوں میں ضعیف الاعتقادی پیدا ہوگئی ہے۔ ان خواہشاتی رسوم کو ادبی تعبیرات و تلمیحات میں شہباز راجوروی نے نشان زد کیا ہے۔ انہوں نے اسلامی اور غیر اسلامی روایات کو ننھے سے شعری پیمانے میں یکجا کر کے دونوں کی خرابیوں، خامیوں اور اچھائیوں یا خوبیوں کو اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔ ایسے کے چند شعر ملاحظہ ہوں:

(١) روح نے پہنا میلا چولا
رند قلندر کو قرینہ

(٢) سنا ہے جامِ جم بھی رازداں تھا
بتائے کیا سجائے مقبروں میں

(٣) کیا ہے دلق اولیس بزم جسم
راستے ہیں شعور کے پر خم
(لمس خوشبو، ص: ٩٧، ١٠٠، ١١٨)

شہباز راجوروی مذہبی، سماجی، سیاسی، علمی اور ادبی گہرے شعور کے مالک رہے ہیں۔ اس لیے ان میں سے کسی میں بھی اگر وہ کوئی بے اعتدالی، خرابی یا کراہت دیکھتے ہیں تو وہ مضطرب ہو جاتے ہیں۔ ان کا کرب ذریت آدم کا اس جہان بے سمت میں آوارہ ہو جانا، سیاست کا ظلم و جبر کو روا رکھنا، سماج کا اپنی روایات کو پس پشت ڈال کر نئی نئی رسومات قائم کرنا ہے۔ اس روش کو وہ اپنے لیے زہرِ ہلاہل قرار دیتے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ وہ سقراط کی طرح زہرہلاہل پینا پسند نہیں کرتے بلکہ زہر ہلاہل کو تریاق میں بدلنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کا کرب حضرت انسان کی رسوائی اور بے اخلاقی کا کرب ہے۔ یہ کرب ان کی ذات کا کرب بن کر ان کی شاعری کی نسوں سے ابھال کھاتا ہے۔ ان کے اس کرب اور انسانی شعور پر مبنی چند تلمیحاتی اشعار ملاحظہ ہوں:

(١) میں سقراط نہیں ہوں شہباز
زہرہلاہل کیسے پینا

(٢) رات ہے سوئی ہوئی
چشم ہے شہباز تر

(٣) بات میں ہیں بجھے ہوئے نشتر
صورتیں خوش لباس لگتی ہیں

(٤) کون کہے وہ ہارا تھا
کوہ کنی بھی ایک ثمر ہے

(لمس خوشبو، ص: ٩٧، ١٠٣، ١١٠، ١١٣)

شہباز راجوروی نے نثر و نظم دونوں ہئیتوں میں بہت کچھ لکھ کر خطۂ پیر پنجاب کے ادبی ذخیرے میں شامل کیا ہے۔ وہ ادب پر کس قدر دسترس رکھتے تھے اس کا اظہار بھی انہوں نے اپنی شاعری میں جابجا کیا ہے، ادبی تلمیحات سے ان کے ادبی شعور سے پردہ اٹھتا ہے۔ انہوں نے جہاں غالب کو خراج عقیدت پیش کیا ہے وہیں جبرائیل کی نطقیت پر بھی ایمان لایا ہے۔ غالڈ اور جبرائیل کے درجے اور نطق کے بیان کے ساتھ ہی ساتھ اپنے نطق کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ یعنی ان کو یہ احساس تھا کہ وہ ایک معیاری ادیب و شاعر ہیں لیکن ان کی ادبی تلمیحات کہیں کہیں مکمل معنی و مفہوم کی ترسیل (ادائیگی) میں پیچیدگی اور ژولیدہ بیانی کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ لیکن مجموعی حیثیت سے وہ اس شعری حربے کے برتنے میں کسی حد تک کامیاب ہیں۔ درج ذیل اشعار میں ان وصفوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے:

(١) میں فقط ایک بلبلا بحر بیابان نظر
غالب امعان شناس اب کہاں ویسے گہر

(٢) حرف روی پر لکھ تو غزل
دیکھ یہاں ہیں اہل ہنر

(٣) کن فکاں، سایہ فگن جیسے ملا
جاودان ملتی روانی لفظ کو

(٤) سمندر، استعارہ اور تشبیہ
یہ کیا شہباز بوتا ہے سمندر

(٥) نطق جبرئیل بس کی بات نہیں
نامکمل کتاب رہنے دے
(لمس خوشبو، ص: ٩٦، ١٠٣، ١٠٦، ١١٥، ١١٦)

آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہباز راجوروی کی شاعری میں تلمیحاتی پیرائے میں سماجی، سیاسی، مذہبی، اصلاحی،علمی، ادبی اور مختصر یہ کہ آدم گری کا شعور سمٹ آیا ہے۔ اس بات کے کہنے میں مجھے کوئی تامل نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری اور بالخصوص غزل میں تلمیحاتی پیرائے میں مذکورہ بالا شعور کے مختلف رنگوں کو شعری قالب میں ڈھالنے کی کامیاب اور حسین سعی کی ہے۔

ڈاکٹر محمد آصف ملک22 جنوری 2022