ادب کا زندگی کے بغیر زندہ رہنا ناممکن سا ہے چوں کہ زندگی ادب کا سرچشمہ ہے۔ اگر کوئی ادب زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لے تو وہ زندگی کی برکتوں اور آفاقی قدروں سے محروم ہو جائے گا بل کہ وہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ اس لیے سماج ادب کے ساتھ غیر محسوس طور پر ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ادب زندگی سے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات قبول کرتا ہے۔ ادب کے مفکرین نے ادب کی تعریف یا مفہوم کو مختلف طریقوں سے پیش کیا ہے۔ کوئی کہتا ہے ”ادب زندگی کی ترجمانی کرتا ہے“ کوئی کہتا ہے صرف ترجمانی ہی نہیں بل کہ ”زندگی کی تنقید بھی کرتا ہے“ اور ”اس کی تفسیر پیش کرتا ہے“ چوں کہ انسان دنیا میں آ کر جو کچھ دیکھتا ہے، جو تجربے حاصل کرتا ہے، جو سوچتا سمجھتا ہے اس ردّ عمل کا اظہار ادب کے پیرائے میں کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ادب زندگی کے وسیع ترین مسائل کا احاطہ کر لیتا ہے۔ ایسے ہی بڑے فنکاروں میں ہمارا ایک عظیم فنکار میر تقی میر ہے جو اپنی شاعری میں وسیع ترین انسانی زندگی کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بل کہ وہ سماجی تنقید کی ذمہ داری کو بھی بخوبی سرانجام دیتا ہے۔ یہ خدائے سخن میر اپنی غزلیہ شاعری میں جہاں اپنے واردات قلبی کو بیان کرتا ہے وہیں آفاقی قدروں کو پیش کر کے بذریعہ معیاری قدروں کے بیان کے سطحی ذہنیت، ہوس پرستی، سستی شہرت اور غیر معیاری قدروں پر تنقید بھی کر دیتا ہے۔ غزلیہ فن پر اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ سپاٹ لفظوں اور کرخت لہجے میں سماجی تنقید کر سکے۔ اس لیے میر تقی میر نے اس کے لیے مثنوی اور شہر آشوب کا سہارا لیا ہے۔ جس کے ذریعے سماجی تنقید کی ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کی ہے۔
میر بچپن سے ہی مصائب میں گرفتار رہے، والد کی وفات کے بعد 11 سال کی عمر میں دہلی آگے لہذا سماج کو بڑے قریب سے دیکھا جو ان کے ساتھ سلوک کیا گیا، یا اہل ثروت اور صاحب عہدہ اور اختیار نے رعایا اور سماج کے ساتھ جو سطحی رویہ روا رکھا، وہ تمام مشاہدات، احساسات اور رویے میر کے یہاں گہرے تجربے کے طور پر موجود ہیں بل کہ ان کے لاشعور کا اہم جزو بن گئے۔ اس وقت کی دہلی اگرچہ مغلیہ سلطنت کی راجدانی تھی لیکن اورنگزیب کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کے چشم و چراغ عیش و عشرت اور ناعاقبت اندیشی کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کی کمزوریوں کے باعث غیر ملکی بادشاہوں کے حملے شروع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے دہلی کی مشکلات اور بڑھ گئیں تھیں اور سماج فاقہ کشی کا شکار ہو گیا۔ سماجی زندگی کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ اس کے اثرات میر تقی میر کے شعور پر اثر انداز ہونا فطری بات تھی۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق رقم دراز ہیں:
” اس وقت کی دلی تاریخ میں خاص حیثیت رکھتی ہے۔ وہ ہندوستان کی جان اور سلطنت مغلیہ کی راجدھانی تھی، مگر ہر طرف سے آفات کا نشانہ تھی، اس کی حالت اس عورت کی سی تھی جو بیوہ تو نہیں پر بیواؤں سے کہیں زیادہ دکھیاری ہے، اولو العزم تیمور اور بابر کی اولاد ان کے مشہور آفاق تخت پر بے جان تصویر کی طرح دھری تھی۔ اقبال جواب دے چکا تھا۔ ادبار و انحطاط کے سامان ہو چکے تھے اور سپاہ رو زوال گرد و پیش منڈلا رہا تھا۔ بادشاہ دست نگر اور امیر امراء مضمل و پریشان تھے۔ سب سے اول نادر شاہ کا حملہ ہوا، حملہ کیا تھا خدا کا قہر تھا۔ نادر کی بے پناہ تلوار اور اس کے سپاہیوں کی ہوس ناک غارت گری نے دلی کو نوچ گھسوٹ کر ویران کر دیا۔ ابھی یہ کچھ سنبھلنے ہی پائی تھی کہ چند سال بعد احمد شاہ درانی کی چڑھائی ہوئی، پھر مرہٹوں جاٹوں اور روہیلوں نے وہ ادھم مچائی کہ رہی سہی بات بھی جاتی رہی۔ غرض ہر طرف خودغرضی، خانہ جنگی، طوائف الملوکی اور ابتری کا منظر آتا تھا۔ یہ حالات میر صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور دیکھے ہی نہیں ان کے چرکے بھی سہے اور انقلابات کی بدولت ناکام شاعر کی قسمت کی طرح ٹھوکریں کھاتے پھرے۔ یہ دلی کے اقبال کی شام تھی جس کی سحر اب تک طلوع نہیں ہوئی۔“
(انتخاب کلام میر مقدمہ صفحہ 11)
ان خارجی واقعات کے اثرات داخلی اور ذہنی طور پر میر کی شخصیت پر اثر انداز ہوئے اور میر کے تجربے سے جذب ہو کر شاعری کی شکل میں حسین پیرائے میں ظاہر ہوئے ہیں۔ دراصل کسی بھی بڑے فنکار کے دل اور دماغ پر خارجی واقعات کے داخلی اور ذہنی اثرات پورے طور پر اس کی شخصیت اور اس کے تجربے سے جذب ہو کر زبان کی شکل میں پُرلطف پیرائے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس عمل میں فنکار اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر لیتا ہے اور اس ذہنی تجربے سے پورے طور پر گزرتا ہے۔ اس طرح جو تخلیق وجود پذیر ہوتی ہے وہ ادبی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
دراصل ایک ادیب یا شاعر سماج ہی کا ایک فرد ہے۔ اس رشتے سے اسے انسانوں کی زندگی، ان کے اعمال، ان کی محبت، نفرت، ان کی دولت، غربت، ان کا جبر، ان کی مجبوری، ان کی بلندی اور پستی غرض کہ ہر چیز سے ان کی دلچسپی ہے۔ چوں کہ انسان ہی سماج تشکیل کرتا ہے۔ اس کی ذات کے یہ تمام مظاہر سماج کی ہیئت، اس کی ترقی اور تنزلی سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسان مردوں، عورتوں اور بچوں سے محبت کرتا ہے۔ ان کے خیالات، ان کی جبلوں اور تعلقات سے دلچسپی لیتا ہے۔ اس لحاظ سے ایک ادیب و شاعر اب ایسے ادب کی بھی تخلیق کرتا ہے جس میں ان کی زندگی کا عکس نظر آتا ہے، جس سے ان کے تعلقات اور ان کی کشمکش کا اظہار ہوتا ہے۔ اس میں ان کی معیاری اور اعلی قدریں بھی جگہ پاتی ہیں اور ان کی سطحی اور رذیل عادتیں بھی سمٹ آتی ہیں۔ شاعر یا ادیب اعلیٰ قدروں کی خوبیوں اور خصوصیات یا ان کے وصف بیان کرتا ہے اور رزیل اور سطحی عادتوں کی برائی یا رس کے گھٹیا پن کو واضح کر دیتا ہے۔ اس طرح اس کی تخلیق میں اعلیٰ اخلاقی قدریں بھی سمٹ آتی ہیں اور سماجی برائیوں کی تنقید بھی واضح ہو جاتی ہے۔ فنکار کا دل صحیح معنوں میں جام جم ہے جس کے اندر اسے سب کچھ نظر آ سکتا ہے۔ ادب انسانیت کا دماغ اور اس کا ضمیر ہے۔ بقول آل احمد سرور ”ادب چوں کہ زندگی کی سچائیوں سے گریز کر ہی نہیں سکتا اس لیے غیر شعوری طور پر سماجی بے انصافیوں، اہل دول کی چیرہ دستیوں اور ایک عام انسان دوستی اور دنیا کی عظمت اور رنگ رنگی کو بھی اپنے نالہ و نغمہ میں محفوظ کر لیتا ہے۔“
میتھیو آرنلڈ نے شاعری کو ”زندگی کی تنقید“ کہا ہے تو میر تقی میر کے یہاں جہاں دیگر موضوعات پر شعر موجود ہیں یا واردات قلبی کی شاعری موجود ہے، وہیں سماجی تنقید پر مبنی بعض غزلیہ اشعار ہیں جن میں ابہامی، رمزیہ اور اشارات کے پیرائے میں سماجی تنقید ملتی ہے اور کہیں کہیں غزلیہ زمین میں قطعہ بند شعر بھی سماجی تنقید پر نظر آتے ہیں۔ لیکن سماجی تنقید کے لیے بضابطہ طور پر انہوں نے مثنوی اور شہر آشوب کو کام میں لایا ہے۔ ان میں انہوں نے اجتماعی، علامتی اور صاحب اقدار کی کم فہمیوں، کمزوریوں، نااہلیوں اور خرابیوں کو علامتی اور تمثیلی پیرائے میں ڈھال کر معاشرتی، سماجی اور اجتماعی تنقید کا سفر کیا ہے۔
غزلیہ شاعری میں میر کی سماجی تنقید ملاحظہ کیجئے:
| ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چل اب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا |
میر کے اس شعر میں دیکھیے کہ وہ کیسے اس رویے پر تنقید کرتے ہیں کہ انسانوں کو دھرم کے خانوں میں بانٹا جائے۔ اگر ایسا کرو گے تو قیامت تک شیخ و برہمن کی لڑائی اور فساد برپا رہے گا اور انسانیت کی آفاقی قدروں سے ہم محروم ہو جائیں گے اور وہی ہوا۔
سماج میں ایک برائی اور جنم لے لیتی ہے کہ معیار اور میرٹ سے منہ موڑ کر مخصوص جانبداری کے سبب نااہلوں کو صاحب ہنر اور اہل علم پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اس پر میر تقی میر نے تنقید کی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ:
| اب پست و بلند ایک ہے جو نقش قدم یاں پامال ہوا خوب تو ہموار ہوا میں |
| سرکسو سے فرد نہیں ہوتا حیف بندے ہوئے خدا نہ ہوئے |
| نے کعبے نے دیر کے قابل مذہب ان کا ہے سیر کے قابل |
میر اپنی ایک غزل میں دو اشعار قطعہ بند کے اس طرح شامل کرتے ہیں کہ اس میں سماج کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ جس تکبر و غرور پر آج آپ سوار ہیں یہ ختم ہو جائے گا۔ اج ہم جو دوسروں کو حقیر جانتے ہیں انسانوں کی قدر و قیمت نہیں سمجھتے وہ بھی کل خاک ہو جائیں گے۔
| کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آگیا یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھو کسی کا سر پُر غرور تھا |
یوں تو میر کی قریب چودہ پندرہ مثنویاں قابل ذکر ہیں جن میں سے دو مثنویاں ایسی ہیں جن میں انہوں نے اپنے گھر کی خرابی اور برسات کی شکایت لکھی ہے۔ برسات میں مصیبت کا حال دردناک ہے، یہاں میر نے اپنے گھر کا حال بیان کیا لیکن اپنے گھر کی حالت بیان کرنے کے ذریعے انہوں نے سماج کے ان غرباء افراد کے گھر کا نقشہ بھی کھینچا ہے جو اس موسم میں ان کے گھر کے نقش و نگار ابھر کر آتے ہیں۔ غرباء کے ان گھروں کی تصویر کشش سے اہل ثروت اور اہل اقتدار پر بہتر پیرائے اور ہنر مندی کے ساتھ تنقید کی ہے۔ ان کی ایک مثنوی جھوٹ کی مذمت میں بھی ہے جس میں انہوں نے سماج کی ایک بڑی برائی دروغ گوئی کی مذمت کی ہے۔ اس سے انہوں نے سماج کے جھوٹے افراد پر تنقید کی ہے۔ دو چند اشعار ان مثنویوں سے ملاحظہ کیجئے:
کیا لکھوں میر اپنے گھر کا حال اس خرابے میں میں ہوا پامال گھر کے تاریک و تیرہ زنداں ہے سخت دل تنگ یوسف جاں ہے چار دیواری سو جگہ خم تر تنک ہو تو سوکھتے ہیں ہم کیا تھمے مینھ سقف چھلنی تمام چھت سے آنکھیں لگی رہے ہیں مدام ایک حجرہ جو گھر میں ہے واثق سو شکستہ تراز دل عاشق (گھر کا حال) |
| اے جھوٹ آج شہر میںتیرا ہی دور ہے شیوہ یہی سبوں کا یہی سب کا طور ہے اے جھوٹ تو شعار ہوا ساری خلق کا کیا شہ کا کیا وزیر کا کیا اہل دلق کا اے جھوٹ تیرے شہر میں ہے تابعیں سبھی مر جائیں کیوں نہ کوئی وے سچ بولیں نے کبھی اے جھوٹ کب ہے عرصے میں تجھ سا حریف اب تیرے ہی حکم کش ہیں وضع واشریف اب (جھوٹ) |
اب اس مثنوی جھوٹ کے اشعار پر غور کیجئے کہ سماج کے جتنے اہم کردار ہیں، بادشاہ، وزیر، اہل دلق یعنی پرہیزگاری اور صوفی ہونے کا دعویٰ کرنے والے۔ وضعدار، شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے شریف، سب جھوٹ جیسی برائی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے سماج کی اس مہلک برائی پر تنقید کے لیے انہوں نے مثنوی کی ہیئت کو کام میں لایا ہے۔
میر کی سماجی تنقید کے واضح خد و خال ان کے شہر آشوب میں بھی ابھر کر آتے ہیں۔ شہر آشوب نظم میں حکومتی اداروں، آلات حرب اور ان سے منسلک افراد پر پرزور تنقید کی ہے۔ اس کے لئے انہوں نے گھوڑوں کی برائی اور ان کے دبلے پن کو تمثیلی پیرائے میں ڈھال کر معاشرتی، سماجی اور بالخصوص حکومتی طرز عمل پر نہایت ہنر مندی کے ساتھ تنقید کی ہے۔ اس سماجی تنقید کے لیے میر کے شہر آشوب کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر چند شعر میں یہاں پیش کر دیتا ہوں:
| زندگانی ہوئی ہے سب پہ وبال کنچڑے جھینکے ہیں روتے ہیں بقال پوچھ مت کچھ سپاہیوں کا حال ایک تلوار نیچے ہے یک ڈھال بادشاہ و وزیر سب قلاش پیسے والے جو تھے ہوئے ہیں فقیر تن سے ظاہر رگیں ہیں جیسے لکیر ہیں معذب غرض صغیر و کبیر مکھیاں سی گریں ہزاروں فقیر دیکھیں ٹکرا اگر برابر باش لعل خیمہ ہے جو سپہر اساس پالیں ہیں رنڈیوں کی سکے پاس ہے زنا و شراب بے سواس رعب کر لیجئے یہاں سے قباس قصہ کوتاہ رئیس ہے عیاش جتنے ہیں یہاں امیر بے دستور پھر بہ حسن سلوک سب مشہور پہونچنا ان تلک بہت ہے دور بات کہنے کا واں کسے مقدور حاصل ان سے نہ دل کو غیر خراش یک بیک گر کسو کی موت آئی اس کے مردے کی پھر ہے رسوائی کیوں کہ پہنچے ہیں جن کو امرائی سب وے اولاد حاتم طائی کون دے کر کفن اٹھاوے لاش |
اصل بات یہ کہ شاعر جس ملک کا باشندہ ہے اس ملک کی شاعری میں اس کے تمدن اور سماج کی روح سمٹ آتی ہے۔ جو سماج جس رنگ میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس کی جھلک شاعر کی شاعری میں آ جاتی ہے۔ میر تقی میر ایک سلجھا ہوا سماجی شعور بھی رکھتے تھے اور اعلیٰ ، معیاری اور آفاقی قدروں سے بھی واقف تھے، جب اس کے خلاف انہیں کچھ نظر آتا تھا تو اس کو شعری قالب میں ڈھال لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے زمانے کے سماج کی غیر اخلاقی صورتحال ہمیں ان کی شاعری میں نظر آرہی ہے اور انہوں نے اپنے شعری اور سماجی شعور کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی تخلیقات اور سماجی تنقید کی ذمہ داری کو بھی خوب نبھایا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ادب کا موضوع تمام انسانی اعمال و خیالات ہیں۔ اس طرح بڑا فنکار ادب میں انسانی زندگی کی غیر اخلاقانہ عادات پر تنقید بھی کرتا ہے، زندگی کی تفسیر بھی کرتا ہے اور انسانوں کی زندگی کے نفسیاتی اور سماجی رویوں پر کڑی نظر بھی رکھتا ہے۔ اس طرح میر تقی میر نے اپنی اس ذمہ داری کو ہنر مندی سے سرانجام دینے کی کوشش کی ہے۔