نثر کی تعریف:
نثر ایک ادبی شکل ہے جس میں خیالات، احساسات اور معلومات کو بغیر کسی مخصوص نظم یا قافیہ کے بیان کیا جاتا ہے۔ نثر جملے اور پیراگراف کی شکل میں لکھی جاتی ہے اور یہ عام طور پر گفتگو کی طرز میں ہوتی ہے۔ نثر کا مقصد قاری کو معلومات فراہم کرنا، کہانی سنانا، یا خیالات کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ نثر کی خوبصورتی اس کی سادگی اور وضاحت میں ہے، جو قاری کے لیے مواد کو سمجھنے اور محسوس کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ عام طور پر نثر کی مختلف اقسام ہیں۔
١۔ سادہ نثر:
سادہ نثر اس نثر کو کہتے ہیں جس میں رعایت و مناسبات وغیرہ نہ ہوں بلکہ عام فہم اور آسان الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو۔ فورٹ ولیم کالج کے رائٹر میر امن کی باغ و بہار سادہ نثر کی بہترین مثال ہے۔
٢۔ سلیس نثر:
لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے آسان نثر کو سلیس نثر کہتے ہیں۔ اس میں رعایت لفظی کا استعمال بھی نہیں ہوتا۔ خطوط غالب اسکی بہترین مثال ہے جن کو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ دو آدمی آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔
٣ مقفیٰ نثر:
ایسی نثر جس میں وزن تو نہ ہو لیکن قافیے کا اہتمام کیا گیا ہو۔ کسی زمانے میں اس کا رواج تھا بلکہ ایسا جنون تھا کہ میر امن کی سادہ نثر کے مقابلے میں رجب علی بیگ سرور نے “فسانہ عجائب” نامی مکمل کتاب لکھ دی جو مقفیٰ نثر کی بہترین مثال ہے۔
٤۔ مسجع نثر:
ایسی نثر کو کہتے ہیں جس کے دو جملوں کے تمام الفاظ ایک دوسرے کے ہم وزن ہوں اور آخر کے الفاظ بھی ہم قافیہ ہوں اور کبھی ردیف کا بھی استعمال کیا گیا ہو۔ مثال:
“پونڈا پھیکا اتنا برا کہ جس کی برائی بیان سے باہر ہے، پونڈا میٹھا ایسا بھلا کہ اس کی بنائی گمان سے بڑھ کر ہے۔” (دریائے لطافت، سید انشاء)
٥۔ رنگین نثر:
ایسی نثر کو کہتے ہیں جس میں صنائع لفظی و معنوی سے کام لیا گیا ہو۔
نثری ادب دو شاخوں میں تخلیق کیا جاتا ہے۔(حدود)
1. افسانوی نثر یا افسانوی ادب (Fiction):
افسانوی ادب میں تخلیقی کہانیاں شامل ہوتی ہیں جو مکمل طور پر مصنف کے تخیل پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہ کہانیاں حقیقی زندگی کے واقعات سے متاثر ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں کردار، مقامات اور حالات عموماً خیالی ہوتے ہیں۔ افسانوی ادب کی مثالوں میں داستان ، ناول، افسانے، کہانیاں، اور ڈرامے شامل ہیں۔
2. غیر افسانوی نثر یا غیر افسانوی ادب (Non-Fiction):
غیر افسانوی ادب میں حقائق، معلومات اور حقیقی واقعات پر مبنی مواد شامل ہوتا ہے۔ یہ ادب معلوماتی، تعلیمی، یا سچائی پر مبنی ہوتا ہے اور اس کا مقصد قاری کو صحیح معلومات فراہم کرنا یا کسی خاص موضوع پر روشنی ڈالنا ہوتا ہے۔ غیر افسانوی ادب میں سوانح عمریاں، مضامین، انشائیے ، خطوط، تحقیقاتی مقالے، سفر نامے اور تاریخ کی کتابیں وغیرہ شامل ہیں۔
افسانوی ادب اور غیر افسانوی ادب میں بنیادی فرق ان کے موضوعات اور پیشکش کے طریقے میں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ افسانوی ادب تخیلاتی کہانیوں پر مبنی ہوتا ہے جبکہ غیر افسانوی ادب حقائق اور حقیقی معلومات پر مشتمل ہوتا ہے۔