اطہر پرویز 1922ء کوالہ آباد سیلو ہارہ ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ اُن کی ابتدائی تعلیم پہلے مدرسہ میں ہوئی جہاں اُردو کے ساتھ ساتھ قرآن شریف، گلستان اور بوستان پڑھی۔ الہ آباد میں کرسچین کالج سے ایف اے پاس کرنے کے بعد 1941ء میں علی گڑھ آئے۔ یہاں سے 1945ء میں فارسی میں ایم ۔ اے پاس کیا۔
یونیورسٹی چھوڑتے ہی سیاسی زندگی اختیار کی اور صوبہ متوسط میں کئی سال قیام رہا۔ 1950ء تک کل وقتی سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران جیل کی زندگی بھی گزاری اور زندگی کو بہت قریب سے دیکھا۔
1950ء میں دہلی آگئے اور جامعہ کے بچوں کے رسالے ” پیام تعلیم“ کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1956ء میں وہاں سے مستعفی ہو کر علی گڑھ آگئے۔ 1958ء میں اُردو میں ایم۔ اے کیا اور ۱۹۵۹ء میں جنرل ایجو کیشن میں لیکچرر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 10 / مارچ 1984ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئے۔
اطہر پرویز نے بچوں اور کم پڑھے لکھے بالغوں کے لیے متعدد کتابیں لکھیں۔ جن میں سے آٹھ کتابوں پر حکومت ہند نے انعامات دیے ہیں۔ بڑوں کے لیے ادب سے متعلق ایک کتاب ”ادب کا مطالعہ“ پر حکومت اتر پردیش سے انعام ملا اور یہ کتاب مختلف درسگاہوں میں نصاب کے طور پر رائج ہے۔ انھوں نے تقریباً دو درجن کتا بیں لکھی ہیں۔
اطہر پرویز کو ڈراموں سے خاص طور پر دلچسپی تھی۔ متعدد ڈرامے لکھے جو وقتاً فوقتاً اسٹیج ہوتے رہتے ہیں۔ فسانہ عجائب کو بھی ترتیب دیا ہے۔ بلا شک اطہر پرویز اُردو کے ایک بلند پایہ ادیب ہیں اور ان کی خدمات کو اردو ادب میں ہمیشہ سراہا جائے گا۔