بھٹہ خشت کے ماحول پر اثرات

صفدر چکوال میں موجود بھٹہ خشت پر اینٹیں بناتا ہے اس سے پہلے اس کے والد اور بزرگ یہی کام کرتے ہیں۔اشرف کی آنکھوں میں بہت سے خواب تھے وہ اپنے بچوں تعلیم اور اہلخانہ کو اچھی زندگی فراہم کرنا چاہتا ہیں مگر بھٹہ خشت سے ملنے والے انتہائی کم مزدوری سے اس کے خواب پورے نہیں ہو پاتے۔
روٹی بندہ کھا جاندی اے

اینٹوں کا استعمال آج 2024 میں بھی جاری و ساری ہے۔پنجاب اور سندھ کے اکثر و بیشتر علاقوں میں بھٹہ خشت قائم ہیں۔اور اکثر و بیشتر ان کی چمنیوں سے نکلتا ہوا دھواں وہاں کام کرتے مزدور نظر آتے ہیں۔کئ بھٹہ خشت راولپنڈی و اسلام آباد میں بھی موجود ہیں۔ضلع چکوال کی بات کریں تو ضلع ترقی کے مراحل طے کر رہا ہیں۔کئی جدید ہاؤسنگ سوسائٹیز اور کثیر تعداد میں تعمیرات کے لئے اینٹوں کا استعمال کیا جا رہا ہیں۔چکوال میں جبیر پور،سومنی،تترال،شاہ ملتانی اور گرد و نواح میں بھٹہ خشت موجود ہیں جو عین آبادی کے درمیان محلوں میں آ چکے ہیں۔ہم نے کبھی بھٹہ خشت کے ماحول پر اور انسانی ذندگیوں پر اثرات کے بابت جاننے کی کوشش نہیں کی۔اور ان ہی بھٹہ خشت پر کام کرتے مزدوروں کی حالت زار کے متعلق سوچا،۔

مزید حقائق جاننے کے لئے میں نے چکوال کے مختلف بھٹوں کا وزٹ کیا۔ویڈیوز تصاویر اور انٹرویوز لئے۔اور فزیکلی ذمین اور ماحول پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔جب حقیقتوں سے آشکار ہوا تو حقائق مزید تلخ ہو گئے۔دنیا اس وقت climate change اور گلوبل وارمنگ کا شکار ہیں۔پاکستان میں آنے والی بے موسمی بارش فوگ سیلاب سب اسکی وجہ سے ہیں۔بھٹہ خشت نے اینٹوں کے لئے زرعی ذمینوں کو ہموار کیا جس سے زمین کا زرخیز پن ختم ہو گیا۔

جس وقت بانجھ ہو کر رہ گیا دھرتی کا سارا بدن
اس وقت ہمارے نام یہ جاگیر سونپی گئی

اور اینٹوں کے لئے مٹی کا حصول ذمین میں گہرے کھود کر اور کٹاؤ کر کے کیا گیا جو تقریبا 6,7 فٹ گہرے گڑھے ہیں یہ سب ضلعی بلدیاتی اداروں محکمہ ماحولیات کی آشیر باد سے ہوا بعدازاں چکوال چونکہ بارانی علاقہ ہیں شدید بارشوں سے وہ گہرے پانی کے تالاب بن گئے اور نکاسی نہ ہونے کے سبب وہ جوہڑ میں تبدیل ہو گئے جس سے زیرزمین پانی کے ذخیرہ کو شدید نقصان پہنچا انوار آباد موسی نگر جہانگیر ٹاون اور بھٹہ خشت کے نزدیکی علاقوں میں پانی پینے کے قابل نہیں رہا،رہی سہی کسر بھٹہ خشت مالکان نے پانی کے بڑے بور کروا کے پوری کر دی۔
“اپنا جب ہو بنتا بھاڑ میں جاۓ جنتا”

اس کے علاوہ اینٹوں کی پکوائی کے لئے ٹائر پلاسٹک لکڑی اور دیگر میٹریل جلاۓ جاتے ہیں جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔اور اس کے دھویں گرد و غبار سے نزدیکی علاقوں میں مقیم افرادکو ڈسٹ الرجی،سانس کی بیماریاں،دمہ و دیگر مسائل کا سامنا ہیں۔اور اس سے نکلنے والی سرخی جابجا بکھیر دی جاتی ہیں جو سیم اور دیگر زمینی عوارض کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں پر لوڈنگ کے لئے گدھوں اور خچر استعمال کئے جاتے ہیں۔ان بے زبان جانوروں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں کئ جانور شدید گرمی مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور کئی جانور زیادہ وزن لادنے کی وجہ سے معزور ہو جاتے ہیں۔

گھوڑے خچر اور گدھوں کے جسم پر ان کے مالکان کی جانب سے تشدد کے جا بجا نشانات تھے۔بھٹہ خشت کے ٹرک اور ہیوی مشینری کی وجہ سے متعلقہ علاقوں کی سڑکوں کا برا حال ہیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ماحول پر اس کے اثرات اس کے علاوہ ہیں۔بھٹہ خشت سے منسلک محنت کش مزدور مرد و خواتین غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس مشقت میں جکڑے اور پابند ہیں۔گرد و غبار سے اٹےچہرے خشک ہونٹ لاغر بدن شدید گرمی میں جھلستے جسم ہاتھوں پر پڑے چھالوں اور بوسیدہ کپڑوں میں یہ مزدور حالات کی ستم ضریفی بیان کرتے ہیں۔
“ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات”

محنت کشوں سے انٹرویوز اور بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ اکثر و بیشتر مزدوروں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہیں کیونکہ وہاں روزگار کے وسائل نہیں اور نہ ہی حکومت نے کبھی سنجیدہ کوشش کی یہ افراد اپنی فیمیلز کے ہمراہ علی پور،بہاولپور،رحیم یار خان اور گرد و نواح سے تعلق رکھتے ہیں اور بھٹہ خشت پہ مزدوری کے لئے آتے ہیں۔انکی غربت اور مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کو پیشگی قرض یا بانڈڈ قرضہ دیا جاتا ہیں۔جس میں یہ لوگ نسل در نسل جکڑے رہتے ہیں۔حکومت پنجاب کی جانب سے بانڈڈ قرضہ پر پابندی ہیں اور اس پر جرمانہ اور سزائیں ہیں مگر کاغذوں کی حد تک۔یہ قرضہ ایک فرد لیتا اور اسکی نسلیں بیگار کرتے کرتے تھک جاتی ہیں مگر بھٹہ خشت کے مالکاں کو ادائیگی نہیں کر پاتے۔

ایک ہزار اینٹ کی مزدوری 1150 روپے ہیں وہ بھی ٹھکیدار کے ذریعے جمعرات کے جمعرات ادا کی جاتی ہیں کبھی پوری کبھی آدھی۔ شریفاں جس کی عمر 28 سال ہیں اور اس کا تعلق بہاولپور سے ہیں اور وہ بھٹہ خشت پر مزدوری کرتی ہیں۔ اسے حقوق نسواں سے کوئی غرض نہیں کیونکہ اسے آج تک حقوق ملیں ہی نہیں اسے وقت پر اپنی مزدوری چاہئے وہ اپنے بچوں اور اہلخانہ کا پیٹ پالنے کے لئے بھٹہ خشت کی سخت مزدوری کر رہی ہیں۔
اس کا شکوہ تھا کہ اسے کوئی حکومتی امداد بنظیر انکم سپورٹ بیت المال محکمہ لیبر یا این جی او کی جانب سے کسی قسم مالی معاونت نہیں ملی۔

عورتوں کے حقوق کی بات زور و شور سے کیجاتی ہیں مگر بھٹ خشت پر موجود خواتین کے حقوق نظر انداز ہیں۔صنف نازک کہلانے والی عورت بھٹہ خشت پر مٹی گونڈھتے اینٹیں تھپتے نظر آتی ہیں۔بھٹہ خشت کی جھلسا دینے والی تپش تپتی دھوپ میں یہ خواتین کام کرتی ہیں۔اور مٹی سے اینٹیں بناتی ہیں،ان کے چہروں پر گرد و غبار کی ایک دبیز تہہ جمی ہوتی ہے۔ان خواتین کا کہنا تھا کہ وہ 12 گھنٹے اور ہفتے کے سات دن کام کرتی ہیں مگر اجرت پوری نہیں ملتی مجبورا بچوں کو بھی ساتھ کام پہ لگانا پڑتا ہے بھٹہ خشت کے مالکان ہمیں انسان نہیں مشین سمجھتے ہیں۔

اعداد و شمار کیمابق بھٹہ خشت کی ورک فورس کا 60% خواتین پر مشتمل ہیں۔ مگر ان کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم اجرت نہیں دی جاتی۔ خواتین کو بھٹہ خشت پر صحت کے سنگین مسائل کا سامنا ہیں۔

ہزاروں مردوں کے بیچ یہ خواتین پیٹ کی بھوک اور اپنے اہلخانہ کی خاطر جہد مسلسل کر رہی ہیں۔صحت کی سہولیات پیٹ بھر کر معیاری کھانا و دیگر بنیادی حقوق انہیں میسر نہیں۔

یہ خواتین بھی ہماری ماییں بہنیں بیٹیاں ہیں ہمارے گھر بھٹہ خشت کی خواتین آتی اور نلکے سے پانی بھرتی ان پردیسی خواتین کی میری والدہ اور نانی اماں سے دوستی ہو گئی اور انکی جانب سے دی گئ ہاتھ کی بنی چوکیر اور ٹوکریاں آج بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ان کے فن اور ہنر کی کوئی قدر نہیں کی جاتی اور نہ ہی کوئی ادارہ انہیں اس مشقت سے نکال کر کسی اور سہل کام کی جانب مبزول کراتا ہے۔

ان خواتین کے دل میں یہی خواہش اور حسرت ہوتی کہ ان کے بچے بھی سکول جاۓ تعلیم حاصل کریں اور بڑے آدمی بنیں مگر یہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ کیونکہ ان کے لئے ریاست ماں کے جیسے نہیں ہیں۔جن معصوم بچوں کے ہاتھ میں کاپی پینسل ہونا چاہئے تھا انکے ہاتھ میں کدال اور بیلچا ہیں۔اور حکومت اور اداروں نے ایسا کوئی میکنزم نہیں مرتب کیا کہ ام بچوں کو تعلیم و تربیت دی جا سکیں۔

بچوں کی مشقت کی روک تھام کے لئے قانون مجریہ 2016 ,پنجاب ڈومیسٹک ایکٹ 2019 اور سیکشن 328 اے پاکستان پینل کوڈ موجود ہیں مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہیں۔ 2019 کے چائلڈ لیبر سروے کے مطابق صوبہ بھر میں 13.4 فیصد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔جس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھٹہ خشت پر موجود بچوں کی کثیر تعداد مختلف سانس کی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

چکوال میں موجود بھٹہ خشت براہ راست دو ضلعی محکموں سے منسلک ہیں ایک محکمہ ماحولیات چکوال اور دوسرا محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ چکوال،پنجاب شفافیت اور معلومات تک رسائی کا قانون 2013 کے ذریعے میری جانب سے بھٹہ خشت کے متعلق معلومات کے حصول کے لیے درخواست جمع کروائی گیی۔
یونیورسل ڈیکلئریشن آف ہیومن رائٹس 1948 اقوام متحدہ کی شق نمبر 23 مزدوروں کے حقوق کے لیے موجود ہیں۔

محکمہ لیبر چکوال کے ذمے چائلڈ لیبر کی انسپکشن،اور کم از کم اجرت Punjab Minimum Wages Act 2019 پر عملدرآمد ہیں مگر حاصل کردہ معلومات سے انکشاف ہوا کہ یہ سب امور کی انجام دہی لیبر ڈیپارٹمنٹ چکوال کے ذریعے تقریبا ناممکن ہیں کیونکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ چکوال کے پاس صرف ایک اسٹنٹ ڈایریکٹر اور چوکیدار موجود ہیں۔جبکہ دیگر تمام آسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں۔یہ تمام معلومات باضابطہ طور پر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پنجاب کے ذریعے حاصل کی گی۔

اس سے برا اور ابتر حال محکمہ ماحولیات چکوال کا ہیں۔سات آٹھ دفعہ محکمہ ماحولیات چکوال گیا مگر دفتر میں عملہ موجود نہیں تھا اور جو عملہ موجود تھا ان کے پاس معلومات نہیں تھی یا وہ دینا نہیں چاہتے،بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور آج بھی محکوم و مجبور ہیں،اور حکومتی مراعات اور قوانین سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ پنجاب میں بھٹہ خشت اور بھٹہ مزدوری کو صعنت کا درجہ حاصل نہیں۔جس کی وجہ سے وہ EOBI,PESSI,کی رجسٹریشن حاصل نہیں کر سکتے.

“غریب دا حق مار کے بن گئے لوگ امیر
میں انوں کہندا انیاۓ لوکی کہن تقدیر”
تحریر:حیدر علی