دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا
سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط
الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا

Advertisement

اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائےدوست
زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا

دیکھی ہیں ایسی انکی بہت مہربانیاں
اب ہم سے منھ موت کے جایا نہ جائے گا

Advertisement
الطاف حسین حالی۔ ایک غزل 1

مے تند، ظرف حوصلہ، اہل بزم تنگ
ساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا

راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر
دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا

کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات گئے
پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ
ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالی پڑیں بس آپ
قصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا