چراغ حسن حسرت کے حالات زندگی

چراغ حسن حسرت (شیخ محمد اسماعیل پانی پتی)

بلند بالا بھرا بھرا جسم ، گندمی رنگ گھنگھریالے بال، گھنی مونچھیں۔ چہرے پر احساسات کا سراغ نہ ملتا تھا۔ سنجیدگی غم کی پردہ دار بن جاتی تھی اور خوشی مونچھوں ہی مونچھوں میں غائب ہو جاتی تھی۔ غصہ کبھی آتا ہی نہ تھا اور آتا تو ہوا کے جھونکے کی طرح سن سے نکل جاتا۔ چشمہ لگاتے تھے جس کے نیچے عمیق ، رقیق اور شفیق آنکھیں چہکتی تھیں۔ سگرٹ انگلیوں کا جزو لا ینفک تھا۔ جس کے بغیر حسرت کے دائیں ہاتھ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ قہقہہ نہیں لگاتے تھے صرف ہلکا سا ”چہچہا“ لگاتے تھے۔ آواز مردانہ اور گرجدار ، بولنے میں الف کو لمبا کر دیتے تھے۔ سالک صاحب ان کی زبان پر آکر ”سالک صاحب“ بن جاتے۔ یہ تھے ہمارے دوست اور ہم قلم ”ادیب طناز حسرت۔“ (سالک)

تمہید:

جون ۵۵ء کا مہینہ علم وادب کے حق میں بڑا منحوس ثابت ہوا۔ جس میں سب سے اول فن خوش نویسی کے ماہر کامل خطاط منشی تاج الدین زرین رقم سے ہمیں ہمیشہ کے لئے جدا ہونا پڑا۔ دوسرا دھکا ہمیں مولا بخش صاحب کشتہ امرتسری کی وفات سے لگا جو پنجابی زبان کے بہترین شاعر تھے۔ تیسرا صدمہ ہمیں مشہور فسانہ نگار ڈاکٹر اعظم کریوی کے پر ملال انتقال سے پہنچا جنہیں بعض ڈاکوؤں نے رات کے وقت لوٹنے کے بعد مار ڈالا۔ چوتھا حادثہ مولانا چراغ حسن حسرت کی وفات کی صورت میں واقع ہوا اور پانچوں واقعہ مخدوم محمد یوسف صاحب ایڈیٹر روز نامہ مخبرحیدر آباد سندھ کے المناک قتل کا پیش آیا۔ جنہیں کسی ظالم نے بڑی بے دردی سے ان کے بستر پر ذبح کر دیا۔

یہ پانچوں حادثے اپنی اپنی جگہ نہایت الم انگیز ہیں۔ مگر علمی وادبی نقصان کے لحاظ سے شاید مولانا چراغ حسن حسرت کا واقعہ سب سے زیادہ قابلِ افسوس ہے کیونکہ مرحوم میں قدرت نے بہت سی ادبی اور علمی خصوصیتیں کوٹ کوٹ کر بھر دی تھیں۔ وہ ایک نہایت قابل مصنف ، اعلیٰ درجہ کے شاعر، صاحبِ طرز مزاح نویس، بلند پایہ صحافی اور زبان اردو کے مستند ادیب تھے۔ اپنی ذات میں وہ ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے جو لائق اور فاضل اصحاب پر مشتمل ہو۔ وسعت معلومات کے لحاظ سے ان کا دماغ ایک انسائیکلو پیڈیا تھا۔ وہ فنون لطیفہ میں مصوری اور موسیقی کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف تھے۔ مذاہب عالم کی نہایت اچھی واقفیت رکھتے تھے۔ تاریخ اسلام کے متعلق سینکڑوں واقعات ان کو ازبر تھے ۔ ملکی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ محفل میں جس مسئلہ پر بھی بحث چل پڑتی اس میں بے تکان گفتگو کر سکتے تھے اور حاضرین ان کی وسیع واقعیت سے حیران رہ جاتے تھے۔ ان کے انتقال سے فضائے ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے امید نہیں کہ آئندہ عرصہ دراز تک وہ پُر ہو۔ کیونکہ قوم میں قحط الرجال اس قدر شدید ہے کہ جو گیا اس کا قائم مقام آیا نہ پھر۔

پیدائش اور خاندان:

پاکستان کا یہ مایہ ناز ادیب اور اردو کا یہ قابلِ رشک انشاء پرداز ریاست کشمیر کے ایک بہت معمولی سے گاؤں بمیار میں پیدا ہوا۔ یہ گاؤں جاگیر کٹھائی میں بارہ مولا سے چند میل مغرب کی طرف دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے ( بعضوں نے مقام ولادت چکوئی بعض نے پلندری لکھا ہے ) باپ کا نام لالہ کشمیر چند اور دادا کا نام فقیر چند تھا۔ فقیر چند برضاور غبت ہندومت سے نکل کر اسلام کی آغوش میں آگئے تھے اور مسلمان ہو جانے کی سزا میں اپنی تمام آبائی اور جدی جائیداد سے محروم ہو چکے تھے۔ کیونکہ ریاست کا قانون یہی تھا کہ جو شخص ہندو سے مسلمان ہو جائے وہ جدی جائیداد سے فائدہ اُٹھانے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ مگر اس نیک دل اور نیک سیرت انسان کو اسلام میں ایسی خوبیاں نظر آئیں جن پر اس مردِ خدا نے خوشی خوشی اپنی جائیداد قربان کر دی۔ باپ کے ساتھ ہی نوجوان اور سعادت مند بیٹا بھی اپنی خوشی سے مسلمان ہو گیا تھا۔ مسلمان ہونے کے بعد ان کا نام بدرالدین رکھا گیا۔ یہی بدرالدین ہمارے حسرت کے والد ہیں۔ ان کی گوت کپور کھتری تھی۔

بیٹے کے پیدا ہونے پر باپ نے مولود کا نام ”چراغ حسن“ رکھا جو تاریخی نام ہے اور جس کے عدد ۱۳۲۲ ہوتے ہیں۔ عیسویں ۱۹۰۴ء تھا جب کہ حسرت نے کتم عدم سے عالم شہود میں قدم رکھا۔ جن لوگوں نے سال ولادت ۱۹۰۱ء لکھا ہے انہوں نے غلطی کی ہے کیونکہ چراغ حسن تاریخی نام جس کے عدد ۱۳۲۲ھ ہوتے ہیں، اس سن کے مطابق عیسوی سن ۱۹۰۴ ء ہوتا ہے۔

تعلیم و تربیت:

بچپن ہی سے انہیں نانا نے گود لے لیا تھا جن کا نام منشی حسن علی تھا۔ یہ نواب کٹھائی کے ہاں ملازم تھے مگر نواب کے انتقال کے بعد پونچھ آ گئے تھے۔ انہی کے دامنِ شفقت میں ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت ہوئی۔ پڑھنے کے قابل عمر ہوئی تو اس وقت کے رواج کے مطابق ابتدائی تعلیم فارسی سے شروع ہوئی (ریاست کے ہندو مسلمان سب کا ذریعہ تعلیم اس وقت فارسی ہی تھا)۔ پہلے پڑھانے کے لیے مدرسہ میں بٹھا دیئے گئے۔ انگریزی تعلیم کی ابتدا حسرت نے ریاست پونچھ میں کی۔ جہاں ان کے نانا ریاست کے ملازم تھے۔ حسرت کے نانا ایک اچھے ادیب اور خوشگو شاعر تھے۔ حسن تخلص کرتے تھے۔ انہوں نے ہونہار کی تعلیم و تربیت میں پوری کوشش کی۔ حسرت میں شعر کا ذوق صحیح اور ادب سے گہرا تعلق دراصل نانا ہی کی صحبت سے پیدا ہوا۔ باقی فن شعر میں حسرت نے کسی اُستاد سے کچھ نہیں سیکھا۔ نہ کسی کی شاگردی اختیار کی۔

حسرت کی عمر پندرہ برس کی تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا جس کے بعد پرورش اور تعلیم کی تمام تر ذمہ داری نانا کے سر پر پڑ گئی۔ یہ تین بھائی تھے۔ بڑے حسرت تھے، منجھلے سراج الحسن جو پونچھ سے اخبار ”صادق“ نکالتے تھے۔ چھوٹے ضیا الحسن تھے۔ سکول سے انٹرنس کرنے کے بعد حسرت نے پرائیویٹ طور پر منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد ایف اے کا امتحان دیا۔ بی اے کی پوری تیاری کی تھی مگر اسباب و حالات کے نامساعد حالات کے باعث امتحان نہ دے سکے۔

ملازمت:

تعلیم کے دوران ہی میں حالات سے مغلوب ہو کر حسرت سترہ برس کی عمر میں کہیں نوکری کرنے پر مجبور ہوئے اور پیر حسام الدین سکرٹری انجمن اسلامیہ پونچھ کی سفارش پر ان کو اسلامیہ انگریزی مڈل سکول میں اور نیٹل ٹیچری کی ملازمت مل گئی۔ مطالعہ کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ ملازمت کے بعد معاش کی طرف سے اطمینان ہوا تو یہ شوق اور بڑھ گیا۔ کچھ عرصہ بعد ریاست میں طبیعت گھبرائی تو شملہ جا کر مدرس ہوگئے ۔ مگر جب قدرت نے صحافت تقدیر میں لکھ دی تھی تو ٹیچری میں غریب حسرت کا کیا دل لگتا۔ اس لئے ۱۹۲۵ء میں اسے چھوڑ چھاڑ کلکتہ کی راہ لی۔ جہاں سے اس زمانہ میں انگریزی کے علاوہ متعدد ہفتہ وار اور روزانہ اردو اخبارات نکلتے تھے۔

اخباری زندگی کی ابتدا اور کلکتہ کا قیام:

کلکتہ پہنچتے ہی حسرت کو اپنی حسب پسند نوکری مل گئی اور یہ بھی ہفتہ وار جریدہ ”عصر جدید“ کی سب ایڈیٹری۔ حسرت کی عمر اس وقت اکیس برس کی تھی۔ دل میں جوانی کا جوش اور قلب میں ترقی کی امنگیں بھری ہوئی تھیں۔ نہایت دل لگا کر بڑی محنت سے کام کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملازمت کو ابھی ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ اس اخبار کی ایڈیٹری کی کرسی ان کے لئے خالی ہوگئی۔ یہیں سے حسرت کی صحافی شہرت کا چراغ روشن ہوا جس کی جوت روز بروز بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ ۲۶ جون ۱۹۵۵ء کو فرشتہ اجل کی پھونک سے وہ چراغ ہمیشہ کے لئے گل ہو گیا۔

نہ معلوم کیا اسباب ہوئے کہ حسرت کو جلدی عصر جدید سے علیٰحدہ ہونا پڑا۔ چونکہ اس عرصہ میں اخباری زندگی کا کچھ نہ کچھ تجربہ ہو چکا تھا اس لئے خیال ہوا کہ لاؤ اپنا ایک پرچہ نکالو۔ چنانچہ بغیر کسی سرمایہ کے ”آفتاب“ کے نام سے ایک ماہوار رسالہ جاری کر دیا۔ مگر تیل کے بغیر چراغ کس طرح جلتا ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ چراغ بجھ گیا اور آفتاب غروب ہو گیا۔

اب حسرت کو پھر ملازمت کی جستجو ہوئی چنانچہ مقامی اخبار ”نئی دنیا“ میں ان کو جگہ مل گئی جہاں انہوں نے ”کوچہ گرد“ کے قلمی نام سے کلکتہ کی باتیں لکھنی شروع کیں۔ یہ باتیں اتنی دلچسپ اور پُر لطف ہوتی تھیں کہ رئیس الاحرار مولانا محمدعلی جوہر ایڈیٹر ہمدرد، کامریڈ ظفر الملت والدین، مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر ”زمیندار“ اور امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ایڈیٹر” الہلال“ جیسے نقادانِ فن اور کہنہ مشق صحافیوں نے بھی اس کالم کی تعریف کی۔ اس کے بعد دو اور اخباروں سے بھی حسرت کا تعلق رہا۔ ایک کا نام جمہور اور دوسرے کا استقلال۔

مولانا ابوالکلام آزاد سے تعلق :

اسی زمانہ میں مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ سے مرحوم الہلال کو دوبارہ آسمان صحافت پر طلوع کرنا چاہا۔ اور اس کے ساتھ ایک روزانہ اخبار بھی جاری کرنے کا ارادہ کیا۔ اس روز نامہ میں کام کرنے کے لیے مولانا کی نظر انتخاب حسرت پر پڑی۔ یہ کلکتہ میں موجود ہی تھے۔ مولانا نے آدمی بھیج کر ان کو بلوایا۔ اس کیفیت کو خود حسرت کی زبان سے سیکھے :

”جب ۱۹۲۸ء میں مولانا ( ابوالکلام آزاد ) نے دوسری دفعہ الہلال نکالنے کا ارادہ کیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک روزانہ اخبار (پیغام) نکالنے کی تجویز ہوئی تو انہوں نے مجھے بلا بھیجا۔ مولانا ان دنوں بالی گنج میں رہتے تھے۔ بڑی خوش قطع کوٹھی تھی ۔ بیچ میں گھاس کا ایک قطعہ۔ ایک طرف البلاغ پریس اور دوسری طرف مولانا کا سکونتی مکان ۔ میرے ساتھ غلام احمد جامعی بھی تھے ، جو کلکتہ کے اخباروں میں کام کر چکے تھے ، ہم دونوں اپنے بعض مضامین بھی ساتھ لے گئے تھے۔ مولانا نے انہیں دیکھنے کے لئے رکھ لیا۔ پھر دیر تک دونوں کے حالات پوچھتے رہے۔ دوسرے تیسرے دن پھر بلایا اور کہنے لگے۔ میرے بھائی ، دس پندرہ دن تک اخبار نکال لینا چاہتا ہوں تم سے یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ تم تمام اطراف سے انقطاع کر کے اپنے اوقات اسی ایک کام کے لئے وقف کردو۔ کیونکہ تمہاری دوسری مصروفیات بھی ہیں اور انہیں بہر حال جاری رہنا چاہیے ۔ البتہ تمہیں ہر صبح کو ڈھائی تین گھنٹے یہاں کام کرنا ہوگا۔ خیر اوقات کی تعین بعد میں ہو جائے گی۔ فی الحال میں یہ چاہتا ہوں کو معاوضہ کا فیصلہ ہو جائے ۔ ہم دونوں مولانا کے پرانے عقیدت مند تھے۔ الہلال کی اکثر عبارتیں ہمیں زبانی یاد تھیں ۔ تذکرہ کے جستہ جستہ فقرے زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔ غزل گو شاعروں میں حسرت موہانی کا کلام پسند تھا۔ اور نثر نگاروں میں ابو الکلام کے سوا کسی کا انداز جچتا نہیں تھا۔ تذکرہ میں بھی کام کیا۔ پھر تحریک کشمیر شروع ہوئی اور روز نامہ احرار جاری ہوا تو کچھ عرصہ اس کی ایڈیٹری کی ۔ پھر دارالاشاعت پنجاب کے ہفتہ وار اخباروں پھول اور تہذیب نسواں کی بھی دو ایک سال ایڈیٹری کی ۔”

روزنامہ احسان کی ادارت ہی کے زمانہ میں انہوں نے اپنا ایک ہفتہ وار ادبی اور فکاہی پرچہ بھی جاری کیا تھا جس کا نام ”شیرازہ“ تھا۔ اس اخبار کے مضامین بہت پر لطف ہوتے تھے اور لوگ ان کو نہایت مزے لے لے کر پڑھتے تھے۔ حسرت کا سب سے زیادہ مشہور اور سب سے زیادہ مقبول ادبی شہ پارہ جغرافیہ پنجاب اس پرچہ میں بالاقساط شائع ہوا۔ جس نے مصنف اور اخبار کے نام کو بے انتہا شہرت دی۔ شیرازہ کے وقتاً فوقتاً خاص نمبر بھی شائع ہوتے تھے۔ جن میں غالباً سب سے زیادہ مقبولیت اقبال نمبر کو حاصل ہوئی جو ڈاکٹر اقبال کے انتقال (۲۱) اپریل ۱۹۳۸ء) کے ڈیڑھ ماہ بعد شائع ہوا۔ اس خاص نمبر کی بڑی مانگ ہوئی اور بقول حسرت یہ نمبر صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بعض بیرونی ملکوں میں بھی مقبول ہوا اور دیر تک ہندوستان کے مختلف حصوں کے علاوه ایران، افغانستان، مصر، عراق وغیرہ ممالک سے اس کی فرمائش آتی رہیں۔ شیرازہ غالباً ۱۹۴۲ء تک جاری رہا۔ اگر چہ درمیان میں کچھ دنوں کے لئے بند بھی ہوتا رہا۔ حسرت کے دہلی چلے جانے کے بعد دوسرے لوگ اس کا انتظام کرتے رہے۔ احسان کے دفتر سے علیحدگی اختیار کرنے اور روزنامہ شہباز نکالنے کی درمیانی مدت میں حسرت نے کچھ عرصہ تک ۱۹۳۸ء میں ڈاکٹر سیتہ پال کے اردو روزنامہ نیشنل کانگرس کی بھی ادارت کی۔

دہلی اور ملایا جانا اور سرکاری نوکری کرنا:

جب یورپ پر خدا تعالیٰ کا قہر ہٹلر کی شکل میں نازل ہوا اور دوسری جنگِ عظیم شروع ہو گئی تو ستمبر ۱۹۳۹ء کو انگریزوں نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا اور ہندوستان سے فوجیں اور سامان جنگ جنگی محاذوں پر بھیجنا شروع کر دیا۔ مگر مرکز میں کانگرس نے اور پنجاب میں احرار نے اس کی زبردست مخالفت کی اور سول نافرمانی کا آغاز کر دیا۔ حسرت بڑے قوم پرست تھے۔ احرار کے اس فیصلے سے بڑے خوش ہوئے اور بھاگے بھاگے چودہری فضل حق کو مبارکباد دینے دفتر احرار میں گئے۔ وہ تو ملے نہیں۔ شورش کاشمیری سے کہنے لگے۔ مولانا آپ لوگوں نے ثابت کر دیا کہ؀

کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے

ور نہ آج اس صوبہ میں تو انگریزوں کی پشتینی اولاد بستی ہے۔ اسی دوران میں بڑا زبر دست جلسہ ہوا جس میں اسی پچاسی ہزار کے قریب مجمع تھا۔ حسرت بھی موجود تھے اور انقلاب زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ مگر آگے چل کر دنیا نے نہایت ہی حیرت سے دیکھا کہ لوگوں کو انگریزوں کی پشتینی اولاؤ کہنے والا اور احرار جلسہ میں انقلاب زندہ باد کے نہایت پرجوش نعرے لگانے والا حسرت آل انڈیا ریڈیو میں بیٹھا انگریزوں کا زبردست پروپگینڈا کر رہا ہے۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد ہی ہم حسرت کو لاہور میں سرکاری اخبار پنجایت کے ایڈیٹر کی کرسی پر بیٹھا ہوا اور ہندوستانیوں کو فوج میں بھرتی ہو کر جنگ میں جانے کی ترغیب دیتا ہوا پاتے ہیں۔ ۱۹۴۳ء میں وہ فوجی اخبار کے ایڈیٹر بنا دیئے گئے۔ اس عہدہ پر کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد جب ان کی وفاداری کا پورا امتحان انگریزوں نے لے لیا تو ان کو فوج میں لفحٹ کا عہدہ مرحمت کر دیا اور ملایا بھیج دیا گیا جہاں اس زمانہ میں جاپان انگریزی مقبوضات پر حملے کر رہا تھا۔ وہاں حسرت نے انتہائی وفاداری اور انتہائی محنت سے فوجی روز نامہ نوجوان کی ادارت کی اور دل کھول کر حق نمک ادا کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں بہت جلد پہلے کیپٹن اور پھر میجر بنا دیئے گئے۔ جب واپس وطن آئے تو میجر کا خوبصورت تمغہ ان کے سینے پر جگمگا رہا تھا۔ یہ فروری ۱۹۴۷ء کی بات ہے۔ یہ ہولناک جنگ ۸ مئی ۱۹۴۵ء کو ہٹلر کی خود کشی ، انگریزوں کی فتح اور جرمنوں کی شکست پر ختم ہوئی اور جاپان کا ہندوستان پر قبضہ کر لینے کا خواب، خواب پریشان بن کر رہ گیا۔ مگر خود ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جو آزادی کی تحریک شروع ہو چکی تھی وہ کسی طرح نہ دب سکی اور بالآخر ۱۹۴۷ء میں انگریز کو یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔

امروز کی ایڈیٹری:

تقسیمِ ملک کے بعد جب ۱۹۴۸ء میں لاہور سے روزنامہ ”امروز“ جاری ہوا تو اس کے سب سے پہلے ایڈیٹر حسرت مقرر ہوئے ۔ انہوں نے اس کے حرف و حکایت کے کالم کو اپنے مزاحی اور فکاہی طرز تحریر سے اس قدر دلچسپ اور پر لطف بنا دیا کہ لوگ پڑھتے تھے اور واہ واہ کرتے تھے۔ آج تک بھی پڑھنے والے اس چٹخارے کو نہیں بھولے۔ اس روز نامہ کی شان اور وقار کو حسرت نے اتنا بڑھایا کہ بہت جلد اسے پاکستان کا بہترین اخبار بنا دیا۔ امروز کے جو خاص نمبر خاص خاص تقریبوں پر حسرت نے شائع کیے وہ اپنی شان میں بالکل نرالے تھے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اتنے نفیس اور بلند پایہ خاص نمبر آج تک کوئی روز نامہ شائع نہیں کر سکا۔

کراچی جانا:

مگر افسوس یہ شان و شوکت کا دور بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور ۱۰ جولائی ۱۹۵۱ء کو حسرت روزنامہ امروز سے رخصت ہو گئے۔ بعد ازاں کچھ دنوں روزنامہ ”آفاق“ میں کام کیا مگر بہت ہی جلد حسرت کو مولانا عبدالمجید سالک کی کوشش سے ریڈیو پاکستان کراچی میں بلا لیا گیا۔ جہاں وہ نیشنل پروگراموں کے ڈائرکٹر بنا دیئے گئے اور بارہ سوروپے ماہورار تنخواہ مقرر ہوئی۔ یہ تنخواہ ظاہر ہے کہ نہایت معقول تھی اور اگر حسرت چاہتے تو بڑے عیش و آرام اور امن و راحت کے ساتھ اس رقم میں بخوبی اپنا گزارہ کر سکتے تھے مگر انہوں نے نہ کبھی کفایت شعاری سے کام لیا۔ نہ کبھی کچھ پس انداز کیا۔ جو کماتے نہایت فیاضی اور دریادلی کے ساتھ دوستوں کی دعوتوں اور پارٹیوں میں ضائع کر ڈالتے۔ ہاؤ ہو میں بھی کافی خرچ ہوتا تھا مگر ریڈیو والوں سے بھی نہ بنی اور استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ گئے۔ خود کہا کرتے تھے کہ بھاری پتھر تھا۔ اٹھ نہ سکا چوم کر چھوڑ دیا۔ زمانہ قیام کراچی میں حسرت کچھ دنوں تک سرکاری ماہنامہ ”ماہ نو“ کے عملہ ادارت میں شامل رہے۔

ریڈیو سے فراغت کے بعد ایک امریکن پبلشنگ ادارہ سے، جس کا نام سلور برڈٹ کمپنی تھا اور جس کا صدر دفتر نیو یارک میں تھا تعلق ہو گیا۔ اس کمپنی کو کراچی کے محکمۂ تعلیم سے اردو کی درسی کتابیں چھاپنے کا ٹھیکہ دیا تھا۔ جو نہایت عمدگی اور بے حد نفاست کے ساتھ امریکہ سے چھپ کر آتی تھیں۔کمپنی نے اس کام کے لئے پاکستان کے بہترین خطاطوں اور مصوروں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ مصنفین میں حسرت بھی شامل تھے جن کو دس روپے فی صفحہ کا معاوضہ ملتا تھا اور ہزاروں روپے اس کمپنی سے حسرت نے کمائے۔ مگر ان کو نہ کراچی کی آب و ہواہی موافق آئی اور نہ ماحول ہی پسند آیا۔ اس لئے کمپنی کا باقی ماندہ کام مولانا عبد المجید سالک کے حوالے کیا اور خود لاہور آگئے۔

لاہور میں واپسی اور موت :

اگر چہ مرنے سے دو سال قبل شراب چھوڑ چکے تھے مگر اس کا اثر جسم میں کافی سرایت کر چکا تھا۔ اختلاج قلب کے دورے پڑنے لگے اور فروری ۱۹۵۴ء کے آخر میں سخت بیمار ہو کر میوہسپتال لاہور میں داخل ہو گئے۔ جہاں دو ڈیڑھ مہینے تک پڑے رہے۔ کچھ آرام آیا تو باہر آئے۔ ٣٠ اپریل کولٹریری لیگ نے ان کی صحت کا یوم بڑی شان سے منایا۔ جس کے بعد وہ تھوڑا بہت کام کرنے کے قابل ہوئے اور آخر وقت تک نوائے وقت کا فکاہی کالم لکھتے رہے مگر آرام نہ ملنے اور مالی پریشانیوں میں مبتلا رہنے کی وجہ سے ان کی صحت بگڑتی ہی چلی گئی آخر میں اتنے کمزور ہو گئے تھے کہ بغیر لاٹھی کی مدد کے گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں بھی نہیں جاسکتے تھے۔ مگر اس سخت بیماری کے ایام میں بھی تکلیف اٹھا کر نوائے وقت کے لئے حرف و حکایت لکھتے رہے۔ ان کا آخری فکاہی کالم ۲۶ جون ۵۵ء کے نوائے وقت میں ۲۶ جون کی صبح کے وقت شائع ہوا اور اسی تاریخ کو دن کے ڈیڑھ بجے پاکستان و ہندوستان کا یہ زبردست ادیب، اردو زبان کا بہترین نقاد، اعلیٰ درجہ کا انشا پرداز ، قادر الکلام شاعر، اپنی طرز کا واحد طنز نگار ظرافت و مزاح کا شہنشاہ اور اردو صحافت کو عروج وارتقا کی بالائی منزل پر پہنچا دینے والا صحافی ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو کر میانی صاحب کے قبرستان میں جا سویا۔

ماخذ : نیرنگ خیال، لاہور، سالنامہ ۱۹۵۹ء
شیخ محمد اسمعیل پانی پتی۔ تاریخ پیدائش: ١٤ اپریل ۱۸۹۳ء وفات: ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۲ء