Advertisement

اصنافِ تحریر میں سے ایک صنف ” فیچر “بھی ہے۔فیچر کی کئی قسمیں ہیں۔ جو فیچر ”قارئین اور عام لوگوں“ کی تربیت کے لیے لکھا جائے، اسے ”تربیتی فیچر“ کہتے ہیں۔ اس فیچر میں عوام کو کسی اہم ترین فن، کام اور چیز سے روشناس کروایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ملکی و شہری دفاع سے متعلق فیچر، ٹریفک قوانین کے بارے میں فیچر، صحت کے اصولوں کے بارے میں فیچر، بیماریوں سے آگاہی سے متعلق فیچر…. وغیرہ شامل ہیں۔

اسی طرح جب اخبار کی کسی خبر اور رپورٹ کو ادبی اور فنی رنگ دے کر لکھا جائے تو وہ ”نیوز فیچر“ کہلاتا ہے۔ اس میں انسانی احساسات، جذبات اور نفسیات کو اس طرح شامل کیا جاتا ہے کہ قاری کی دلچسپی اور معلومات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

اسی طرح فیچر کی ایک قسم ”سوانحی فیچر“ کہلاتی ہے۔ اس فیچر میں کسی فوت شدہ اہم اور مشہور شخصیت پر خاکہ نما فیچر لکھا جاتا ہے۔ اس میں شخصیت کے کارناموں اور زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر جامع روشنی ڈالی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے مخفی اور لوگوں سے پوشیدہ اچھے کاموں کو منظر عام پر لایا جائے۔

Advertisement

اسی فیچر سے ایک ملتا جلتا فیچر ”شخصی فیچر“ کہلاتا ہے۔ ”شخصی فیچر“ کسی زندہ شخص پر لکھا جاتا ہے۔ جس پر یہ فیچر لکھا جائے عموماً وہ اپنے فن کا ماہر ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ”ٹائر پنکچر شاپ“ پر کام کرنے والا ”چھوٹا“ یا ”نکو“ اپنے کام کا ماہر ہے۔ اس کی عمر بمشکل دس بارہ سال ہے۔ اس طرح پھرتی اور تیزی سے کام کرتا ہے کہ لوگ حیران ہوجاتے ہیں، اور ٹپ (Tip) کے طور پر اچھے خاصے پیسے دے کر جاتے ہیں۔ اگر کبھی کسی فیچرنگار کی گاڑی پنکچر ہوجائے اور وہ اس ”پنکچر شاپ“ سے پنکچر لگوائے تو وہ یقینا اس بچے سے متاثر ہوکر اس پر فیچر لکھ مارے گا، مگر عموماً یہ ”شخصی فیچر“ کسی بڑی اور اہم شخصیت پر لکھا جاتا ہے۔ چھوٹوں موٹوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

سماجی، معاشرتی، معاشی اور اخلاقی موضوعات پر بھی فیچر لکھے جاتے ہیں۔ یہ ”سماجی فیچر“، ”معاشرتی فیچر“، ”معاشی فیچر“ اور ”اخلاقی فیچر“ کہلاتے ہیں۔ اردو جرنلزم میں ”اخلاقی اور معاشرتی فیچر“ بہت مقبول ہیں، کیونکہ ان فیچروں میں معاشرے میں پھیلے مختلف موضوعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ فیچر نگار معاشرے میں گھوم پھر کر اپنے گہرے مشاہدات، احساسات اور تجربات کا نچوڑ فیچر کی صورت میں عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔

ایک بات یاد رکھیں کہ فیچر کی کوئی سی بھی قسم ہو، مگر فیچر نگار کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ اگر فیچر نگار میں بنیادی صلاحیتیں نہ ہوں یا وہ اوصاف نہ ہوں جو ایک فیچر نگار کے لیے لازمی ہیں تو پھر وہ اپنے فرائض بخوبی سرانجام نہیں دے سکتا۔ کسی بھی فیچر نگار کے لیے ضروری ہے کہ فیچر کی زبان و بیان پر عبور رکھتا ہو، کیونکہ فیچر کو سیدھے سادے انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں فنکاری اور کلاکاری دکھانا ہوتی ہے۔ ایک اچھے فیچر کی پہلی خوبی فیچر کا عام فہم اور دلچسپ ہونا ہے۔ اس کا انحصار فیچر کے اسلوب، بے ساختگی، شستہ زبان پر ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ فیچر نگار کا مطالعہ بے حد وسیع ہو۔ اچھی کتابوں اور رپورٹوں کا مطالعہ انسان کے ذہنی افق کو بھی وسیع کردیتا ہے۔ آپ خود سوچیں اگر فیچرنگار کا مطالعہ زیادہ نہیں ہوگا تو پھر وہ کس طرح فیچر میں مختلف چیزیں، الفاظ کا انبار اور علم کے موتی اکٹھے کرسکے گا۔ اسی طرح فیچر نگار میں تخلیقی صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اور تخلیقی صلاحیتوں کو مزید بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ مسلسل محنت، مطالعے اور مشق سے تحریر میں چاشنی، دلکشی، روانی اور حسن پیدا کیا جاسکتا ہے۔

عمومی طور پر فیچر نگار میں یہ صفات ہونی چاہییں۔ فیچر نگار کی شخصیت متوازن ہو، اعتدال پسند ہو۔ قومی اور ملکی تقاضوں کا شعور رکھتا ہو۔ انٹرویو کے فن سے واقفیت رکھتا ہو، تخلیقی اور فنی صلاحیت کا حامل ہو، حالات جانتا ہو، اچھا رپورٹر ہو، انسانی نفسیات کا مطالعہ رکھتا ہو، مختلف اندازِ فکر سے سوچنے اور دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جذبہ تجسس رکھتا ہو، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عوام کی نفسیات کو جانتا ہو اور محنتی ہو۔ جو کام دیا جائے اس میں لیت و لعل سے کام نہ لیتا ہو، اپنے اخبار کی پالیسیوں سے واقف ہو، کیونکہ فیچر جتنا بھی عمدہ ہو اگر وہ اخبار کی پالیسی کو مدنظر رکھ کر نہیں لکھا گیا تو اخبار کی زینت نہیں بن سکے گا۔ اخبار کی پالیسیوں سے، اخبار کے ایڈیٹر کے مزاج سے لاعلمی کسی بھی فیچر نگار کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے، چنانچہ جس اخبار کے لیے فیچر لکھا جارہا ہے، اس کی پالیسیوں کو جاننا اور اس اخبار کے ایڈیٹر کے مزاج سے واقف ہونا نہایت ہی ضروری ہوتا ہے۔ اچھا فیچر نگار فیچر لکھنے سے پہلے فیچر کے موضوع پر اپنے ایڈیٹر یا صفحے کے انچار چ سے مشورہ کرلیتا ہے۔

اخبارات خصوصاً میگزینوں میں فیچر کی اہمیت مسلّم ہے۔ فیچر کو صحافت کی ایک بڑی، مضبوط اور توانا قسم شمار کیا جاتا ہے۔ تمام بڑے اخبارات میں روزانہ اور ان کے سنڈے میگزینوں میں ہفتہ وار کئی کئی فیچر شائع ہوتے ہیں۔ فیچر کی اہمیت کی ایک وجہ قارئین کی نفسیات بھی ہیں۔

اکثر قارئین اور عوام بوجھل، خشک، مشکل، بوگس…. وغیرہ تحریروں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ چٹ پٹی خبریں اور فیچر نما تحریریں پسند کرتے ہیں، چنانچہ اخبار مالکان، ایڈیٹران اور منتظمین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اخبار میں عوام کی دلچسپی کی چیزیں لازمی طور پر شامل ہوں۔ دلچسپ اور معلو ماتی چیزوں میں فیچرز بھی آتے ہیں، کیونکہ فیچر کے معنی ہی کسی چیز کے نمایاں نقوش، شکل و صورت، وضع قطع، خدوخال اور چہرے مہرے کے ہیں۔ جرنلزم میں فیچر کا مطلب اور مفہوم کسی واقعے اور معاملے کی ایسی لفظی تصویر پیش کرنا ہے جس میں کسی حقیقت اور کیفیت کا اظہار ڈرامائی، افسانوی اور خوبصورت انداز میں کیا گیا ہو۔

فیچر کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود صحافت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ”اردو صحافت“ میں فیچر کا لفظ انگلش سے آیا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا۔ اب کوئی اہم اخبار فیچر سے خالی نہیں ہوتا۔ فیچر کی اہمیت، فیچر کی تاریخ، فیچر کی اقسام کے بعد اب فیچر کے عناصر، لوازم اور ساخت کے بارے میں بھی مختصراً جان لیں۔ فیچر کے کئی مختلف حصے ہوتے ہیں۔ ہر حصے کے کچھ فنی تقاضے ہوتے ہیں۔ ان کو پورا کرنا یا ان کے قریب قریب رہ کر لکھنا ہوتا ہے، ورنہ کچھ کا کچھ ہی بن جاتا ہے۔

فیچر کے پہلے حصے کو ابتدائیہ اور ”انٹرو“ (Intro) کہا جاتا ہے۔ فیچر کا یہ حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ فیچر کے ابتدائیے میں اصل بات اور بنیادی چیز اس کا پرکشش، دلکش اور جاذب نظر ہونا ضروری ہے۔ ابتدائیہ اچھا، انوکھا اور اچھوتا ہونا چاہیے۔ غیرروایتی ابتدائیے کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی شعر بھی ہوسکتا ہے اور کوئی حکایت بھی، کوئی واقعہ بھی ہوسکتا ہے اور کوئی کہاوت بھی، کوئی چونکا دینے والا لفظ بھی ہوسکتا ہے اور کوئی سوال بھی، کوئی ڈرامائی انداز بھی ہوسکتا ہے اور کوئی علامتی بیان بھی…. اس کے لیے کوئی جچاتلا اصول و قاعدہ نہیں ہے۔

فیچر کا عمدہ انٹرو (Intro) اسے قرار دیا جاتا ہے جس میں انسانی نفسیات، احساسات اور جذبات کو اپیل اور مہمیز دینے والاکوئی عنصر پایا جاتا ہو۔ مثال کے طور پر ”اُچے برج لاہور دے“ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک تاریخی فیچر کا ابتدائیہ یوں ہے: ”لاہور کے شمال میں ایک بلند وبالا اور فیل پیکر دیواروں کا سلسلہ ایستادہ ہے۔ ان دیواروں کی بلندیوں پر کہیں کہیں مغلئی محرابیں اور امتداد زمانہ کے ہاتھوں مجروح بالکونیاں نظر آتی ہیں۔ زمانہ وسطیٰ کی عمارت سازی کا یہ نادر نمونہ عرف عام میں ”لاہور کا شاہی قلعہ“ کہلاتا ہے۔“

فیچر کے دوسرے حصے میں جس موضوع پر فیچر لکھا جارہا ہے، اس کا تعارف، پس منظر، پیش منظر وغیرہ ذکر کرنے کے بعد اپنی تحقیق، اعدادو شمار اور حقائق کو ہلکے پھلے انداز میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس دوسرے حصے میں ہی فیچر کے پورے مسئلے کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کو بیان کرنے کے لیے مکالمہ، حکایتی، واقعاتی، کہانی، خاکہ، ڈرامہ…. کوئی بھی طریقہ اور اسلوب اختیار کرسکتے ہیں، اس پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ فیچر کے تیسرے حصے میں فیچر کے موضوع پر دلائل دے کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، جبکہ فیچر کے آخری حصے میں فیچر کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فیچر کوا ختتام اور ”وائنڈ اپ“ (Wind up) کی طرف اس طرح لے جایا جاتا ہے کہ پڑھنے والا اس سے کوئی سبق حاصل کرے۔ قاری کے ذہن پر غیرمحسوس طریقے سے ایک اچھا تاثر چھوڑا جاتا ہے۔

قارئین! یہ تھا فیچر اور فیچر نگاری کا قدرے قدیم طریقہ کار، آج کل فیچر کے انداز بدل چکے ہیں۔ جرنلزم کی دنیا میں اس کا مفہوم بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ دیکھیں! اخبار کے ”نیوز سیکشن“ میں فیچر کا مفہوم کچھ اور ہوتا ہے۔ ”میگزین ڈیپارٹمنٹ“ میں فیچر کا مطلب دوسرا ہوتا ہے۔

میگزین کے شعبے میں فیچر کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ تحریر کو ڈرامائی، افسانوی، معلوماتی اور دلچسپ انداز میں لکھا جائے، تاکہ قارئین کو دلچسپی کے ساتھ ساتھ مدعا بھی سمجھ میں آجائے اور مفید معلومات بھی حاصل ہوجائیں، جبکہ اخبار کے ”نیوز سیکشن“ فیچر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خبر کو مرچ مسالہ لگاکر تجزیے کے انداز میں لکھا جائے تاکہ خبر میں قارئین کی دلچسپی کا عنصر بڑھ جائے۔

فی زمانہ بہت سے کالم نگاروں نے اپنے کالموں کو ”فیچر نما“ بنالیا ہے۔ ”مضمون کے نام پر“ چھپنے والی تحریروں میں سب ہی ”اصنافِ تحریر“ چلتی ہیں۔ کالم، مضمون، سفرنامہ، سوانح، خاکہ، تبصرہ، رپوتاژ، مکالمہ اور فیچر سب ایک دوسرے میں خلط ملط ہوتے جارہے ہیں۔ جس رائٹر اور مضمون نویس کے ذہن میں جو آتا ہے لکھتا چلا جارہا ہے، اور اس کو ”صحافت کا ارتقا“ کا نام دیا جارہا ہے۔ مضمون کے انداز میں فیچر اور فیچر کے اسلوب میں مضامین لکھے جارہے ہیں۔ ”کالم اور کالم نما“، ”فیچر اور فیچر نما“، ”مضمون اور مضمون نما“، ”مکالمہ اور مکالمہ نما“، ”کہانی اور کہانی نما“، ”خاکہ اور خاکہ نما“…. جیسے عنوان اور ٹائٹل دیے جارہے ہیں۔

آج کی تیز رفتار دنیا کی جدید ترین صحافت میں سب چلتا ہے۔ منا بھائی! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ جو لکھ سکتے ہیں، جس انداز میں طبع آزمائی کرسکتے ہیں، کریں۔ صحافت کے میدان کے نوواردوں کو چاہیے کہ وہ مطالعہ، مشاہدہ اور محنت سے جو دل میں آتا ہے لکھیں، اور بس لکھیں کسی بھی انداز، اسلوب اور طریقے سے لکھیں۔ لکھنے والے کو سب کچھ مل جاتا ہے اور کاہل اور کام چور کو کچھ بھی نہیں ملتا۔

ایم اے جرنلزم کے طلبہ کو ایک دن استاذ نے فیچر کی تھیوری تفصیل سے پڑھائی۔ دوسرے دن سب طلبہ سے کہا کہ آج اور کل فیچر کی مشق کریں گے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تمام اسٹوڈنٹ کلاس سے باہر جائیں اور فیچر کا موضوع تلاش کریں۔ موضوع ملنے کے بعد اس پر دو دو صفحے کا فیچر لکھ کر لائیں۔ جس طالب علم کے پاس کار تھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شہر کی طرف نکل گیا، تاکہ فیچر کا موضوع تلاش کرے۔ جس کے پاس موٹر سائیکل تھی وہ اپنے ساتھ کسی ساتھی کو بٹھاکر کسی محلے کی طرف چل دیا کہ کوئی موضوع ملے اور اس پر فیچر لکھ سکے۔ ایک غریب طالب علم تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی سواری اور گاڑی تھی اور نہ اس کا کوئی دوست تھا جو اسے اپنے ساتھ بٹھاکر لے جاتا۔ آج کے زمانے میں غریب کو پوچھتا ہی کون ہے؟

وہ غریب طالب علم یونیورسٹی کے ”کیفے ٹیریا“ میں چلا گیا۔ جو ویٹر اس کے پاس آیا وہ قدرے بچہ تھا۔ اس نے اپنی آستین سے بہتی ناک صاف کرتے ہوئے پوچھا کہ ”کھانا، بوتل، چائے، جوس کیا چاہیے،کیا چیز لے کر آﺅں؟“ تھوڑی دیر اس نے بچے کی طرف دیکھا، سوچا اور پھر گردن جھکاکر کہا کہ ”تھوڑی دیر میں چائے لے آئیں۔“ بچہ چائے کا آرڈر لے کر چلا گیا، لیکن اس کو فیچر کا موضوع دے گیا۔ اس غریب طالب علم نے جیب سے قلم نکالا اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے معصوم بچوں پر فیچر لکھ مارا۔

اگلے دن کلاس میں استاذ نے سب اسٹوڈنٹس سے فیچر کا پوچھا۔ کار والے نے جواب دیا: ”سر! بہت تلاش کیا، کہیں سے بھی فیچر کا کوئی جاندار موضوع نہیں ملا۔“ کسی نے کچھ جواب دیا، کسی نے کچھ کہا؟ حاصل یہ ہے کہ کسی کو بھی فیچر کا کوئی موضوع نہ مل سکا۔ آخر میں اس غریب طالب علم نے جیب سے لکھا ہوا فیچر نکالا اور استاذ کے حوالے کردیا۔ استاذ بڑا حیران ہوا اور پوچھا: ”آپ کو یہ موضوع کہاں سے ملا؟“ اس نے کہا: ”سر! یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں چائے پینے گیاتھا۔ ویٹر کے طور پر جو بچہ آیا، اسی کو موضوع بناکر فیچر لکھ دیا ہے۔“

قارئین! دیکھیں اگر موضوع تلاش کرنے والی آنکھیں بینا ہوں، مشاہدہ تیز ہو تو دفتر میں بیٹھے بیٹھے بھی موضوع مل جاتاہے،ورنہ پورے ملک، پورے شہر کا چکر لگاکر بھی کسی ایک آدھ فیچر کا موضوع نہیں ملے گا۔ چنانچہ صحافت کے میدان میں نوواردوں کو چاہےے کہ اپنا مشاہدہ تیز کریں۔ جس دن آپ کا مشاہدہ تیز اور مطالعہ وسیع ہوگیا، اس دن کائنات کی ہر ہر چیز پر آپ لکھنے والے بن جائیں گے۔ کائنات کی ہر چیز آپ کو پکار پکار کر اپنی طرف متوجہ کررہی ہوگی اور آپ متوجہ ہورہے ہوں گے۔آپ کے پاس موضوع ہی موضوع ہوں گے۔

نوٹ :ہمارے ”آن لائن صحافت کورس گروپ میں شمولیت کے لئے اپنے واٹس ایپ نمبر سے اس نمبر 03213000857پر اپنا پورانام. علاقہ. تعلیم. پیشہ اور مصروفیات کیا کیا ہیں؟ اردو رسم الخط میں سینڈ کیجئے۔
از تحریر انور غازی