نیاز فتح پوری کی پیدائش

اردو کے نامور ادیب‘ نقاد‘ محقق‘ مترجم‘ مورخ‘ صحافی اور ماہر لسانیات علامہ نیاز فتح پوری ۲۸ دسمبر ۱۸۸۴ء کو فتح پور‘ سہوہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ۷۸ سال ہندوستان میں بسر کئے، لیکن جولائی ۱۹۶۲ء میں پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی میں زندگی بسر کرنے لگے۔ ۱۹۲۲ء میں انہوں نے ایک ادبی جریدہ "نگار” جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصے میں اردو میں روشن خیالی کا مظہر بن گیا۔ علامہ نیاز فتح پوری قریباً ۳۵ کتابوں کے مصنف تھے جن میں من و یزداں‘ نگارستان‘ شہاب کی سرگزشت‘ جمالستان کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی سینکڑوں تحریریں‘ نگار میں شائع ہوئیں جنہوں نے اردو میں نت نئے مباحث کو جنم دیا۔ بھارت نے انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز پدمابھوشن عطا کیا تھا۔

ابتدائی زندگی

نیاز فتح پوری اردو کے ایک صاحبِ طرز انشا پرداز، طرح دار ادیب اور جید عالم تھے۔ اردو زبان پر فن کارانہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ انھیں عربی، فارسی اور ترکی زبانوں پر بھی کامل عبور حاصل تھا۔ علاوہ ازیں انگریزی زبان سے بھی ان کی واقفیت کچھ کم نہ تھی۔ فارسی کا ذوق انھیں اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا جو نہ صرف فارسی کے کلاسیکی ادب کے دلدادہ تھے، بلکہ فارسی میں شعر بھی کہتے تھے۔

فارسی کا ابتدائی درس نیاز فتح پوری نے گھر پر ہی اپنے والد سے لیا تھا۔ درسِ نظامی مدرسے کے مدیرِ اعلیٰ مولانا نور محمد سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ آگے چل کر انھوں نے عربی میں اتنا کمال پیدا کر لیا کہ اپنی پہلی بیوی کے انتقال پر عربی میں مرثیہ لکھا۔ انھوں نے بہت سے افسانے بھی عربی زبان سے اردو میں ترجمہ کیے جو رسالہ نگار میں شائع ہوئے ترکی زبان پر انھیں اتنی قدرت حاصل تھی کہ وہ براہِ راست ترکی سے اردو میں ترجمہ کر سکتے تھے۔ ترکی کی مشہور شاعرہ نگار بنتِ عثمان سے وہ اتنے متاثر تھے کہ فروری ۱۹۲۲ء میں انھوں نے آگرے سے جب اپنا رسالہ جاری کیا تو اس کا نام بھی نگار رکھا۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ”یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ترکی سیکھنے کا مجھ پر جنون سوار تھا۔”

اردو نثر کا جوش

نیاز فتح پوری کے دلکش، رنگین، مرصع اور آراستہ اسلوب کو ذہن میں رکھتے ہوئے انھیں ‘اردو نثر کا جوش’ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا، کیوں کہ نیاز کے یہاں الفاظ کی وہی گھن گرج پائی جاتی ہے جو جوش ملیح آبادی کے یہاں ہے۔ دونوں کے یہاں زبان کا تاثراتی اور جمالیاتی استعمال اپنی بلندیوں پر ہے۔ دونوں کے یہاں مرعوب کرنے والا انداز ملتا ہے اور دونوں کو الفاظ کے استعمال پر زبردست قدرت حاصل ہے۔ دونوں زبان کی رنگینی اور آراستگی پر زور دیتے ہیں اور دونوں عربی فارسی کے الفاظ و تراکیب کا بکثرت استعمال کرتے ہیں۔

نیاز فتح پوری اپنی کتاب "مالہٗ و ما علیہ” میں جوش کی ایک نظم پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”یہ نظم صرف خوش نما الفاظ و دلکش تراکیب اور خوب صورت تشبیہوں کا مجموعہ ہے جن سے شاعر کے اچھے آرٹسٹ ہونے پر تو حکم لگایا جا سکتا ہے لیکن ان کی مفکرانہ حیثیت پر اس سے کوئی روشنی نہیں پڑتی۔” جن لوگوں نے نیاز کے افسانوی مجموعوں، انشائیوں، مکاتیب اور دیگر تحریروں کا مطالعہ کیا ہے وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ خود نیاز کے یہاں ”خوش نما الفاظ و دلکش تراکیب اور خوب صورت تشبیہوں کی کمی نہیں۔ اگر چہ فکری اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔”

ادبی زندگی

نیاز فتح پور کی علمی و ادبی زندگی مختلف موضوعات کے گہرے مطالعے اور پھر ان پر تنقید و تحقیق میں گزری۔ انہوں نے شاعری بھی تخلیق کی اور معاشرے کے مشاہدے اور اپنے تصورات کی آمیزش سے افسانے بھی لکھے۔ انہوں نے اس دور کی رومانوی تحریک کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا جس پر ان کے تخلیقی ادب پاروں کو اس تحریک کے مقامی نمونے تسلیم کیا گیا۔

تصانیف :


ان کے اہم تحریری مجموعے اور تصانیف درج ذیل ہیں:

  • ایک شاعر کا انجام
  • اصحابِ کہف
  • انتقادیات (2 جلدیں)
  • حُسن کی عیاریارں اور دوسرے افسانے
  • استفسارات و جوابات
  • جذبات بھاشا
  • جمالستان
  • من و یزداں(2جلد)
  • مالہ و ما علیہ
  • مشکلات غالب
  • مکتوباتِ نیاز
  • مزاکراتِ نیاز
  • مختاراتِ نیاز
  • نگارستان
  • شہاب کی سرگزشت
  • مذہب

وفات

سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ۲۴ مئی ۱۹۶۶ء کو نیاز فتح پوری کا انتقال ہوا۔ وہ کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Advertisements