Advertisement

تنقید کے بغیر تحقیق ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی کیونکہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ان کا ایک دوسرے سے ایسا ہی رشتہ ہے جیسا کہ چولی اور دامن کا ہوتا ہے۔ خاص طور سے ادبیات میں جب کسی بات کی تحقیق کی جاتی ہے تو تنقید کے سہارے آگے بڑھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ محقق کے اندر تنقیدی شعور لازمی طور پر پایا جاتا ہے اور اس کے بغیر وہ تحقیق کا حق ادا بھی نہیں کر سکتا۔

Advertisement

ہر ایک قدم کے بعد محقق اپنی تحقیق پر تنقیدی نگاہ ڈالتا ہے جس کے بغیر وہ تحقیق کو ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا۔ سابقہ محققین کی کاوشوں میں جب کوئی محقق اضافہ کرتا ہے تو وہ تنقید ہی کے سہارے گزشتہ تحقیقات کو پیش کرتا ہے اور پھر تنقید ہی کے سہارے اپنی تحقیقات رکھتا ہے۔ گویا تحقیق و تنقید دونوں ایک دوسرے کے بغیر اپنی اصل صورت میں مکمل ہی نہیں ہوسکتے۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement