ننھے بچے جب دانت کاٹیں،ماریں تو پہلے پہل ہم ہنس پڑتے ہیں۔ بچے کو مثبت توجہ بھی ملتی ہے اور یہ احساس بھی کہ میں نے بہت عمدہ کام کر لیا۔ پہلی دفعہ سے بالکل اچھی بری کوئی توجہ نہ دیں۔ فوراً کوئی اور بات شروع کر کے دھیان بٹا دیں۔ ننھے بچوں کے لئے بہترین یہی ہے کہ آئی اوئی کئے بغیر انکا دھیان ہٹا دیا جائے۔ ڈیڑھ سال سے لیکر چار سال تک کے بچوں کو بہرحال روکنا ہو گا۔

بچہ جب مارے، اسکے ہاتھ تھام لیجیے۔ نرم لیکن مضبوط۔ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نرم اور پختہ لہجے میں کہیے کہ “مارنے کی اجازت نہیں ہے۔” آپ اچھے بچے ہیں اور اچھے بچے مارتے نہیں ہوتے۔ کبھی نہ کہیں بد تمیز ہو، ہاتھ چلتا ہے، کوئی بھی برے الفاظ منہ سے نہ نکلنے دیں۔ بچے کی حرکت کو غلط کہیں، بچے کو لیبل نہ کریں۔

“نہ مارو” کے بجائے “بیٹا، یوں آرااام سے ہاتھ لگاتے ہیں” کہیں۔

بچے کو جس بھی بات پر غصہ ہے، اسے انکریج (encourage) کریں کہ الفاظ استعمال کرے: رِیں رِیں کرنا یا مارنا نہیں، الفاظ استعمال کریں۔ اس چیز میں بچے کی مدد بھی کریں۔ “آپ کا دل نہیں تھا کھلونہ شیئر کرنے کا؟ آپ غصہ ہیں؟ آپ ہرٹ ہیں چھوٹی نے آپکی سٹرابیری کھا لی؟”یوں اسکی فیلنگز ایکنالج بھی ہوں گی، اور ہاتھ کے بجائے زبان کے استعمال کا بھی پتہ چلے گا۔

مندرجہ ذیل لیکچر مار کے سین کے وقت نہیں۔ لیکن ویسے جب موڈ اچھا ہو، رات کو کہانی سناتے وقت، گاڑی میں کہیں ڈرائیو کے دوران بچے سے اس بارے میں بات کیا کیجیے۔کہانی سنا کر پیغام بچے کے گوش گزار کرنا بہترین طریقہ ہے۔

بچے کو سمجھائیں: ہاتھ اللہ نے ہمیں اس لئے دیے ہیں کہ ہم اپنا کام کریں یا دوسروں کی ہیلپ کریں۔ یہ جملہ بچے کو ہر ہر بار یاددہانی کروائیں کہ ہاتھ کے بس دو ہی مقاصد ہیں: اپنے کاموں کے لئے، دوسروں کی ہیلپ کے لئے۔

بچے کو بہت شروع سے چار ایموشنز سکھائیے: کبھی اپنے چہرے کے ایکسپریشنز، کبھی ڈرائنگ سے، کبھی کارٹون کی مدد سے۔
خوش
اداس
غصہ

حیران
یہ چار ایموشنز از بر ہو جائیں۔ جب مارے تو آپ بتائیں کہ اس طرح دوسرا بندہ/بچہ اداس ہو جاتا ہے۔ ساتھ اداس چہرہ بنائیے۔ کیا آپکو کوئی مارے تو اچھا لگتا ہے؟ نہیں! اداس ہونا اچھا لگتا ہے؟ نہیں! ہمیں کسی کو ہرٹ نہیں کرنا ہوتا کیونکہ ہاتھوں کے دو ہی مقاصد ہوتے ہیں۔ ۔۔ الخ

جو اصول بنائیں اس پر مستقل مزاجی انتہائی اہم ہے۔ جو کام غلط ہے وہ پہلی بار بھی غلط ہے، آٹھویں بار بھی، بائیسویں بار بھی۔ ہر بار سمجھانا ہے۔ ہر بار کہنا ہے “مارنے کی اجازت نہیں ہے۔” لمبا چوڑا لیکچر نہیں، پچھلی باتوں کے حوالے نہیں۔ بہن بھائیوں سے موازنہ نہیں۔ بس سیدھی کھری مختصر بات۔ سکرین ٹائم اور میٹھے کا حساب کتاب رکھیں۔ اس سے بھی بچے ہائپر ہوتے ہیں۔

جو بچے چار پانچ سال کے ہو کے بھی دوسروں کے بچوں کو ماریں، انکے لئے ذرا سختی کیجیے۔ اگر آپکا بچہ زبان سے گالی گلوچ یا shut up, stupid, یا you’re a baby کہہ کر دوسرے بچوں کو تنگ کرے، یا انہیں مارے تو سوری کے ساتھ ‘اگر مگر’ کے جواز پیش نہ کیے جائیں. ‘دراصل یہ تھکا ہوا ہے، نیند میں ہے، بھوک لگی ہے۔۔۔’ جو بھی وجہ ہے، اسے یہ حق نہیں کہ کسی بچے پر ہاتھ اٹھائے۔ اور جب آپ اسکے سامنے یہ جواز رکھ دیتے ہیں، آئیندہ کے لیے بھی اسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں تو بڑے آرام سے جان چھڑوا سکتا ہوں۔
اسکو cause and effect بتائیں۔ ‘آپ بچے کو ماریں گے، ہم پارٹی چھوڑ کر آ جائیں گے۔’ اور ایسا ہی کریں اور مستقل مزاجی سے کریں۔ وہ سمجھ جائے گا کہ میں غلطی کرتا ہوں تو انجام بھگتتا ہوں۔ باقی بچے پارٹی میں مزہ کرتے ہیں، مجھے واپس آنا پڑتا ہے۔

اسکے علاوہ bullying کے بارے میں انکو بکس پڑھیں۔ انہیں بتائیں کہ دونوں ہی صورتیں غلط ہیں۔ انہیں سمجھائیں کہ bullying مین repetitive behavior ہوتا ہے۔ تو اگر آپ بار بار لڑائی کرتے ہیں، مارتے ہیں، بدزبانی کرتے ہیں، یہ bullying ہے۔ اگر ہر پارٹی میں آپکی وجہ سے کوئی نہ کوئی بچہ روتا ہوا ماں کے پاس آتا ہے، یہ bullying ہے۔انہیں بتائیں کہ وہ سمارٹ ہیں، اچھے بچے ہیں اور اچھے بچے اچھے فیصلے کیا کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ فرشتے ہر عمل لکھ رہے ہیں۔ سب کچھ ہماری بک (یا سی ڈی/USB) میں فیڈ ہو رہا ہے اور اللہ کے سامنے ایک کلک پر سامنے ہو گا۔ ہمیں اچھے اعمال بڑھانے ہیں۔ انہیں anger management کے لیے تین سنہری اصول بتائیں:

  • 1- تعوذ پڑھیں۔
  • 2- کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں۔
  • 3- وضو کر لیں، منہ دھو لیں، پانی پی لیں۔ شیطان آگ سے بنا ہے، غصہ شیطان کا کام ہے۔ اس آگ کو پانی سے بجھائیں۔
  • انکے لیے خود بھی دعا کریں۔

سب سے اہم بات: خود مار دھاڑ اور چیخنا چلانا کم سے کم کریں۔ بچے کو مار کر کہنا کہ مارتے نہیں، اس سے اثر کم ہی ہو گا۔ چیخ کر کہنا کہ آہستہ بولو، اسکا بھی۔ نرمی سے ہاتھ لگائیے، ہاتھ کے بجائے زبان استعمال کیجیے تا کہ بچے یہی دیکھیں، یہی سیکھیں ان شا اللہ۔

تحریر نیّر تاباں (انتخاب،، عابد چوہدری)

برائے مہربانی اس تحریر کو شئیر یا فاروڈ کیا جائے۔