Back to: میر تقی میر کے مشہور اشعار
0

| ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا |

| چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا جمالِ یار نے منھ اس کا خوب لال کیا |

| غضب آنکھیں ، ستم ابرو ، عجب منہ کی صفائی ہے خدا نے اپنے ہاتھوں سے تری صورت بنائی ہے |

| ہوگا کسی دیوار کے سایہ میں میرؔ کیا کام محبت سے اُس آرام طلب کو |

| دلِ پر خوں کی اک گلابی سے عمر بھر ہم رہے شرابی سے |