عزیز دوستو! اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں آسانیاں رکھیں ہیں خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے، اسلام نے ہر اعتبار سے آسانی رکھی ہے۔ اس لیے میں نکاح کے حوالے سے کچھ باتیں پیش کرتی ہوں کہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں نکاح کو آسان بنانے کی تحریک نہ چلائی جائے۔

جب تک طلاق کو لڑکی کے لیے عیب سمجھنے کا رویہ ختم نہ ہوجائے جب تک مطلقہ یا بیوہ کا نکاح باسہولت نہ ہوجائے اسوقت تک نکاح ہماری شریعت کے مطابق عبادت نہیں بن سکتا کیوں کہ نکاح ہماری شریعت مطہرہ میں بقائے نسل کے ساتھ درج بالا چیزوں کو اپنانے کی صورت میں عبادت بھی ہے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ آج کے معاشرے کی بدقسمتی نے اس عمل کو اور دشوار تر کر دیا ہے۔ان ہی وجوہات کی بنا پر موجودہ دور میں آئے دن دل دہلا دینے والے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لئے حدیث رسول ہے "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم۔النكاح من سنتي فمن رغب سنتي فليس مني”
ترجمہ۔ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں”

عزیز ساتھیو! میں اپنی تحریر کے ذریعے بتانا چاہتی ہوں کہ نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل سنت ہے۔کیونکہ نکاح کی استطاعت کے باوجود اگر کوئی نکاح نہ کرے تو یہ عظیم گناہ ہے اس لیے موجودہ دور میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم تمام مسلمان مل کر نکاح کو آسان بنائیں جیسا کہ عہد نبوی کی درج ذیل مثالوں میں نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔

عہد نبوی میں ایک خاتون رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس وقت آپ صحابہ کرام کی مجلس میں تھے اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ مجھ سے نکاح کر لیجئے۔آپ خاموش رہے تو ایک نوجوان نے اٹھ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! اس کا نکاح مجھ سے کرا دیجئے۔

آپﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اسے مہر میں دینے کے لیے کیا ہے؟اس نے جواب دیا کچھ نہیں ، آپﷺ نے فرمایا: کچھ تو ہوگا جاؤ گھر سے تلاش کر کے لاؤ،لوہے کی انگوٹھی ملے تو وہی لے آؤ۔ نوجوان گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر کہنے لگا میرے پاس کچھ نہیں۔ اس کے باوجود آپﷺ نے دونوں کا نکاح کرا دیا اور فرمایا تمہیں کچھ قرآن یاد ہوگا وہ اپنی بیوی کو یاد کرا دینا یہی اس کا مہر ہے( بخاری،)

اسی طرح ایک مرتبہ ایک خاتون اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضری ہوئی اور عرض کیا: میرے شوہر نے مجھ کو طلاق دے دی۔ میری عدت پوری ہوتے ہی میرے پاس تین رشتے آئے ہیں۔
میں آپ سے مشورہ کرنے آئی ہوں کہ ان میں سے کس سے نکاح کروں؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوتھے رشتے کی نشاندہی کی چنانچہ انہوں نے نکاح کرلیا۔

عزیز ساتھیو! عہد نبوی میں ان پر عمل کیا جاتا تھا۔لڑکی کنواری ہو یا مطلقہ،مالدار ہو یا غریب،اونچے سماجی رتبے والے خاندان سے ہو یا معمولی خاندان سے، اسکے نکاح میں کوئی رکاوٹ اور دشواری نہیں آتی تھی بلکہ آسانی سے نکاح ہو جاتا تھا۔عہد نبوی میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی دوشیزہ کا نکاح نہ ہوسکا یا کسی مطلقہ یا بیوہ عورت نے نکاح کی خواہش کی ہو اور وہ بیٹھی رہ گئی ہو یا کوئی نوجوان نکاح کا خواہشمند رہا ہو اور اسے لڑکی نہ ملی ہو۔

لیکن عہد حاضر میں ہندوستان اور پاکستان میں دیگر اہل مذاہب کے اثرات کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی نکاح کرنا بہت گراں بار ہو گیا ہے۔جہیز، تلک، بارات، جوڑے گھوڑے، نقد رقم کے مطالبے،پرتکلف دعوتوں پر آسائش ولیمہ،مہنگے ہوٹلوں اور عالی شان شادی خانوں میں تقریبات کے انعقاد کی وجہ سے غریب لوگ اپنی بیٹیوں کے نکاح کی ہمت نہیں کر پاتے۔

چنانچہ بہت سی دوشیزہ بن بیاہی بیٹھی رہ جاتی ہیں اور جن کے نکاح ہو جاتے ہیں وہ سسرال میں اپنی غربت کے طعنے سنتی ہیں۔بہت سے غریب لوگ قرض لے کر اپنی بیٹیوں کا نکاح کرتے ہیں اور یہ قرض ادا کرتے کرتے انکی زندگی تمام ہو جاتی ہے۔

عزیز ساتھیو! ان تمام چیزوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے بہت سے ادارے، بورڈ، تنظیمیں اور جماعتیں عرصے سے اصلاح معاشرے کی کوشش کر رہی ہیں۔لیکن ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں کیونکہ تحریک چلانے والے خود جب اپنے بیٹیوں یا بیٹوں کا نکاح کرتے ہیں تو اس میں سادگی کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ وہ شادیاں بھی دوسری شادیوں کی طرح نام ونمود دکھاوا، فضول خرچی اور بےجا اسراف کا نمونہ پیش کرتی ہیں جو اسلامی کلچر کے بالکل خلاف ہے۔

اسلئے حدیث رسول میں تاکید کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ "یقیناً سب سے خیر و برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو” اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام مسلمان عہد نبوی کے مطابق نکاح کو آسان بنائیں کیونکہ اس میں ہی ہمارے لئے دین اور دنیا کی کامیابیاں ہیں۔ آخر میں اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب مسلمانوں کو عہد نبوی ﷺ کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

Advertisements