انسانی احساسات، جذبات اور خیالات کی تفصیل لفظ کی مرہونِ منت ہے یہ لفظ ادب کی دونوں قسموں نظم و نثر میں قلیدی درجہ رکھتا ہے۔ لفظ نثر میں بھی اہم ہے لیکن نظم( شاعری) میں اس کی اہمیت کئی اعتبار سے بڑھ جاتی ہے بالخصوص غزلیہ شاعری میں اس بات کا خیال ضروری ہے کہ کیا ذکر نہ کیا جائے۔ غزل کے شعر میں مذکورہ سے زیادہ محذوف پر توجہ ہوتی ہے۔ کو لرز کا کہنا ہے کہ ”الفاظ کی بہترین ترتیب نثر ہے اور بہترین الفاظ کی بہترین ترتیب شعر“ اس لحاظ سے شاعری میں الفاظ کا دروبست خاصہ صبر آزما ہو جاتا ہے، شاعری اور بالخصوص غزل ابہام ،رمز و ایما۔ فصاحت و بلاغت کی معراج پر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ شاعر یا تخلیق کار مبہم لفظیات اور کثیر المعنی تعبیروں کے لیے مجسس رہتا ہے۔ اگر ثقیل لفظی معانی کے جہاں آباد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو غزل میں ایجاز و اختصار کا وصف پیدا ہو سکتا ہے۔ شاعر جہاں تشبیہ، استعارہ، مجاز مرسل اور کنایہ برتنے میں ریاضت سے کام لیتا ہے وہیں وہ صنائع اور بدائع کے ذریعے اپنے کلام میں بلاغت، معنیٰ آ فرینی اور اثر آفرینی کے وصف کے لیے مشرقی اور عالمی ادب کا نہایت اور عرق رریزی سے مطالعہ کرتا ہے۔ بالخصوص علم بدیع میں صنعت تلمیح کا چوں کہ علم بدیع میں تمام صنعتوں میں سب سے زیادہ بلیغ اور وسعت معنی کی خوبی رکھنے والی اگر کوئی صنعت ہے تو وہ ”صنعت تلمیح“ ہے۔ تلمیح کی پر لطف اور پراثر تخلیقی کیفتوں کو اپنے کلام میں لانا کسی ہنر مند شاعر ہی کا کام ہے کسی عام شاعر کے بس کی بات نہیں۔ تلمیح کی تخلیقیت میں ادبی، تاریخی، سماجیاتی، مذہبیاتی( تہذیبی) سیاسی اور مختلف علوم کا شعور درکار ہے۔ تلمیح کا معنی استعارہ ہے لیکن اس اصطلاح ادب میں کلام میں کوئی ایسا لفظ برتنا جس سے کسی تاریخی شخصیت، کردار، واقعہ، قرآن کی کسی آیت حدیث کے کسی حصے یا کسی قصے یا داستان کے جزوی یا کلی حصے کی طرف اشارہ ہو یا کسی علمی، سیاسی ،معاشی، فلسفیانہ اصطلاح کی طرف اشارہ مقصود ہو اس کا دائرہ اس سے بھی وسیع ہے۔ شاعر کے لیے اس کا تخلیقی برتاؤ آسان کام نہیں ہے۔ اوّلاً تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق داستان ، قصے یا حکایت یا کسی شخصیت یا کردار کے کسی جزوی یا کلی حصے سے سامع یا قاری کو واقف کرانا چاہتا ہے۔ ایک یا چند لفظوں کے ذریعے وہ ماضی کے حالات کو سامنے لانے کا متمنی ہوتا ہے یا اس کی طرف متوجہ کرانا چاہتا ہے۔ دوم یہ کہ اس اشارے کو اپنے عہد کے حالات میں لانے کا اس کا مقصد کیا ہے یعنی وہ اپنے زمانے کے ماحول و فضا کا موازنہ اپنے تخیل کے ذریعے کرتا ہے بعد ازیں اسے مؤثر ترین اور بلیغ طرز میں پیش کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ سوم یہ کہ اسے ایسے پیرائے میں تخلیق کرے گا اوّلاً جس سے سامہع یا قاری ایک ذہنی تخیلی جست لگائے اور اپنے دل و دماغ میں خاص اشتعال یا علمی برقی ارتعاش محسوس کرے پھر دفعتاً زمانہ ماضی کی مذکور داستان قصے یا کردار کے اوصاف میں کھو کر لطف اندوز ہو سکے۔ لیکن اس تخیلی یا عقلی جست کی وسعت یہ ہے کہ وہ علمی، ادبی، تاریخی ،تہذیبی، معاشرتی ، تمدنی یا سیاسی اور شخصی وغیرہ دائروں تک پھیلی ہوئی ہو۔ اس ادبی اور شعوری لطف اندازی کے لیے تخلیق کار کو مطالعہ، ریاضت، موازناتی شعور اور لفظیاتی ترسیل و ابلاغ کا ہنر مند انہ استعمال درکار ہے۔ چوں کہ تلمیح کا موضوعاتی دامن متنوع اور وسیع ہے۔ تلمیح تاریخی ،سیاسی، تہذیبی (مذہبی) علمی، ادبی، جغرافیائی، اساطیری، رسمی، عوامی اور فنی وغیرہ موضوعات پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس بات پر نظر رکھنا اہم ہے کہ شاعر کے کلام میں کس نوعیت کی تلمیحات تخلیق ہوئی ہیں۔ اس کا انحصار اس کے کلام میں بھرتی گئی تلمیحات پر ہے۔ شاعر کا رتبہ جس قدر بلند ہوگا اس کے کلام میں بھی تلمیحاتی توسیع اور معیار اتنا ہی گرا ں قدر ہوگا۔ عالمی ادب میں وہ ادب گراں قدر اور وسیع مانا جاتا ہے جس میں متنوع تلمیحاتی چراغ روشن ہوں۔ سید عابد علی عابد تلمیح سے متعلق رقم طراز ہیں :
”تلمیح کے استعمال سے ہمارے ذہن میں تصورات و افکار کا ایک وسیع سلسلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے بہ امدادزمانہ بعض الفاظ و کلمات میں ایسی دلالتیں پیدا ہو جاتی ہیں یا ان سے ایسی کیفیات وابستہ ہو جاتی ہیں کہ تلمیح اشارے سے متعلقہ کوائف و افکار کے تمام پہلو ہماری نظروں کے سامنے اس طرح ابھرتے ہیں کہ رمز و ایما اور اختصار کا وصف ان میں در آتا ہے جو شعر کی اور بالخصوص غزل کی جان ہے۔“
(عابد علی عابد، مقالات عابد، سنگ میل پبلیکیشن لاہور ،ص: 47 اشاعت 1989
صنعت تلمیح خارجی ہیئت میں تو ایک لفظ ہے یا دو چند لفظ ہیں لیکن اس کی پرتوں میں معانی کے جہان ہیں ۔تلمیح میں انسانی سماج کا اجتماع شعور کا کار فرما ہوتا ہے۔ کوئی بھی شاعر یا ادیب اپنی قوم یا اقوام تہذیب یا تہذیبوں اور قدروں کو تلمیح کے ذریعے اس لیے پیش کرتا ہے کہ اس کی قوم اپنی روایات، تہذیب اور قدروں عزیز رکھتی ہے۔ تاکہ اس میں قومی تہذیبی اور علمی اور تاریخی ہیجان پیدا ہو، اس ملی جذبے کے سبب یا تو وہ اپنی عادات و افعال کی اصلاح کریں یا ذہنی اور دلی سرور سے محفوظ ہوں یا پھر شاعر اس لیے اساطیری ، تمثیلی کرداروں کو رمز و ایما کے پیرا ے میں تخلیق کرتا ہے تاکہ دوسری ملل، تہذیب و اقدار سے اس کا موازنہ نہ کر سکے ۔یہ اساطیری، روایتی ،تمثیلی، شخصی اور علمی عناصر ہر تہذیب اور ہر قوم و ملت کے اجتماعی شعور اور لاشعور میں معرج تر نشیں کی طرح رواں ہوتے ہیں۔ بعض تلمیحات، ایمائی، اعتقادی اور تہذیبی علامتوں کے طور پر ادب میں جگہ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی لکھتے ہیں :
”۔۔۔۔۔ان علامتوں کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہے اور جو ہمارے لاشعور کا خارجی انعکاس ہیں اور ہمارے طرز احساس کی تشکیل کرتے ہیں۔۔۔۔ ہماری یہی تہذیبی علامتیں ہمارے جذباتی رجحان کا تعین بھی کرتی ہیں۔ ہماری زندگی کے روحانی سروکاروں، ادب و فن، مذہب اور تہذیب و ثقافت وغیرہ میں ان علامتوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔“
(بحوالہ: قدوس جاوید، اردو شعریات، صفحہ: 26 ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 2023)
اسا طیر ، حکایات، کہانیاں مثالی کردار، شخصیات اور تہذیبی روایتی اقدار وغیرہ ہر قوم کے شعور اور لاشعور میں نسل در نسل سفر کرتی چلی آرہی ہیں۔ اس لیے یہ مشہور بھی ہوتی ہیں اور قوم کا ہر فرد جذباتی طور پر ان سے وابستہ بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی شاعر یا ادیب تلمیح کے پیراے میں اپنی تخلیقات میں اس کی طرف اشارہ کرتا ہے تو ذہن صدیوں کی تاریخی مسافت لمحہ بھر میں طے کر لیتا ہے اور اس کی پر لطف لہروں میں ایک طرف غوطہ زن ہو رہا ہوتا دوسری جانب غور و فکر کی وادیوں میں محو ہو جاتا ہے۔ پروفیسر قدوس جاوید رقم طراز ہیں:
”دراصل تمام بشعور انسانوں کی طرح شاعر کا ذہن بھی لاشعور کا بنیادی سانچا بڑی حد تک وراثت میں پاتا ہے۔ یہ بنیادی لاشعوری سانچے خود دنیا کے لاشعوری تجربوں کے زائدہ ہوتے ہیں جن کے ذریعے انسان خارجی دنیا(آ فاق) کا تجزیہ کرتا ہے ۔“
فرائیڈ نے بھی قوم یا ملت کے لیے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے تمام نسل انسانی کے اجتماعی لاشعور کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
”کسی بھی انسان (شاعر یا ا دیب) کے ذہن میں صرف وہی چیزیں نہیں ہوتی ہیں جو اس کا اپنا تجربہ ہوتی ہیں بل کہ ارتقائے نسل انسانی کی پوری تاریخ میں جو نسلی تجربے ہوئے ہیں وہ بھی اس پیدائش کے اور وراثت میں ملتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کسی بھی شخص/ شاعر کو وراثت میں صرف طبعی رجحانات ہی نہیں ملتے بلکہ اس میں فکری رویے بھی شامل ہوتے ہیں ۔“
(بحوالہ: قدوس جاوید، اردو شعریات، صفحہ 25 )
شعر میں بلا غی اور اختصاری خصوصیات کے لحاظ رکھتے ہوئے ماضی کے معنوی جہان کو آباد کرنے والی اگر کوئی صنعت ہے تو وہ صرف اور صرف ”تلمیح“ ہے۔ تلمیحاتی معنی کی بدولت ذہن انسانی میں تحرک اور روح میں جذباتی ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ اس کے سبب اس کے احساس توانا اور لہو گرم ہو جاتے ہیں ۔یہ قاری /سامع کو پلک جھپکتے ہی صدیوں ماضی میں لے جاتی ہے اور لمحہ بھر میں لوٹانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ شعر / غزل میں اس کے استعمال کے ذریعے حیرت انگیز ایجاز و اختصار کی خوبی پیدا ہوتی ہے اور اس کی بلاغت کا معیار اپنی معراج کو پہنچ جاتا ہے۔ تلمیح کے ذریعے انتقال ذہنی جس سرعت سے عمل میں آتا ہے کسی دوسری صنعت میں یہ وصف موجود نہیں ہے۔ اس کے ذریعے ترسیل و ابلاغ کی جو کامیاب نوعیت برآمد ہو سکتی ہے وہ کسی دوسری صنعت کے ذریعے نہیں آ سکتی۔ تلمیح کی اس خصوصیت کو محسوس کرتے ہوئے عبدالقدوس رسا جاو دانی نے معانی کی کامیاب ا بلاغ و ترسیل کے لیے صنعت تلمیح کو تخلیقی برائے میں ہنر مندی سے برتا ہے۔ انہوں نے قومی/ ملی روایات، تہذیب/ تہذیبوں اور علمی و ادبی اصطلاحات اور اساطیری تلمیحات کو مختلف النوع پیرائے میں برتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کی شاعری میں برتی گئی تلمیحات وسعت کی حامل ہیں۔ ان کی اردو شاعری میں اساطیری، تہذیبی(مذہبی) ، ادبی ، جغرافیائی، معاشرتی، تاریخی، اعتقادی اور رسمی وغیرہ قریب ہر طرح کی تلمیحات کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس بیان اور اسلوب سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رساؔ کا مطالعہ وسیع، شعری ریاضت پختہ اور تہذیبی اور تاریخی شعور بالیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کے تانے بانے میں تلمیحاتی معانی کا ایک رنگا رنگ جہاں آباد نظر آتا ہے۔
تاریخی اور تہذیبی تلمیحات:
رساجاودانی کی شاعری میں تاریخی اور تہذیبی( مذہبی) نوعیت کی تلمیحات ملاحظہ کیجیے جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے یہاں مذہبی/ تہذیبی اور تاریخی بصیرت کس اعلی درجے کی موجود تھی:
از سرِ نو میری مشت خاک سے
عشق کی بنیاد ڈالی جائے گی
(غزل )
محشر یہ کیا دکھایا۔
یہ کیا غضب خدایا
طوفاں یہ کیسا آیا
پانی کہاں سے چھوٹا
یہ کس کا بخت پھوٹا
یا آسماں ٹوٹا
توبہ غضب کا پانی
یہ زور کی روانی
طوفانِ نوح ثانی
(نظم طوفان)
جہاں نور محمد ضوفشا ہو
وہاں کا ذرہ مہر آسماں ہو
قسم معراج کی تم کو ستارو
کہو کس کے قدم کے تم نشاں ہو
(نعت: تاریخی، مذہبی، سوانحی تلمیح)
تیری شفقت نہ تھی محدود مسلمانوں تک
بوج کاندھوں پہ یہودن کا اٹھانے والے
اپنی پوشاک پر پیوند لگائے تو نے
مرحبا خلعت لولاک کے پانے والے
(نعت: تاریخی، مذہبی، سوانحی تلمیح)
نشانِ نور جبین حبیب ہے اس میں
خدارا چاند پہ پردہ تو اے سحاب نہ کر
جو اسیر دامِ ہوس رہا وہ پرندہ صید قفس رہا
جو بھی آرزوؤں کے بس رہا وہ ہو غزنوی تو غلام ہے
(تاریخی، مذہبی تلمیح)
خضر مجھ سے ملیں تو میں پوچھوں
مدعا عمر جاودانی کا
(غزل: تاریخی، تہذیبی (مذہبی) ادبی تلمیح)
ادبی اساطیری تلمیحات:
جس طرح عربی، فارسی،سنسکرت ، ہندی اور اردو کے عظیم شعرا کے یہا ں ادبی اساطیری تلمیحات کا ذخیرہ موجود ہے اس کا بعض نادر حصہ رسا جاودانی کی شعری کائنات میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے ۔یہ تلمیحی پیرایہ ادب کو معیار دیتا، دلچسپ بناتا ہے اور معنی کی تہوں کو سراغ دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ہی تخیلی جست میں حال سے ماضی قریب/ بعید کے عہد کا سفر کرا دیتا ہے۔ اس کی ادبی قوت کے سبب قاری/ سامع اپنے دل و دماغ میں ایک لطف اندوزی کا سیلاب محسوس کرتا ہے اور معانی کی پرتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ تلمیح کی ان متنوع جہتوں dimensions کو ہم رساجاودانی کی شاعری میں ملاحظہ کر سکتے ہیں :
| جا کے کیوں بیٹھوں میں دشت نجد میں قیس کی منزل میری منزل نہیں ہر زبان پر ہے قصہ مجنوں کتنی دلچسپ یہ کہانی ہے کوہکن سا چاہیے مزدور ِعشق جانِ شیریں جو کہ دیدے کام پر عشق ہرگز حسن کی بیداد کے قابل نہ تھا تیشہ شیریں سرِ فرہاد کے قابل نہ تھا اے رساؔ اپنی اپنی قسمت ہے قیس کو کاسا جم کو جام دیا مجنوں کے جذب عشق کی تاثیر مٹ گئی اب سوئے نجد ناقہ لیلی ٰ نہ جائے گی تیرے کوچے کا گدا بن کر رسا ؔاس دہر میں جب تلک زندہ رہا زندہ بشان جم رہا منزل ِعشق کچھ نہیں آساں یہاں مجنوں سے لوگ گھبرائے (غزلیات) |
| جو عشق قرین ہوش رہا وہ حسن کی دنیا کیا جانے جو قیس کبھی مجنون بنا نہ وہ الفت لیلیٰ کیا جانے (نظم کیا نے ۔۔۔) |
جغرافیائی تلمیحات:
جغرافیائی تلمیحات میں کسی خاص ملک، شہر، جگہ یا مقام وغیرہ کی طرف اشارہ مقصود ہوتا ہے ایسی تلمیحات کے ذریعے شاعر قاری/ سامع کو مقدس مقامات یا اہم مقامات کے خاص پس منظر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ چوں کہ یہ مقامات اس کی تہذیب تمدن اور اجتماعی شعور کا لاینفک حصہ ہوتے ہیں۔ قاری/ سامع کا ذہن جب کسی خاص مقام کی طرف انتقال کرتا ہے تو وہ تہذیبی ، تمدنی اور جغرافیائی دلچسپی کے سبب دل و دماغ میں ایک پر لطف گدگدی یا جذباتی اور روحانی ارتعاش محسوس کرتا ہے اور اپنے باطن میں ایک خاص قسم کی راحت اور اطمینان محسوس کرتا ہے لیکن یہ استعمال اسی وقت پراثر، معنی آفریں اور لطف آفریں ہو سکتا ہے کہ جب شاعر فن کا رانہ پیرائے میں اسے ایک ہی لمحے میں معنوی اور روحانی جست لگوانے میں کامیاب ہو جائے۔ اس طرح کی تلمیحات کی تخلیق میں رسا جاودانی نے ہنر مندانہ کردار نبھایا ہے اور اپنے کلام میں تخلیق کردہ تلمیحات میں مذکورہ اوصاف کے پیدا کرنے میں کامیاب کوشش کی ہے۔ رسا جاودانی کے یہاں جغرافیائی تلمیحات کی تخلیق کا سحر ملاحظہ کیجیے:
| لو یہ کوتا نظر لوگ یہاں تک پہنچے کعبہ پہنچے تو کہاں تیرے مکاں تک پہنچے ایک ذرے کی کائنات ہے کیا طورِ سینا ہے دیدور کے لیے (غزل ) |
اس ضمن میں رساؔ کی یہ خصوصیت ہے کہ انہوں نے مختلف تہذیبوں کے جغرافیائی مقامات کو اس طرح ذکر کیا ہے کہ تہذیب و معاشرت کی ہم آہنگی اور انسانوں کے لیے ”مذہب و ملت“ کی راہ نکال لی ہے۔ اس حوالے سے ذ یل کے اشعار غور و فکر تہذیبی ہم آہنگی کی عمدہ مثال ہیں:
| طوافِ کعبہ کو جاؤں رہِ بنارس سے خدا سے ملنے کی خاطر بتوں سے ساز کروں (مذہب وحدت ) ایسی بستی ہو جہاں لوگ ہوں سارے انسان کوئی ہندو ہو وہاں اور نہ مسلمان کوئی اک اور الگ مجھ کو کعبے سے بنارس سے اللہ سے ملنے کا رستہ نظر آتا ہے (غزل ) |
اعتقادی اور رسمی تلمیحات:
ان تلمیحات میں قوموں سے متعلق خاص طرح کی لفظیات شامل ہیں جو کسی مخصوص تہذیب سے متعلق ہو ں یا ملی و قومی اعتقادات اور توہمات شامل ہوتے ہیں۔ اس تلمیح کے ذریعے بھی قاری/ سامع اپنی ماضی کی تہذیب میں جھانکتا ہے جس کے سبب اجتماعی شعور کے دیے روشن ہو جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ جست میں ماضی کی گود میں پہنچ کر خود میں خاص قسم کا اطمینان یا اضطراب محسوس کرتا ہے۔ اگر وہ احساسات اور اعتقاد ات اور توہمات مثبت ہوں تو فرحت و شادمانی محسوس کرتا اور اگر منفی تاثر قائم کرے تو اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اضطراب میں مبتلا ہونے کے سبب بسا اوقات متحرک ہو کر اپنی قوم اور تہذیب سے اسے دور کرنے کی سعیِ جمیل کرتا ہے۔ اس طرح کی تلمیحات رسا جاودانی کے کلام میں خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ چوں کہ تلمیحات کی تخلیقیت سے طنز و تعریض کے سُر بھی ابھرتے ہیں ۔ چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
| رسا ؔاس مصحفِ رخ کا بہت مشتاق و مائل ہے نہیں دیکھا ہے ہم نے عاشقی ام الکتاب ایسا حور جنت کے لیے صوم و صلوٰۃ بے حیا زاہد ہے شرماتا نہیں ہے اگر تجھ میں کرامات تو اے شیخ حرم ہم سے بت خانہ نشینوں کو مسلماں کر دے زاہد تو ریا کی نہ عبادت پہ ناز کر دوزخ کے ساتھ تو تیری جنت بدل گئی وعدہ حور اور قیامت کو آدمی یہ فریب کیوں کھائے (غزل) |
| حاجی یہ رساؔ سے کہتے ہیں امسال رسا کعبے کو چلو وہ بت کا پجاری بیچارہ کعبے کی دنیا کیا جانے (نظم: کیا جانے ۔۔۔) |
تلمیحاتی اسلوب پر شاعر کو اسی وقت دسترس حاصل ہو سکتی ہے جب شاعر میں تہذیبی، تاریخی، جغرافیائی اور ادبی شعور اس درجے کا ہو کہ اس کے لاشعور میں اجتماعی لاشعور کلی یا جزوی طور پر موجود ہو ۔جب تک وہ اپنی تہذیب سے رگ و لہو جیسا رشتہ نہیں رکھتا اس کی روح میں تاریخی، ادبی، جغرافیائی اور بالخصوص تہذیبی پہچان پیدا نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ تہذیب یا تہذیبوں کے پیج و تاب کا ذوقِ سلیم نہیں رکھتا ، تب تک یہ تلمیحاتی عناصر اس کے تخیل اور اس کے شعری تخلیق کا حصہ نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک حساس اور دانشور فرد کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنی تہذیب سے اپنی جان کی حد تک دلچسپی رکھتا ہو تو ہی یہ تلمیحاتی رنگا رنگی اور جمالیات اس کی تخلیقات کا لازمی حصہ بن سکتی ہیں۔ اس کی تائید فرائیڈ کے شاگرد ژونگ کے نظریات سے بھی ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں نور الحسن نقوی لکھتے ہیں:
”اس (ژونگ) نے اجتماعی لا شعور کا نظریہ پیش کیا۔ کہتا ہے جس طرح کسی فرد کی زندگی میں اس کا شخصی لاشعور اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرح اجتماعی لاشعور بھی انجانے طور پر کام کرتا رہتا ہے۔ اجتماعی لاشعور ان تجربات کی اجتماعی یاداشت ہے جن سے عالم انسانیت گزرتا ہے۔ یہ تجربات انسانی لاشعور میں محفوظ رہتے ہیں اور ممکن نہیں کہ وقتا ًفوقتاً ان کا اظہار نہ ہو۔ ژونگ دیو مالا اور داستانوں کی اہمیت پر بہت زور دیتا ہے۔ ان کو وہ قوموں کی زندگی میں وہ درجہ دیتا ہے جو خوابوں کو انفرادی زندگی میں حاصل ہے ۔“
(نور الحسن نقوی، فن تنقید اور اردو تنقید نگاری، صفحہ 41 ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ 2011 )
کلام رساؔ کے گہرے مطالعہ اور اس تمام مدلل بحث کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عبدالقدوس رسا جاودانی مرحوم کے شعور اور لاشعور میں ادبی، تاریخی، اساطیری، رسمی اور اعتقادی اور بالخصوص تہذیبی (مذہبی) روایات کا حصہ کس قدر تخلیقی فنکاری کے ساتھ موجزن ہے وہ صرف ایک تہذیب کی خوبیوں کے خواہش مند نہیں بل کہ مختلف النوع تہذیبوں کی ہم آہنگی کے متمنی ہیں۔ تہذیبیں ان کی روح کے جزو لاینفک کی صورت میں ابھرتی ہیں۔ ان روایات، اقدار اور تہذیبوں کا تلمیحاتی پیرائے میں رساجاودانی نے اپنی شعری تخلیقات میں محفوظ کر لیا ہے ۔عالمی ادب کی اہمیت اور گرا قدری عالمی تلمیحات کے ذخیرے کے سبب ہے اور یہ عالمی تلمیحات رسا جاودانی کی شاعری میں کسی حد تک اپنا وجود رکھتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عبد القدوس رساجاودانی کی شعری کائنات تلمیحاتی قدروں سے مالا مال ہے اور اس کا شعور رسا جاودانی کے یہاں اپنی معراج پر ہے ۔
مصدر و مآخذ
- 1. عبد القدوس رسا جاودانی۔ کلیات رسا جاودانی
- 2. نور الحسن نقوی، فن تنقید اور اردو تنقید نگاری، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس علی گڑھ، 2011ء
- 3. قدوس جاوید، اردو شعریات، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 2023
- 4. عابد علی عابد مقالات عابد سنگ میل پبلیکیشنز لاہور 1989ء
| تحریر | ڈاکٹر محمد آصف ملک شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری |