واجد علی شاہ بحیثیت مثنوی نگار

واجد علی شاہ کی پیدائش 30 جولائی 1822ء کو اودھ کے شاہی خاندان میں ہوئی۔ آپ کا پورا نام ابو المنصور سکندر شاہ بادشاہ عادل قیصر زماں سلطان عالم مرزا محمد واجد علی شاہ اختر تھا۔ اپنے والد امجد علی شاہ کے بعد تخت نشین ہوئے۔ 21 ستمبر 1887ء کو کلکتہ میں 65 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔

واجد علی شاہ نہایت رنگین مزاج حکمران تھے۔ وہ صرف اردو کے ہی شاعر نہیں تھے بلکہ آپ کو رقص و سرور کے رموز پر بھی کمال حاصل تھا۔ گانے، ڈرامے، شاعری اور راگ راگنی کے ماہر تھے۔ کتھک رقص کو انہوں نے ازسر نو زندہ کیا تھا۔ رہس، جو گیا، جشن اور اس قسم کی کئی فنون لطیفہ کو آپ نے نہ صرف زندگی دی تھی بلکہ ان کے ماہرین کو بھی لکھنو میں جمع کیا تھا۔ آپ کو یہ رموز استاد باسط خاں، پیارے خاں اور نصیر خاں نے سکھائے تھے۔ ان تمام فنون کی تربیت اور ارتقاء کے لیے انہوں نے لکھنو میں عالی شان قیصر باغ بارہ دری بنوائی جو آج بھی قائم ہے۔ انہوں نے خود کئی نئے راگ اور راگنیوں کی ایجاد کی۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے تمام رموز پر الگ الگ کتابچے بھی لکھے تھے جن کی تعداد سو سے بھی زیادہ تھی۔ اس لیے وہ کہتے ہیں:

پدر کی نیابت تھی مجھ کو سپرد
قلم داں کی خدمت تھی مجھ کو سپرد

واجد علی شاہ کی مثنوی حزن اختر میں انہوں نے اپنی زندگی کی ان مصائب و آلام کا نقشہ پیش کیا ہے جن سے وہ تخت و تاج سے معزولی کے بعد لکھنو اور کلکتہ میں دو چار ہوئے تھے۔ گویا یہ مثنوی نواب واجد شاہ کی منظوم آپ بیتی ہے۔ مثنوی حزن اختر کا قدیم نسخہ جس پر مولانا عبدالحلیم شرر کا لکھا ہوا مقدمہ ہے، واجد علی شاہ نے مثنوی حزن اختر 1266 ہجری میں تصنیف کی اور 1276 ہجری میں شائع ہوئی۔

در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تم سفر کرتے ہیں

اس مثنوی میں ان کا لکھنو سے نکلنا، مٹیا برج کا حال، کلکتے کی قید اور تمام رنگ رلیوں کا ماتم وغیرہ سب کچھ موجود ہے۔ یہ آخری زندگی کی المناک داستان جس میں ان کے قید ہونے سے لے کر آخر دنوں تک کے حالات قلمبند ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے بچوں کی پیدائش و وفات، اپنی بیوی نواب خجستہ بیگم کی بے وفائی، اپنی والدہ اور بھائی کی پیرس میں وفات نیز انگریزوں کے ظلم و ستم کا تذکرہ بھی اس میں کیا ہے، جو ان پر قید سے پہلے اور قید میں ہوئے۔ مجموعی طور پر مثنوی بے حد دردناک انداز میں لکھی گئی۔

حزن اختر کی اہمیت صرف یہ نہیں ہے کہ وہ شعری کلام ہے بلکہ اس کا وجود تاریخی حیثیت سے سخت ضروری ہے۔ واجد علی شاہ کے بارے میں یوں تو تاریخ کی کتابوں میں کافی کچھ ملتا ہے مگر اس مثنوی کی اہمیت یہی ہے کہ اسے واجد علی شاہ اختر نے خود لکھا ہے۔ عبدالحلیم شرر نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ:

“واجد علی شاہ کا کلام برا بھلا جو کچھ بھی ہے خاص ان کا ہے۔ اس میں ایک حرف بھی کسی اور کا نہیں۔ بادشاہوں کے یہاں عموماً صاحب کمال شعراء مصنفین ملازمین ہوا کرتے ہیں اور انہیں کا کلام ان شہر یاروں کے نام سے شائع ہوا کرتا ہے۔ بخلاف اس کے واجد علی شاہ کی تصنیفات میں رطب و یابس جو کچھ ہے ان کا ہے اور کسی کا ایک حرف بھی اس میں شامل نہیں” (١٠٢)

مثنوی میں بادشاہ نے التزام رکھا ہے کہ واقعات اور باتیں صحیح اور بے باک نظم کی جائیں۔ گویا بادشاہ اس بات سے آگاہ تھے کہ خود نوشت میں سچائی کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور واقعات کو بے کم و کاست ہی بیان کرنا چاہیے۔ جان عالم اختر نے معزولی کی داستان اور وطن سے ہجرت کے واقعات سے بیشتر جو چند اشعار مثنوی کی تہمت کے طور پر لکھے ہیں وہ اس طرح ہیں:

یہ واجد علی ابن امجد علی
سناتا ہے اب داستاں رنج کی

وہ قصہ سنا جو سراسر ہو سچ
نہ اپنی طرف ہو نہ غیروں کی پچ

وہ قصہ سنا جو گواہی رہی
فقیری میں بھی بادشاہی رہی

وہ قصہ سنا جو بہت ٹھیک ہو
ذرا بھی نہ پھر اس میں تشکیک ہو

اس میں شک نہیں کہ واجد علی شاہ نے جو کچھ اپنے تاریخی واقعات کے متعلق اس مثنوی میں تحریر کیا وہ حقائق پر مبنی ہیں۔ جہاں تک زبان کا تعلق ہے وہ صاف بھی ہے اور معیاری بھی۔ لکھنو کا روزمرہ اور خاص طور پر بیگماتی زبان ان کے ہر مصرعے میں رچی بسی ہے۔

طرز کلام وہی ہے جو اس زمانے میں لکھنو کے شعراء کا عام رنگ تھا۔ رعایت لفظی کا اکثر خیال رکھتے ہیں۔ کلام میں سوز و گداز کی کمی ہے، مگر مثنوی حزن اختر کو پڑھنے سے ان کے درد اور حالت زار کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

واجد علی شاہ نے اس مثنوی میں 78 عنوانات رقم کیے ہیں جو فارسی میں ہیں اور اشعار اردو میں۔ پوری مثنوی تاریخی پہلو لیے ہوئے ہے اور اثر انگیز ہے۔

اس مثنوی میں بادشاہ نے زوال سلطنت اور مختلف جگہوں سے ہوتے ہوئے کلکتہ پہنچنے اور پھر وہاں بھی قید ہونے کے واقعات اور حالات کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اپنی حالت اور وطن کی یاد سبھی کچھ بیان کیا ہے۔ جب انگریزوں نے لکھنو کو اپنے قبضے میں لے لیا تو واجد علی شاہ کو شہر بدر ہونے کے لیے کہا۔ انگریز واجد علی شاہ کو شہر کلکتہ کے مٹیا برج میں منتقل کیا۔ مٹیا برج میں منتقل ہوتے ہی واجد علی شاہ تقریباً ایک سال تک بیمار رہے، ساتھ ہی ان کا علاج ہوتا رہا۔ صحت یابی کے دوسرے دن ہی انگریزوں نے قلعے کو گھیر لیا اور بادشاہ کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کہا اور قصور یہ بتایا کہ سرکار کو شک ہو گیا ہے کہ بادشاہ دوبارہ لکھنو کے بادشاہ بننے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ اس مثنوی میں بادشاہ اور سیکریٹری کے مکالمے سے ایک طرح کا ڈرامائی انداز پیدا ہو گیا ہے:

کہ مجھ سے الہی ہوئی کیا خطا
ہوۓ لاٹ صاحب جو مجھ سے خفا

انہوں نے کہا اتنا معلوم ہے
کہ غیروں کی شرکت کی کچھ دھوم ہے

صرف مذکورہ بالا اشعار ہی میں نہیں بلکہ اس مثنوی میں اور مقامات پر بھی بادشاہ کے رنج و الم اور بے بسی کا اندازہ ہوتا ہے:

دل زار ہونٹوں پہ آ آ گیا
میں گھبرا گیا سخت گھبرا گیا

الہی مجھے قید سے دے نجات
نکلتی نہیں غم سے اب منہ سے بات

بہرحال، بادشاہ کو قلی دروازہ میں آٹھ روز تک قید رکھا گیا اور شرط یہ رکھی گئی کہ ان کے ساتھ صرف آٹھ مصاحبین ہی جائیں گے، لیکن آٹھ روز کے بعد قلعہ میں بادشاہ کو 20 آدمیوں کے ساتھ قید کر دیا گیا جن میں چند نام “کریم بخش، باقر علی چوبدار، محمد شیر خان گولا انداز، مہتمم الدولہ، دیانت الدولہ، ذوالفقار الدولہ، فتح الدولہ، مجاہد الدولہ، کاظم علی میر بیگ، عبدالرزاق، کر بلائی آب خاصہ بردار وغیرہ” شامل ہیں۔
فتح الدولہ برق، ناسخ کے شاگرد تھے اور واجد علی شاہ کے استاد، برق واجد علی شاہ کے ساتھ بہت مخلص تھے۔ انہوں نے اچھے دنوں میں بھی ان کا ساتھ دیا اور جلاوطنی و پریشانی کے دنوں میں بھی ساتھی رہے۔ فتح الدولہ کے انتقال پر واجد علی شاہ نے اپنے درد اور دکھ کا اظہار کچھ اس طرح کیا:

کلیجہ مصیبت سے ہلنے لگا
جگر خار ہے فرقت سے چہلنے لگا

ہوا قید خانے میں غمگین میں اور
مصیبت کے بے ڈھب نظر آئے طور

ہوئی سن چوہتر میں یہ واردات
دہن سے نہ نکلی مری ایک بات

کیا صبر میں نے کلیجے کو تھام
جو تپ نے کیا کام ان کا تمام

“حزن اختر” میں واجد علی شاہ نے اپنی والدہ، بھائی، بھتیجی اور دوسرے بہت سے لوگوں کی
و وفات کا بھی ذکر کیا ہے، ان کی والدہ ملکہ کشور نواب آرا بیگم اور ان کے بھائی مرزا محمد جواد علی جو ان کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے لندن گئے تھے، ان دونوں کا وہیں انتقال ہو گیا۔

مثنوی میں بادشاہ نے ایک مقام پر یہ بھی بتایا ہے کہ کلکتہ میں ان کے محلات اور اولاد وابستگان دامن کا شمار 500 کے قریب تھا۔ 1700 اہل قلم، 500 چوبدار میرے ملازم تھے اور ہم آغوشی کے لیے 70 کے قریب محلات عالیات تھیں:

کروں ساٹھ ستر محل گر شمار
تو ہو جائے پھر اک قلعہ آشکار

اس مثنوی سے واجد علی شاہ کی انسانی دوستی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ وہ ایک بادشاہ رہ چکے تھے، اس کے باوجود انہوں نے اپنی مثنوی میں معاشرے کے کمزور طبقے کا ذکر فراوانی سے کیا ہے۔ مثلاً پوشاک دوز محمدی خانم، کہارقادر بخش، گاڑی پونچھ امام خان، پھوپھا کا مصاحب مجاہد الدولہ، کھانا پکانے والا راحت سلطان، پان کھلانے والا حسینی، پانی پلانے کے لیے کربلائی، چپراسی جمال الدین، حقہ اٹھانے والا شیخ امام، گولا انداز محمد شیر خان، چوبدار محمد باقر، سقہ کریم بخش وغیرہ وغیرہ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت میں کس حد تک وفا تھی۔ انہوں نے ان سب کا نام لکھ کر ان حضرات کا نام دنیا کے لیے محفوظ کر دیا اور آنے والی نسل کے لیے ایک روایت قائم کر دی۔

اگرچہ انگریزوں نے بادشاہ سے ان کی حکومت چھین لی تھی اور ان کو قید و بند کی زندگی پر مجبور کر دیا تھا، لیکن پوری مثنوی میں کہیں انگریزوں سے نفرت کا احساس نہیں ملتا جبکہ ہونا چاہیے تھا کہ جس وقت مثنوی “حزن اختر” لکھی گئی اسی وقت سب سے زیادہ اثر اس کا ہونا چاہیے تھا اور پوری مثنوی میں سب سے زیادہ رنگ اس احساس کا ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس مثنوی میں نفرت یا بےزاری کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اس طرح اس مثنوی سے واجد علی شاہ کی حیات کے بہت سے تاریک گوشے قارئین کے سامنے آتے ہیں۔ اس مثنوی میں جو واقعات اور تاریخیں بیان کی گئی ہیں وہ سب تاریخی اور ادبی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثنوی کی ابتداء میں زیادہ تر تاریخی واقعہ نگاری ہے اور آخری حصے میں ساقی نامہ، فرط جذبات، شاعرانہ سبھی کچھ ہے۔ اس مثنوی سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قادر الکلام شاعر اپنی حیات کو منظوم انداز میں بھی پیش کر سکتا ہے۔ اسی بنا پر اس نامکمل اور مختصر خود نوشت کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

  • Tahaseena Mavinkatti
  • MOB: 7899233086
  • Department of Urdu
  • Bangalore University
  • Bangalore-560056