خود کا دوسروں سے موازنہ

السلام علیکم! روبینہ نے اسکول سے واپسی پر حسبِ معمول غصے میں سب کو سلام کیا۔اس کی امی اور باجی نے مسکرا کر جواب دیا۔ امی جان اسکول میں گزرے دن کا حال پوچھنے لگیں۔ لیکن روبینہ سب کو نظر انداز کر کے کمرے میں چلی گئی۔ روبینہ کے اس بے جا غصے کی عادت سے اس کی امی بہت پریشان رہتی تھیں۔ دراصل اس رویے کی وجہ ہر وقت دوسروں سے اپنا موازنہ تھا۔

اسے لگتا تھا کہ دوسرے مجھ سے بہتر ہیں۔ مجھ میں خامیاں ہیں اور دوسرے شخص میں کوئی خامی نہیں۔ گو وہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی اور ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتی تھی لیکن اس کے چہرے پر خوشی کے آثار کبھی نظر نہ آتے۔ کیونکہ یہاں وہ اپنا موازنہ ان سے کرتی جن کے نمبر اس سے زیادہ آتے تھے۔

آج بھی سالانہ نتیجے کا دن تھا۔ روبینہ اپنی جماعت میں تیسرے نمبر پر آئی لیکن اس کے باوجود وہ اپنی کامیابی پر خوشی سے لطف اندوز نہ ہو سکی۔ گھر آتے ہی وہ دوسروں کو برا بھلا کہنے لگی۔ اساتذہ کو بھی جلی کٹی سنانے لگی۔ اس کی ماں سمجھانے لگیں کہ تم بھلے پہلے نمبر پر نہیں آئی لیکن تم نے بہت اچھے نمبر حاصل کیے ہیں۔ مجھے تم پر فخر ہے۔ تم اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کرو۔ان کو بھی تو دیکھو جو پاس نہ ہو سکے۔

تم ان سب سے بہتر ہو۔ تمھیں اپنی کامیابی پر لطف اندوز ہونا چاہیے؛ نہ کہ دوسرے کی کامیابی جلنا کڑھنا اور خود کو کم تر محسوس کرنا۔ بلکہ تمھیں ان کی خوشی میں بھی شامل ہونا چاہیے۔ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے:
’’اپنے سے کم تر کو دیکھو اور اپنے سے برتر کی طرف نہ دیکھو کیونکہ اس طرح زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ کی کسی نعمت کو حقیر نہیں سمجھو گے۔‘‘
اپنی امی کی بات سن کر روبینہ کا دل نرم پڑ گیا اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور اس نے اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا وعدہ اور عزم کر لیا۔

اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ کبھی خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہیے۔ دوسروں کی خوشیوں میں شامل ہونا چاہیے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو بہت مشکلات میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ تو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ضائع مت کریں۔خوش رہیں خوش رکھیں۔

تحریر محترمہ عائشہ بتول