فاروق نازکی کی شاعری

”شاعری اچھی اور بیش قیمت تجربوں کا حسین، مکمل اور موزوں بیان ہے۔“ دراصل اپنی بنیادی شکل میں خیال بھی تجربہ ہے اور جذبہ بھی۔ یہ تجربہ سستا قسم کا بھی ہوتا ہے اور وقیع اور بیش قیمت بھی، تجربہ نیا بھی ہوتا ہے اور پرانا بھی، شاعری میں اچھا اور قیمتی تجربہ وہی ہوتا ہے جو مشق و مہارت اور ریاض کے بعد شعری زبان میں ڈھلے۔ شاعری کائنات کے رازوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک کہنہ مشق شاعر اپنی شاعری کے ذریعے حسین مجسمے، بولتی ہوئی معنی خیز تصویریں بناتا ہے یہاں تک کہ وہ انسانی اور کائنات کی کیفیات اور معنیات کی تصویریں، پیکر اور نغمگی کی کئی لہریں اپنی شاعری میں ڈھا لیتا ہے۔شاعر پرانا ہو یا نیا وہ اپنے شعری تخیل سے یہ سارے کرشمے اپنی شعری تخلیق میں پیدا کر سکتا ہے۔ بقول کلیم الدین احمد ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”شاعری انسانی کامرانی کی معراج اور انسانی تہذیب و تمدن کے سر کا تاج ہے۔ یہ مادہ پرستی کا نتیجہ ہے کہ شاعری کو خوبصورت لیکن بیکار کھلونا سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں روحانی قدروں کی صحیح قدر معلوم نہیں یہی وجہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی افادیت، مادی افادیت کی ترازو پر تولا جاتا ہے اور شاعری کو ہیچ سمجھا جاتا ہے۔“

دراصل شاعری میں روح کو تسکین دینے کی طاقت موجود ہوتی ہے۔ شاعری سائنس اور فلسفے سے بھی بلند مرتبہ رکھتی ہے۔ سائنس کی کنجی ہے کیسے؟ اور فلسفہ کی کنجی ہے کیوں؟ جب کہ شاعری کیسے اور کیوں کہ جھمیلوں سے الگ رہ کر بلاواسطہ ایک جست میں حقیقت سے دوچار ہونے کا وصف رکھتی ہے۔ نئی اور پرانی شاعری کے فنکار کا تجربہ اور اظہار کئی سطح پر مختلف ہے۔ اگر خالص مکانگی اور زمانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ناقدین نے نئی شاعری سے وہ شاعری مراد لی ہے جو 1955ء کے بعد مختلف ہوئی۔ اس شاعری میں زیادہ تر خوف، تنہائی، کیفیت انتشار اور ذہنی بے چینی کا اظہار ہوا ہے۔ یہ مادی خوشحالی، ذہنی کھوکھلے پن، روحانی دیوالہ پن اور احساسِ بیچارگی کا منظر نامہ ہے۔ نئی حسّی شاعری میں مکانگی سماج اور صنعتی معاشرے میں تنہائی کا احساس جزوی نہیں بل کہ کلی صداقت ہے۔ افراد کی بھیڑ میں فرد تنہا ہے وہ خود کو خلا میں محسوس کرتا ہے۔ عصر حاضر کے فرد کی تنہائی اس کی داخلی تنہائی ہے خارجی نہیں، اگر داخلی سطح پر نظر ڈالی جائے تو عصر حاضر افرا تفری اور انتشار کا عہد ہے۔ روحانی اور اخلاقی قدریں اپنا اساسی مرکز کھو چکی ہیں۔ تہذیبی، مذہبی، اساطیری اور جذباتی روایتیں دم توڑ چکی ہیں۔ لفظ اپنی معنویت سے عاری نظر آتے ہیں اور گفتگو، شاعری اور خطابت ترسیل کی ناکامی کا المیہ بن چکی ہیں یہاں تک کہ لوگ باہمی تعلقات کے باوجود بے تعلق ہیں، اجنبی ہیں، بیگانہ ہیں اور داخلیت کی تہوں میں نادیدہ ابعاد حامل ہیں۔ اسی تخلیقی شعور کے ماحول کے پروردہ فاروق نازکی کی ذات ہے۔ نازکی نہایت حساس ہیں اور اس ماحول کو انہوں نے نہ صرف دیکھا ہے بل کہ محسوس کیا ہے اور جیا ہے۔ شعوری اور غیر شعوری طور پر آج کے یہ مسائل ان کی شاعری کا حصہ بن چکے ہیں۔ فاروق نازکی کا رجحان جدیدیت کا رجحان ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ جموں کشمیر کے شعرا نے جدیدیت کو فیشن یا لایعنیت کے طور پر نہیں لیا بل کہ جدید سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں سے جڑتے ہوئے مسائل کو معنی خیز علامتوں، استعاروں اور جدید لفظیات کے پیرائے میں تجرباتی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات ضرور ہے، نئی شاعری میں فرد حاوی ہے اور خاص طور پر غزل میں۔ نئی غزل میں کلاسکی اور نو کلاسیکی شاعری کے برعکس فرد کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہی صورتحال ہمیں فاروق نازکی کی شاعری میں بھی محسوس ہوتی ہے۔

نئی غزل اور شاعری کی ایک اہم شناخت لہجے کی درستگی اور کرختگی ہے۔ غزلیہ اسلوب کے لیے جس قسم کی نرمی، گھلاوٹ ، ترنم ریزی، سادگی، روانی اور تغزل کو شرط قرار دیا گیا تھا اس طرح کی تمام شرائط سے شعوری گریز کا رجحان کثرت سے نظر آتا ہے۔ یہ صورتحال فاروق نازکی کی غزل اور نظم دونوں میں نظر اتی ہے یہاں تک کہ اکثر ان کی نظمیں غزل کا ابہام لیے ہوئے ہیں۔ ان کی غزل اور نظم میں کہیں کہیں ترسیل کی پیچیدگی کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ ان کا اسلوب زمانے کی پیچیدگی کے سبب تیار ہوا ہے۔ اس کھردرے اسلوب کے کیا محرکات ہو سکتے ہیں اس سے متعلق کئی ناقدین نے اپنے ادبی مطالعے کا نتیجہ پیش کیا ہے۔ اس پر شمس الرحمن فاروقی نے روشنی ڈالی ہے وہ رقم طراز ہیں:
” نیا شاعر قاری کو روایتی طریقہ سے متاثر نہیں کرتا۔ جذباتیت سے نہ اسے مرعوب کرتا ہے لفاظی سے نہ اسے متحیر کرتا ہے شاعری کا عمل اضطراب انگیزی کا عمل ہے۔ اضطراب انگیزی کے اس عمل میں وہ زبان کی روایتی لطافت اور شیرینی کو نظر انداز کر کے ارادی طور پر ایک درست اور بے چین اسلوب اختیار کرتا ہے۔“
(نئے نام، ص: 24) بحوالہ: متن اور معنیاتی نظام، ص: 177)

” نیا شاعر روح عصر وغیرہ جیسے گول مول تصورات کی نمائندگی نہیں کر سکتا لیکن اس کا لب و لہجہ اس طرز اظہار اور خاص کر موضوعات یقیناً بدلے ہوئے ذہنی، عملی، معاشرتی اور نفسیاتی وقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ بات بالکل صحیح ہے اور بار بار دہرائے جانے کے قابل ہے کہ نئی شاعری اس عہد کا محاورہ ہے، اس عہد کا طرز اظہار ہے اور اس عہد کی زبان ہے۔“
(مشمولہ: جدید شاعری کی نمائندہ آوازیں, ص:18)

عمیق حنفی لکھتے ہیں:
” نئی شاعری آج کے انسان کے ادراک اور احساس کا اظہار ہے۔ نیا شاعر اپنی ذات کے وسیلے سے باہر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو قبول کرتا ہے اور اس کے آئینہ رو جذبات پر تندخو اور بلا خیز تبدیلیوں کے جو عکس پڑھتے ہیں انہیں دکھاتا ہے۔ یہ شاعر خود دار ہے اور خود شناسی کے لیے بے قرار ہے اور اس کا قلم غیر شاعرانہ جنبشِ ابرو پر نہیں بلکہ اپنی ذات کے کرب پر رقص کرتا ہے۔“ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جدید ترین شعرا ذہین بھی ہیں اور پڑھے لکھے بھی۔ ان کے پاس تجربات کے سماجی اور نفسیاتی جوازوں کی کمی نہیں۔۔۔۔۔۔“۔۔۔۔۔ پھر بھی اردو کی نئی شاعری سے شعور و احساس کی صورت و سیرت کا واضح تصور قائم کرنا ناممکن نہیں۔“
(مشمولہ: جدید شاعری کی نمائندہ آوازیں ، صفحہ 15-16 از ڈاکٹر محسن جنگالوی)

ناقدین کے مذکورہ بالا اقتباسات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کے شاعر کا متن ایسا سیدھا نہیں کہ بغیر معاصر تنقیدی تربیت اس کی منشا تک پہنچا جا سکے یا بڑی آسانی سے اس کے معانی کے ابعاد تک رسائی حاصل ہو سکے کیونکہ وہ نئے ڈکشن کو بطور استعاروں، علامت، رمز اور نئے عصری تلازمے تخلیق کر چکا ہے۔ اس لیے آج کے شاعر کا کلام اول قرأت میں اجنبی، کھردرا اورکبھی کبھی پھیکا سا محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے کلام کو اگر اس کے علمی شعوری اور اس کے پیچیدہ مسائل کے تناظر میں دیکھا جائے اور اس کی لفظیاتی شکلوں سے اس کے متن کے باطن کا شکار کیا جائے تو معنی کے کئی ابعاد کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فاروق نازکی بھی ایسا ہی ایک اہم شاعر ہے۔ اس کا کلام اول قرأت میں کوئی معنوی یا جذباتی اپیل نہیں کرتا ہے لیکن صبر آزما طریقے سے اس کے متن کی تہوں میں اترنے کی ضرورت ہے۔

فاروق نازکی کی شعری کائنات میں دیکھیے کہ کیسے مقامی تہذیب و ثقافت اور مقامی لفظیات میں مقامی اور بین الاقوامی مسائل کو نئے لب و لہجے اور کس قدر کرخت اسلوب میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے ان شعروں میں تفصیل کامیاب ہے لیکن ابلاغ عصری تنقیدی تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک چہرے میں کئی چہروں کا عکس بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان کے اشعار میں خارجی اور داخلی کائنات کس قدر متضاد نظر آتی ہے یہ دیکھنے کی چیز ہے۔ یہ دراصل عصری حسیت کا قرب ہے۔ اس پیچیدہ عہد کی خصوصیات فاروق نازکی کے ان شعروں میں ملاحظہ کریں:

دریائے خونِ خلق میں تیرے گا آدمی
اسی کا خیال اس کا گماں کس کو کب رہا

برگِ چنار اب کے حنا سے تہی رہے
رنگ خزاں بھی اب کے برس کچھ عجب رہا

جاتی رہی چنار کے پتوں کی سرخیاں
جاڑے کا زور شہر کو ویراں کر گیا

یہ لوگ ذہن میں کانٹے بچھائے بیٹھے ہیں
اگرچہ پھول ہی وجہ سوال ٹھہرا ہے

اسی نے سب کے رگ وپے میں زہر گھول دیا
وہ ایک شخص جو شیریں مقال ٹھہرا ہے

نسیم باغ میں سنتے تھے جو منڈیروں پر
وہ گیت موت سے پہلے مجھے سنائے گی

مجھ کو مجھ سے دور کیا
نام نہ لو ہرجائی کا
بے خوابی ہی بے خوابی
حر جانا تنہائی کا

قدم قدم پر ہے موت رقصاں
میں جی رہا ہوں تیری دعا ہے
تمہاری دنیا آب و گل میں
ہر ایک موسم گریز پا ہے

فاروق نازکی اس برق رفتار صبح و شام جدید تیز ترین ترقی کے تو قائل ہیں کہ خارجی طور پر ایجاد کی تمام برکات انسانیت کو حاصل ہے لیکن یہ ہماری خارجی ضرورتوں ، حاجتوں اور آسائشوں کے لیے تو بہت کچھ ہیں لیکن خارج سے بڑھ کر میں ایک باطن ہوں، میری باطنی کائنات ان برکات سے آسودہ نہیں ہو سکتی۔ روحانی تشنگی تو ان ایجادات کی برکات سے بجھ نہیں سکتی۔ روح کی پیاس بجھانے کے لیے تو روحانی شخصیت درکار ہے اس کے لیے کسی پیغمبر کی ضرورت ہے اور افسوس کہ وہ اب نہیں آتا۔ ہے روح کی اسی تشنگی کو فاروق نازگی کے ایک معاصر شاعر پنڈت ودیا رتن عاصی نے بھی شدت سے محسوس کرتے ہوئے کہا تھا :

روح کی پیاس ہے لفظوں سے کیا بجھتی ہے
بند کرو یہ صحیفے یہ کتابیں اپنی

عاصی نے اس کو جذباتی پیرائے میں پیش کیا تھا لیکن اس احساس کو فاروق نازکی نے عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر اور قلبی بے چینی کے امتزاج سے اسے شعر میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے ساتھ ہی زندگی کی مشکلات کو نئی لفظیات اور اسلوب میں ڈھالا ہے۔ مظلوم کو پیڑ کی علامت اور ظالم کو ہوا کی علامت سے تعبیر کیا ہے۔ یہ خاص طور پر نئے شاعر کی شناخت ہے۔ فاروق نازکی کے نئے لہجے، نئے اسلوب اور نئی لفظیات کا تانا بانا ملاحظہ کیجئے:

ایجاد کے اس دور کا ایک اور کرشمہ
آنے کو سبھی آئے پیغمبر نہیں آئے

جس راہ پہ نکلے تھے اسی پر رہے قائم
ایسا نہیں کہ سامنے پتھر نہیں آئے

گلشن میں کٹی پیڑ ابھی تک ہیں سلامت
اب کے ہوا کے ہاتھ میں خنجر نہیں آئے

فاروق نازکی کی جدید لفظیات کے استعمال پر شعوری طور پر اصرار کرتے ہیں ایسا نہیں ہے کہ ان کی شاعری میں یہ لفظیات محض روایتی یا تقلیدی طور پر شامل ہیں بل کہ فاروق نازکی کی نہایت سنجیدگی سے نئی لفظیات، شعوری طور پر اختراع کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ پرانی لفظیات اور روایتی خیالات کو جھوٹی باتوں کی اتران قرار دیتے ہیں، باسی لفظیات اور روایتی اسلوب کو مٹی میں گارڈ دینے کی بات کرتے ہیں۔ جدید لفظیات کا ان کے یہاں کیا نظریہ ہے اور جدید لفظیات کو انہوں نے کس طرح برتا ہے اس فن کو ہم ان کے ذیل کے اشعار میں دیکھ سکتے ہیں:

باسی شبدوں کے پیکر
گاڑو مٹی کے اندر

جھوٹی باتوں کی اترن
بکتی ہے چوراہے پر

چہرہ مسہرہ خال و خط
تصویروں کے خالی گھر

لکھ دے سب کچھ میرے نام
دریا، طوفان اور بھنور

فاروق نازکی کی شاعری میں حصار ذات، بے چہرگی ، محبت کا جدید تجربہ، عصری سفاکیت کے لیے برتی گئی نئی لفظیات ”رات“، ”جنگل“ ، سناٹے“ ، ”تیرگی“ ، ”ریت کا گھر“ ، ”بدن کی زبان“ ، ”ناؤ کاغذ کی“ ، ”انسان کا خدا“ ، ” دیوار بدن“ ، ” بہنتے پانی پہ لکھا“ ایک خاص اور نئی ترسیل کی راہ ہموار کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔نے شاعر کے یہاں جذبات کا وفور نہیں بلکہ اس کے جذبات پر محفل و فہم کا پہرہ لگا ہوا ہے۔ کیوں کہ اعلی تعلیم کا حامل دماغ رکھتا ہے لہذا اس کا لہجہ رواں اور سلیس کم ہے۔ نئی لفظیات کے سبب اسلوب اجنبی سا معلوم ہوتا ہے لیکن جب قاری اسے اپنی ارضیت، عصری حسیتت اور اپنی ذات کی داخلی کائنات میں ضم کر کے دیکھتا ہے تو اسے آج کے شاعر کے یہاں جانے پہچانے کردار، جانی پہچانی کیفیات اور اپنے گرد و پیش بکھرے ہوئے مسائل نظر آتے ہیں۔ اس طرح آج کے شاعر کی برتی گئی لفظیات میں مانوس ترسیلیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ یہ خصوصیات فاروق نازکی کی شاعری کی پہچان ہیں۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے:

مضمون ہے یا صورتِ عنوان نما ہے
وہ پردہ معنی میں بدستور چھپا ہے

ہر چند رہا ساتھ میرے سائے کی مانند
وہ شخص اشارہ نہ ادا ہے نہ صدا ہے

کل رات اکیلے میں میرے کان میں بولا
وہ غیر نہیں آج کے انسان کا خدا ہے

——–

اپنی دیوار بدن ہم سے کبھی سر نہ ہوئی
ساتھ رہ کر جو رہے خود سے جدا ہم ہی تھے

یوں ہی کر لیتے ہیں اوقات بسر اپنا کیا؟
اپنے ہی شہر میں ہیں شہر بدر اپنا کیا ؟

تجھ سے اب اذن تکلم بھی اگر مل جائے
لب ہلیں یا نہ ہلیں آنکھ ہو تر اپنا کیا ؟

وہ جو فاروق کا مسکن تھا کنارہ دریا
اب وہاں پر ہے کھڑا ریت کا گھر اپنا کیا ؟

وہ شخص میرے بدن کی زبان سمجھتا ہے
سکوت جس کا کہ حسن کمال ٹھہرا ہے

________

کیا یہ سچ ہے جھیلوں کا
بدل گیا ہے پانی لکھ

رات جنگل مصیب سناٹا
اب یہاں تیرگی ہی اترے گی

رانی آدم خور ہے کیا ؟
شہر کا راجہ رانی لکھ

بہتے پانی پہ کس نے لکھا ہے
ناؤ کاغذ کی پار اترے گی

خون میں لت پت وادی ہے
کوئی شعر سہانا لکھ

دن پر بھی چھا جاتی ہے
رات کی ویرانی لکھ
———-

اچھی شاعری میں تین چیزیں بیک وقت قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور وہ تینوں چیزیں اپنے فنی جمال میں قاری پر اپنے فنی جمال اور ساحرانہ اثرات مرتسم کرتی ہیں۔ وہ تین عناصر ہیں موسیقی، مصوری اور شعریت۔ شاعری میں جب یہ تینوں عناصر موجود ہوں تو شاعری اپنی جمالیات کا سحر اپنے قاری اور سامع پر کر دیتی ہے۔ تمثیل، استعارہ اور تشبیہ سے شاعری میں نقوش ابھرتے ہیں جس کو ہم مصوری بھی کہتے ہیں، پیکر بھی کہتے ہیں اور محاکات سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ وزن سے شاعری میں آہنگ پیدا ہوتا ہے جس سے شاعری میں ترنم کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جب نقش یا تصویریں حرکی ہوتی ہیں اور ترنم کے زیر و بم میں شامل ہوتی ہیں تو قاری اور سامع کا بدن رقص کی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔ لیکن جب عقل کی کار فرمائی کے ساتھ ساتھ شعریت کا عنصر معانی نادرہ کے ذریعے غالب آ جائے تو ادراک و بصیرت کے در کھلنے لگتے ہیں۔ آج کے شاعر کے یہاں جدید ترسیل کے سبب آہنگ میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے سبب سحر کی کیفیت کمزور اور لہجے کی درستگی بڑھ گئی ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آج کے شاعر کے یہاں تشبیہات اور استعارات کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی جگہ مبہم لفظیات یا علامت گری نے لے لی ہے۔ فاروق نازکی کے یہاں جہاں تخیل کی پاکیزگی، مہذب خیال کی فراوانی دیکھنے کو ملتی ہے وہیں ان کی شاعری میں تمثیل، نقوش اور کیفیات و خیالات کی نئی نئی تصویریں ابھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ محاکات کا ایک انوکھا گروہ در گروہ نظر آتا ہے لیکن ان کی شاعری میں آہنگ اور ترنم کی کمی ضرور کھلتی ہے۔ یہ دراصل آج کے زمانے اور انسان کا المیہ ہے جس سے اغراض یا گریز فاروق نازکی کے لیے ناممکن ہے۔ اس حوالے سے نازکی صاحب کے بعض اشعار ملاحظہ کیجئے:

کس طرح روک سکوں دست جفا کیش بتا
دستِ مجبور ہیں ٹوٹا ہوا خنجر ہوں میں

تو مجھے بھیڑ میں پہچان سکے گا کیسے
اپنی پرچھائیں سے چھوٹا ہوا پیکر ہوں میں

نہ کوئی سایہ نہ کوئی چشمہ
یہ قافلہ کیوں یہاں رکا ہے

سویرے اٹھتا تو دیکھ لیتا
کہ اک ستارہ سحر رونما ہے

نہ مجھ پہ سایہ کسی شجر کا
نہ میرے سر پر کوئی ردا ہے

نہ احتیاط نہ تدبیر کوئی کام آئی
وہ جس پہ تکیہ کیا مارے آستیں ٹھہرا

جہاں گماں گزرتا تیرے آنے کا
دل غریب بھی شاید وہیں کہیں ٹھہرا

سیلاب کے ڈر سے جو پہاڑوں میں چھپے تھے
وہ لوگ پہاڑوں سے اتر کر نہیں آئے

جوان موسم کی شاہزادی
شجر شجر بے لباس رہنا

فاروق نازکی نے اپنی غزل میں قوافی کی ندرت بھی پیدا کی ہے۔ انہوں نے قوافی کو ردیف کے ساتھ اس طرح معنوی ربط اور لفظی حصہ بنایا ہے کہ ردیف اور قافیہ کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ حربہ قابل دار ہے۔ان کے یہاں ردیف محض ردیف، ردیف برائے ردیف نہیں بل کہ قافیہ اور ردیف دونوں مل کر معنیٰ کی تکمیلیت کا سبب بنتے ہیں۔ ان کی یہ خوبی ان کو استاد شعرا کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ بعض شعرا کے یہاں ردیف غزل میں محض پازیب کا کام کرتی ہے لیکن یہ نیا شاعر ہے جو آہنگ ، ترنم سے زیادہ فکر پر عملی اصرار کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس ردیف کے سبب ان کی غزل میں آہنگ یا ترنم نہیں، ترنم موجود ہے بل کہ ان کی غزلوں میں خوب ہے لیکن ترنم کے ساتھ ردیف جس طرح قافیہ کے ساتھ مل کر فکر کو بیدار کرتی ہے یا بصیرت کا در کھلتا ہے تو آہنگ کی طرف قاری زیادہ متوجہ نہیں ہوتا۔ ان خصوصیات کے چند اشعار پڑھیے اور ان کے قوافی اور ردیف کے فکری اور مترنم جمال سے لطف لیجیے:

باہر سے جو بھی آیا پریشان کر گیا
ہم کو ہمارے گھر میں ہراساں کر گیا

جاتی رہی چنار کے پتوں کی سرخیاں
جاڑے کا زور شہر کو ویراں کر گیا

گردن پہ اس کے یوں تو ہزاروں کا خون تھا
ماتھے پہ میرے داغ جو چسپاں کر گیا

مدام ساغر کے پاس رہنا
مگر سبو ناشناس رہنا

ہماری عادت سی بن گئی ہے
کسی سبب سے اداس رہنا

ہمیں تو اب اضطراب میں بھی
بر لگے بدحواس رہنا

یقیں کی شمعیں جلا بجھا کر
شریکِ بزم میں قیاس رہنا

یہ شب بہت معتبر نہیں ہے
جو ہو سکے آس پاس رہنا

نیا شاعر جہاں نئی لفظیات اور لفظیات کے نئے سیاق و سباق تخلیق کرتا ہے وہیں وہ کہیں روایتی وسائل شعری کا استعمال بھی کرتا ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ ان شعری وسائل کے برتاؤ میں اس کا سیاق و سباق اس طرح کرتا ہے اس کا اظہار بیان نیا اور کبھی کبھی اجنبی سا لگتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال فاروق نازکی کی شاعری میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ وہ صنعت تضاد، تکرار والی اضافات لفظی مناسبات اور تلمیح وغیرہ شعری وسائل کا برتاؤ تو کرتے ہیں لیکن ان شعری وسائل کے سیاق و سباق کو اس طرح خلق کرتے ہیں کہ وہ نئی شاعری کا شناخت نامہ معلوم ہوتا ہے۔ کہیں کہیں لہجہ کھردرا اور اجنبی سا لگتا ہے اور روایتی طبیعتوں کو الجھن سی ہونے لگتی ہے لیکن وہ نئی ترسیل میں کہیں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کہیں ترسیل شعریت کے مطابق اپنی طرف متوجہ کرنے میں کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس خصوصیت کے بعض اشعار ملاحظہ کیجئے:

اگ بستی میں لگا دی پہ یہ سوچا ہی نہیں
اگ تو اگ ہے اب گھر کو بچائیں کیسے

خون سے کربلا کے دامن پر
نوک مژگاں کے نام حق لکھنا

اس کی آنکھیں ہیں کہ ویرانے کی شام
دیکھتے ہی دیکھتے اندھا ہو گیا

پاسِ ناموس نگارانِ جہاں ہے ورنہ
ہم بھی اس شوخ کی تشہیر کا دم رکھتے ہیں

ہم سے شبنم نے بھی رونے کی ادا پائی ہے
ہم کہ جو شام و سحر آنکھ کو نم رکھتے ہیں

خاموشی سے خاموشی تک
کتنے ہیں درجات سنانا

فاروق نازکی نے نظمیں بھی کہی ہیں۔ ان کی نظموں میں ابہامی کیفیت حاوی نظر آتی ہے۔ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ان کی نظموں پر ان کی غزل کا ابہام چھایا رہتا ہے۔ بعض نظمیں تو ایسی ہیں جن کے مرکزی خیال اور مدعے تک پہنچنا آسان نہیں ہے بل کہ خاصی ذہنی کاوش کے بعد رسائی ہو سکتی ہے اور بعض نظمیں تو اجنبی سی معلوم ہوتی ہیں۔ عام قاری کے لیے ان کی مراد تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے حالانکہ فنکار جو تخلیق کرتا ہے اس کی کوشش رہتی ہے کہ اس کی ترسیل کامیاب ہو اور ہر خاص و عام تک اس کی ترسیل بآسانی ممکن ہو لیکن ایسا ان کی ہر نظم کے لیے نہیں کہا جا سکتا۔ بعض نظمیں ایسی بھی ہیں جو اپنی ابتدا، وسط اور انتہا تک اپنے ارتقا کی اؤر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ان کی دو مختصر سی نظمیں یہاں ملاحظہ کیجئیے:

اعتراف

  • مجھ کو سولی پہ چڑھا دو مجھے سنگسار کرو
  • میرے ہونٹوں کے دریچے کو مقفل کر دو
  • میری آنکھوں کی بصارت کے دیے گل کر دو
  • میرے کانوں میں پگھلتا ہوا سیسہ بھر دو
  • میں نے چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش کی ہے
  • ڈوبتے چاند کو گرنے سے بچایا تم نے!

یادِ ماضی

  • وہ دن یاد نہیں کیا تم کو
  • جب ہم دونوں رات گئے تک
  • نہ جانے کے اندھیاروں میں
  • سلوٹ سلوٹ ٹاٹ پہ لیٹے
  • اک دوجے کو کاٹ رہے تھے
  • اندھیارے کی چادر اوڑھے
  • چھپ جانے کی بنتی کرتے
  • اور پھر ڈرتے ڈرتے ہاتھ اٹھا کر
  • دونوں کہتے بار خدایا پاپ نوار

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فاروق نازکی جموں کشمیر میں نئی شاعری کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں کلاسکی شاعری کے برعکس نئے ڈکشن کو عام کرنے میں اپنا اہم رول ادا کیا ہے۔ نئی شاعری نے اپنے اشارات، کنایات، علامات، استعارات میں ثقافتی، سماجی اور تمدنی تقاضوں کے مطابق اختراع کیے ہیں۔ ان نئے اختراعات کے اثرات فاروق نازکی کی شاعری میں نمایاں نظر آتے ہیں جن کے سبب یہاں کی سماجی و سیاسی زندگی کے زیر اثر ان کی لفظی اور معنوی سطح کا رنگ اور روپ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ اس نئی ترسیل کے سبب فاروق نازکی کا اسلوب کہیں کہیں درشت اور تلخ ضرور ہوا ہے لیکن یہ اس عہد کا دراصل شناخت نامہ ہے جس سے نیا فنکار آنکھیں نہیں موند سکتا۔

مصادر

  • 1. فاروق نازکی: یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
  • 2. ڈاکٹر محسن جلگانوی: جدید شاعری کی نمائندہ آوازیں
  • 3. پروفیسر ارتضیٰ کریم : انتخاب غزلیات
  • 4. پروفیسر نور الحسن نقوی: فن تنقید اور اردو تنقید نگاری
  • 5. معید الرحمن: متن اور معنیاتی نظام
  • 6. محمد اشرف تاک اور سلیم سالک: ہم عصر شعری انتخاب نمبر
تحریرڈاکٹر محمد آصف ملک علیمی
26 مئی 2024