مہاراجہ رنبیر سنگھ کا اہم کارنامہ دارالترجمہ

مہاراجہ رنبیر سنگھ، مہاراجہ گلاب سنگھ کا ولی عہد ذہین، بالغ النظر ، علم و ادب دوست، علم نواز، دور اندیش اور شاہانہ مزاج صاحبزادہ تھا۔ مہاراجہ گلاب سنگھ نے اپنے راج کمار کی تربیت نہایت احسن طریقے سے کی تھی۔ مہاراجہ نے رنبیر سنگھ کی تربیت کے لیے انہیں مختلف حکومتی محکموں سے متعلق رکھا تھا۔ گلاب سنگھ نے جب نظم و نسق کے کارناموں سے کنارہ کشی کی تو رنبیر سنگھ نے براہ راست یہ کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے یہاں تک کہ گلاب سنگھ کی وفات تک وہ اپنے بیٹے رنبیر سنگھ کو اہم امور میں مشورے اور ہدایت سے نوازتے رہے۔ باپ کے انتقال کے بعد حالات کے تقاضے کے مطابق نظم و نسق میں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چناں چہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے زمانے میں ریاست کے نظم و نسق کو برطانوی ہند کے معیاروں پر لانے کی کوشش کا آغاز ہو گیا۔ پنڈت اننت رام شاستری اپنے ایک مضمون ”ریاست میں سنسکرت ادب کا ارتقا“ مشمولہ شیرازہ شمارہ مارچ 1962 میں لکھتے ہیں:
” انیسویں صدی میں ریاست جموں و کشمیر میں ادبی ارتقا پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس صدی کا پہلا نصف حصہ نسبتاً تاریک ہے۔ 1857ء میں جب مہاراجہ رنبیر سنگھ گدی نشین ہوئے اسی وقت سے ریاست میں ادبی یُگ کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ مہاراجہ بہادر کو تعلیم اور ادب سے بے حد دلچسپی تھی۔“
(ص: 112)

مہاراجہ رنبیر سنگھ جدید ذہن کا مالک تھا۔ علوم و فنون سے گہری دلچسپی تھی اور انگریز عہد داروں سے رسم و روابط بھی تھے۔ برطانوی ہندوستان میں نئے علوم و فنون کی تعلیم شروع ہو گئی تھی۔ فورٹ ولیم کالج اور دلی کالج کے علاوہ سرسید کی سائنٹیفک سوسائٹی جدید درس و تدریس پر مصر تھیں اور نئی شاعری کے لیے انجمن پنجاب، اس کے گہرے اثرات ریاست جموں و کشمیر اور مہاراجہ رنبیر سنگھ پر ہو رہے تھے۔ کیوں کہ جن علوم و فنون کی ترویج اور درباری رکھ رکھاؤ اور رعب و داب کا جو طریقہ ہندوستان میں رائج تھا ریاست اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتی تھی۔ یہاں بھی جدید ذہن موجود تھے لہذا انہوں نے بھی وہی تعلیم کے ذریعے رائج کیے جو ہندوستان میں رائج ہو چکے تھے یا ہو رہے تھے۔ اس میں ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ ہندوستان میں درس و تدریس اور تعلیم و تربیت اردو زبان میں ہو رہی تھی۔ ریاست میں بھی اب فارسی افادی زبان نہیں رہ گئی تھی، مہاراجہ نے عہد کے تقاضوں اور ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اردو کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا شروع کر دیا تھا۔ اب ریاست کے مدرسوں میں ہندوستانی نصابِ تعلیم کے مطابق اردو میں کتابیں پڑھائی جا رہی تھیں۔ عربی اور فارسی مدارس اور سکولوں میں ذریعہ تعلیم کے طور پر اردو زبان رائج ہو چکی تھی۔ ریاست کے تعلیم یافتہ لوگ بھی فارسی سے خوب واقف تھے اس لیے ان کے لیے اردو میں تعلیم و تدریس کا کام انسان تھا۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے علوم و فنون کی ترویج کرنے اور انہیں مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لیے اردو اور بعض دوسری مقامی زبانوں میں منتقل کرنے کے لیے ایک اہم کارنامہ انجام دیا کہ اس نے ایک متہم بالشان دارالترجمہ قائم کیا۔ حالاں کہ مہاراجہ کے اور اہم کارناموں میں ریاست میں پارٹ شالہ، سنسکرت لائبریری کا قیام اور مختلف المذاہب کے علماء کو اپنے دربار میں جمع کرنا اور فکری، تہذیبی اور علمی ہم آہنگی کی فضا قائم کرنا بھی تھا لیکن دارالترجمہ اپنی ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ پروفیسر عبدالقادر سروری لکھتے ہیں کہ:
” مہاراجہ رنبیر سنگھ کی یہ ساری دلچسپیاں ریاست میں اردو کا ذوق پیدا کرنے کے سلسلے میں اہمیت رکھتی ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ متہم بالشان کارنامہ ان کا قائم کیا ہوا دارالجمہ یا محکمہ تالیف و ترجمہ تھا جو مغربی علوم کو ریاست کی زبانوں اور خاص طور پر اردو میں منتقل کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔“
(کشمیر میں اردو حصہ دوم، ص: 81)
ناشر: جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز 1983ء سرینگر)

دارالترجمہ کے قیام کے ساتھ ہی یہ مسئلہ بھی پیشِ نظر رہا کہ قدیم علوم و فنون سے ہم نئے علوم و فنون کی جانب بڑھ تو رہے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں اچھے پڑھے لکھے علماء وفضلا کی ضرورت ہے۔ جس طرح کے پڑھے لکھے لوگوں کو انہوں نے اپنے دربار میں جمع کر رکھا تھا ان میں دو تین سنسکرت علماء کے سوا دیگر اوسط معیار کے تعلیم یافتہ تھے جس کے سبب علم و فضل کے اگلے معیار قائم نہیں کیے جا سکتے تھے۔ اس لیے رنبیر سنگھ کے وہ علماء جنہیں اکبر کی اتباع میں بعض وقت ’نورتن‘ کہا گیا تھا، علم و دانائی کی تمام آب و تاب نہیں رکھتے تھے اس کے باوجود مہاراجہ رنبیر سنگھ کی یہ کوشش رہی کہ سارے علما اردو سے واقف ہیں ان سے کس حد تک کام لیا جا سکتا ہے۔مہاراجہ کے نو رتنوں میں عبدالقادر سروری کے مطابق دیوان کریا رام، ڈاکٹر بخشی رام، پنڈت گنیش کول شاستری، پنڈت صاحب رام، مولوی غلام حسین طالب لکھنوی، مولوی عبداللہ مجتہد العصر، حکیم ولی اللہ شاہ لکھنوی، حکیم نورالدین قادیانی اور بابو نصر اللہ عیسائی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض نے اردو میں تصنیف و تالیف پیش کیں لیکن ترجمہ کرنے کے لیے انہوں نے مزید اہل علم و فضل کو جمع کیا۔ جن میں مفتی اعظم محمد شریف الدین، حکیم فدا محمد خان، فضل الدین، لالہ وسنت رائے (بسنت رائے)، غلام غوث خان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

پروفیسر عبدالقادر سروری کے مطابق: ریاست کے طالبان علم کی دسترس میں نئے علوم پہنچانے کے لیے محکمہ تراجم کی جانب سے اردو میں بہت سی علمی کتابوں کے ترجمے کیے گئے۔ محکمہ تراجم مہاراجہ رنبیر گنج کے نشینی علاقے جہلم کے کنارے اس عمارت میں قائم کیا گیا تھا جہاں اب ہسپتال ہے۔“
دارالترجمہ کے ناظم پنڈت گوبند کول تھے۔ مولانا محمد عزیز الدین مفتی اعظم اس کے صدر تھے۔ ان کے فرزند مفتی اعظم محمد شریف الدین بھی مترجمین میں شامل تھے۔ عبدالقادر سروری کے مطابق ان مترجم کتابوں میں علم طب سے متعلق ترجمہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ طب میں میٹریا مڈیکا ایٹیالوجی ، علم تشریح، اردیہ، علم قافیہ اور امراض اطفال پر مشتمل کئی مخطوطے ہیں۔ طب کے علاوہ ایک دو ترجمے علم حرف اور فوجی علوم سے متعلق ہیں۔ تاریخ اور سوانح پر بھی ایک دو مخطوطے موجود ہیں۔ ایک رسالہ منطق پر اور کارآمد فنون میں کاغذ سازی اور باورچی گری پر بھی رسالوں کے ترجمے ہوئے تھے۔

اب ہم یہاں پر اس دار الترجمہ سے متعلق بعض اہم کتابوں کا ذکر کرتے ہیں جس سے مہاراجہ رنبیر سنگھ کی دلچسپی کن علوم و فنون سے تھی اور اس وقت کن علوم کی ریاست میں ضرورت تھی، جس سے عوام کو فائدہ پہنچ سکتا تھا اور حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کن علوم و فنون اور تدابیر کی ضرورت تھی جو مہاراجہ رنبیر سنگھ نے احسن طریقے سے اپنائی۔ اس کے علاوہ مصنفین کے اسلوب اور اس زمانے میں لکھے گئے مخطوطات کی شناخت بھی ہو سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس راز سے بھی پردہ اٹھے گا کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملنے تک، اس نے اس کو اس قدر قابل اور اہل بنایا کہ وہ بحیثیت زبان جموں، پونچھ ، کشتواڑ ، لداخ اور کشمیر کی موثر نمائندگی کر سکتی ہے۔

(1) بقول عبدالقادر سروری میٹریا میڈیکا پر تین مخطوطات سری نگر محکمہ ریسرچ کے کتب خانے میں محفوظ ہیں۔ یہ مخطوطات انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیے گئے تھے لیکن یہ کن کتابوں کے ترجمے میں ہیں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ مخطوطہ نمبر 191 میں صرف اس کا ذکر ملتا ہے کہ یہ انگریزی کا ترجمہ ہے۔ یہ تینوں تراجم سلیس اور عام فہم زبان میں ہیں۔ انہیں اردو اور ناگری دونوں رسم الخط میں لکھا گیا ہے۔

(2) اناٹمی موضوع پر ایک مخطوطہ محفوظ ہے۔ اس مخطوطے کو دیو ناگری رسم الخط میں تحریر کیا گیا ہے۔ ایک مخطوطہ علم الامراض پر مشتمل ہے۔ یہ اردو اور دیو ناگری دونوں رسم الخط میں تحریر ہوا ہے۔ اس کی زبان ایک جیسی ہے صرف کہیں الفاظ تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ علم طب کی تعریف کرتے ہوئے اس نسخے میں لکھا ہے:
”طب وہ علم ہے جس سے انسان (آدمی) کی تندرستی اور بیماری کا حال دریافت ہوتا ہے اور اس کے قاعدوں پر عمل کرنے سے صحت کا قیام اور مرض کا زوال ہو سکتا ہے۔“
(بحوالہ: کشمیر میں اردو حصہ دوم ص: 86)

(3) ”ترجمہ شرح اسباب“ یہ مخطوطہ دو جلدوں پر پھیلا ہوا ہے۔ جلد اول میں عام امراض کی تفصیل دی گئی ہے اور جلد دوم میں بڑے امراض کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسے سوا مزاج جگر اور ضعف الکبہ وغیرہ۔ اس کتاب کے مترجم حکیم فدا محمد خاں ہیں۔

(4) ”اسباب الامراض“ اس کتاب میں امراض کی اقسام اور اس کی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو دیو ناگری اور اردو دونوں حروف میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے ابتدا میں ذکر کیے گئے امراض کے ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اصل کتاب فارسی زبان میں تھی۔

(5) ”اسباب الامراض والعلاجات“ اس کتاب کا اردو اور دیو ناگری دونوں میں ترجمہ وسنت رائے نے کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں اردو، ہندی اور پوٹواری(پوٹہاری) زبانوں کا امتزاج ہے۔ عبدالقادر سروری کے مطابق : ”کتاب کی ابتدا میں ایک دیباچہ دیو ناگری میں لکھا ہے جس میں مترجم نے اپنے کچھ حالات بھی لکھ دیے ہیں۔“
اس کے دیباچے میں وسنت رائے نے مہاراجہ رنبیر سنگھ کی علمی اور ادبی کوششوں اور کارناموں کی خوب مدح سرائی کی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:
”اما بعد: حقیر پر تقصیر بخدمت ارباب فراست و اصحاب کیاست گزارش پرداز ہے کہ اس زمانِ سعادت نشان کی از بسکہ طبع اقدس بندگان دارا زمان ثریا جاہ کیوان مکاں در یکتا ہے عظمت و بختیاری، مدۃ التاج، زینت وار مگاری ، بہار گلشن، عدل و انصاف، آب و تاب چمن بدال و الطاف ، خذیو دریا دل، عادل بازل، سری مہاراجہ صاحب بہادر ، ابد اللہ اجلالہم واقبالہم رات اور دن ترقی علوم غریبہ و فنون عجیبہ در ۔۔۔۔۔۔۔کافذ برایا و خوشنودی رعایا میں مصروف ہے، لا جرم آج کل اس ریاست میں وہ ترقی اور افزائش علم و ہنر ہوئی ہے کہ کبھی زمانِ سلف میں بدیدہ خیال نہ آئی تھی۔ چنانچہ بنظر افادہ عام نسبت اس مورِ ضعیف کے ارشاد فرمایا کہ اگرچہ اسباب و علامات امراض بدنی کی تشریح کتب مقتدمین وغیرہ مندرج ہے۔ مگر چونکہ اکثر عبارات ان کی عربی وفارسی ہیں مبتدی کی سمجھ میں آنا اون عبارات کا ذکر آسان نہیں۔ اگر کوئی رسالہ صرف اس باب میں بزبان اردو تالیف ہو تو البتہ خالی از لطف نہ ہوگا۔ لہذا اس پیچ فدان نے بحکم المامور معذور کتب مثل قانون و تشریح اسباب و نفیس و سدیدی و طب اکبر وغیرہ سے تالیف رسالہ ہذا کر کے ”اسباب الامراض ولعلاجات“ نام رکھا۔“
(بحوالہ کشمیر میں اردو ، حصہ دوم، ص: 89-90)

اس کے علاوہ ”علاج الامراض“ کا ترجمہ وسنت رائے نے فوٹوہاری میں اور فضل الدین نے اردو میں کیا ہے۔ ” ترجمہ تشریح البوق“ اردو اور دیو ناگری دونوں حروف میں لالا وسنت رائے (بسنت رائے) نے ترجمہ کیا۔ اسی طرح ایک کتاب ”دستور قابلہ“ ہے جو اردو اور دیوناگری دونوں رسم الخط میں لکھی گئی ہے۔

طب کے علاوہ دیگر افادی علوم میں ایک رسالہ ”مورچہ بندی“ پر لکھا گیا ہے۔ یہ رسالہ کسی انگریزی رسالے کا ترجمہ ہے۔ پروفیسر عبدالقادر سروری کے مطابق اس کے مترجم مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دربار کے رکن پنڈت بخشی رام ہیں۔

فوجی فنون سے متعلق ایک اور رسالہ ”عالم تیراندازی “ہے۔ اسے غلام غوث خان نے تصنیف کیا ہے۔ غلام غوث جموں کے رہنے والے تھے۔ عبدالقادر سروری کے بقول عالم تیراندازی وہ غالباً ولی عہد ریاست پرتاب سنگھ کو سکھایا کرتے تھے اور مہاراجہ رنبیر سنگھ کی فرمائیش پر انہوں نے یہ رسالہ لکھا تھا۔ اس کی ابتدا میں پرتاپ سنگھ کی تعریف میں انہوں نے لکھا ہے:
” در صفت خورشید آسمان شجاعت و سخاوت ماہ منبر سپہر رفعت و عدالت سری میاں صاحب پرتاب سنگھ جیو صاحب بہادر رام اقبالہ و اجلالہ می گوید۔“
بحوالہ: کشمیر میں اردو حصہ دوم، ص: 95)

مہاراجہ رنبیر سنگھ کی نظر کاغذ سازی پر تھی اسی لیے انہوں نے فنون مفیدہ میں ایک رسالہ کاغذی سازی پر ترجمہ کرایا تھا۔ یہ کسی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے جسے ”رسالہ کاغذی سازی“ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس رسالے میں کاغذ کی تیاری میں جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ”تذکرہ حالات انبیاء“ اور دوسرا ”ذکر اولیائے ہنود“ کے تراجم بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن ان کے مصنفین کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دربار کے علما میں ایک اہم نام بابو نصراللہ عیسائی کا ما قبل میں گزر چکا ہے۔ نصر اللہ نے ڈاکٹر جان اسکن کی تصنیف ”کشمیر ہینڈ بک“ کا ترجمہ ”تاریخ رہنمائے کشمیر“ کے نام سے اردو میں کیا تھا۔ بقول پروفیسر عبدالقادر سروری اس کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ ترجمہ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے حکم سے اردو میں کیا گیا اور مکمل ہونے کے بعد ان کی خدمت میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ ترجمہ کی سند 1874ء ہے۔ اس مترجم کتاب سے وادی کشمیر کے فطری حسن کے متعلق ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:

” کشمیر خصوصاً ایک ہی بڑی وادی ہے جو کہ ہر طرف سے بلند اور برفانی پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ جس میں دریائے جہلم موجزن ہے اور علاوہ اس بڑی وادی کے اور بھی چھوٹی چھوٹی وادیاں ہیں جن سے چہاروں طرف سے اس دریا میں پانی پڑتا رہتا ہے۔ مگر وادی کشمیر ان تمام وادیوں میں سے بڑی اور مشہور و معروف ہے۔“

رنبیر سنگھ کے اس دارالترجمہ کا جو نظم و نسق رہا ہے اس کی رپورٹیں بھی باضابطہ چھپتی تھیں لیکن یہ تمام دستیاب یا محفوظ نہیں ہیں بہت تھوڑی تفصیل ملتی ہے۔ پروفیسر عبدالقادر سروری نے اپنی کتاب ”کشمیر میں اردو“ میں اس حوالے سے دو رپورٹوں میں سے 1882- 1883ء کی ایک رپورٹ کا ذکر اس طرح کیا ہے:
” سال حال کوئی کتاب جو انگریزی سے شاستری (سنسکرت) اور شاستری سے بھاشا اور عربی سے اردو میں ترجمہ ہوئی ہیں، ختم نہیں ہوئیں۔“

ترجموں پر جو سالانہ مصارف ہوتے تھے اس رپورٹ کا یوں ذکر موجود ہے:
” 4502 روپیہ اجرت ترجمہ اس سال میں صرف ہوا۔“
(پروفیسر عبدالقادر سروری، کشمیر میں اردو حصہ دوم، صفحہ :99-100)

اس طرح مہاراجہ رنبیر سنگھ نے مختلف اور جدید علوم و فنون کے تراجم کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کی ہے۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ کی اس علم و فن دوستی کو مہاراجہ کے عہد میں ہر اہل علم و نظر‌ نے سراہا ہے اور اس کی مدح سرائی کی ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہاراجہ رنبیر سنگھ بہادر میاں کے دارالترجمہ کی قیام کی بدولت جموں کشمیر میں جہاں علوم غربیہ اور فنون نادرہ سے رعایا عام و خاص مستفید ہوئے وہیں مغربی، مشرقی اور خصوصاً ہندوستانی تہذیب و ثقافت، علم و ادب اور علم افادیہ اور دربار مغلیہ کے رعب و داب سے واقفیت ، ذہنی ہم آہنگی اور تہذیب و ثقافت سے بھی ہم مزاج ہوئے۔ جس کے سبب جموں سے پونچھ ، کشتواڑ اور وادی سے لداخ تک کے باشندوں کی زبان اردو ذریعہ اظہار ضمیر بنی۔ جس خوش دلی، کشادہ ظرفی اور وسیع المشربی کا ثبوت میاں بہادر مہاراجہ رنبیر سنگھ نے پیش کیا اس سے جموں کشمیر میں تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی ملاح و بہبود کے راستے ہموار ہوئے یہی وجہ ہے کہ آج بھی کئی نادر علمی و ادبی مخطوطات کے لیے جموں کشمیر کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے اور اس ترقی کے اثرات آج بھی جموں میں نظر آتے ہیں۔

مصادر:

  • 1. پروفیسر عبدالقادر سروری ، کشمیر میں اردو، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز، سری نگر 1982ء
  • 2. عبدالقادر سروری، مہاراجہ رنبیر سنگھ اور ان کا دار الترجمہ، مشمولہ ترجمہ کا فن اور روایت (مرتبہ ڈاکٹر قمر رئیس) مطبوعہ خواجہ پریس دہلی، 1976ء
  • 3. اننت رام شاستری، ریاست میں سنسکرت ادب کا ارتقا، مشمولہ شیرازہ مارچ 1962ء، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز سری نگر
  • 4. ڈاکٹر برج پریمی، جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشونما، مطبع ایجوکیشنل پبشنگ ہاؤس دہلی 2021ء
تحریر :ڈاکٹر محمد آصف ملک
شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر
بتاریخ 10 جون 2024 ء