کیوں ہر اس شخص کو بھی ڈاکٹر آف فلاسفی کہا جاتا ہے جو کسی بھی مضمون میں P.hD کیا ہوتا ہے؟؟
ڈاکٹریٹ آف فلاسفی یعنی پی ایچ ڈی کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے پاس یہ ڈگری ہوتی ہے وہ اپنے شعبے میں سب سے اونچا علمی مقام حاصل کر چکا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف علم پڑھ لیا بلکہ یہ ہے کہ اس نے اس علم میں گہرائی تک جا کر تحقیق کی اس کے اصول سمجھے اور وہ اس علم میں تخلیقی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
یہاں فلاسفی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فلسفے کے مضمون میں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے شعبے کی جڑوں کو سمجھ لیا اس کے اصول قاعدے اور سوچنے کے انداز کو سیکھ لیا اور اب وہ اس علم میں حکمت رکھنے والے یا سیکھانے والے درجے پر ہے۔
لفظ ڈاکٹر لاطینی زبان سے آیا ہے جس کا مطلب ہے سکھانے والا یا علم کا استاد۔ شروع میں یہ لقب چرچ میں ان لوگوں کو دیا جاتا تھا جو مذہب میں مہارت رکھتے تھے اور لوگوں کو مذہب سکھاتے تھے۔ پھر جب یورپ میں یونیورسٹیاں بنیں اور چرچ کے علاوہ دنیاوی علوم میں بھی تحقیق ہونے لگی تو یہ لقب دوسرے علوم کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔
اس وقت یورپ میں دو بڑے علم ہوتے تھے؛ ایک مذہب یعنی الہیات۔۔۔ دوسرا فلسفہ جس میں سائنس، ریاضی، طب، ادب جیسے تمام علوم وغیرہ شامل تھے۔
جب غیر مذہبی علوم میں بھی اعلیٰ ڈگری دی جانے لگی تو اسے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی کہا گیا تاکہ یہ مذہب کی ڈگری سے الگ نظر آئے۔ بعد میں وقت کے ساتھ سائنس، طب، انجینئرنگ، ادب اور دوسرے مضامین الگ الگ ہو گئے لیکن آج بھی پی ایچ ڈی کو ڈاکٹریٹ آف فلاسفی کہا جاتا ہے چاہے آپ کسی بھی شعبے میں کریں۔
اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ آپ نے اس علم کو اس کی گہرائی میں جا کر سمجھا ہے اور اس میں تحقیق اور نظریہ پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اب آپ اس علم میں استاد یا ماہر مانے جاتے ہیں۔
فلسفہ کیا ہے؟
فلسفہ کا مطلب ہے کسی بھی چیز کے پیچھے چھپی ہوئی سوچ دلیل اور حکمت کو سمجھنا۔ یہ لفظ یونانی زبان کے لفظ “فلسوفیا” سے آیا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے دانائی سے محبت یا علم اور عقل سے محبت۔ یعنی فلسفہ وہ علم ہے جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم کیوں سوچتے ہیں، کیسے سوچتے ہیں، اور کسی چیز کے بارے میں گہرائی سے سوال کیسے کرتے ہیں۔
فلسفہ اصل میں کوئی صرف پڑھنے کا مضمون نہیں بلکہ یہ
زندگی دنیا حقائق اور انسان کے وجود کے بارے میں سوال کرنے
سمجھنے اور دلائل تلاش کرنے کا عمل ہے۔ مثال کے طور پر
فلسفہ یہ سوال کرے گا کہ ہم کیوں جیتے ہیں، یہ سوچے گا کہ انسانی اخلاق اور برائی نیکی کا معیار کیا ہے، یا یہ کہ کائنات کیوں وجود میں آئی۔
پرانے وقتوں میں فلسفہ صرف ایک مضمون نہیں تھا بلکہ ریاضی، سائنس، طب اور علم کائنات سب کو فلسفے کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یعنی ہر علم کے پیچھے جو سوچ اور دلیل ہوتی ہے وہ فلسفہ کہلاتی تھی۔
اسی لیے جب آپ کو ڈاکٹریٹ آف فلاسفی یعنی پی ایچ ڈی کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے فلسفے کے مضمون میں ڈگری لی بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے شعبے کو اس کی جڑ تک سمجھا ہے اور اس کے اندر گہرائی میں جا کر حکمت اور اصول سیکھے ہیں۔
منقول ~محمد بخش