اہل بیت کا چمن اجڑا اس طرح سے
اصغر کا کٹا سر حسین کی گود میں اس طرح سے
لٹاکے گھر جان و مال گھر اپنا
کربلا کوعرش معلیٰ بنایا حسین نے اس طرح سے

بازو جو کٹے عباس کے
پانی کی آس ختم ہوئی اس طرح سے
نہ پردہ بچا نہ آس رہی
اہل بیت کا چمن اجڑ اس طرح سے

بنائی جو مہندی آنسوؤں سے علی قاسم کی
لے کر چلے جوبرات علی قاسم کی
ٹکڑے ٹکڑے کر دیا لاشا قاسم کا اس طرح سے

پردوں میں چھپا کے جو رکھا علی اکبر کو
برچھی لگائی اکبر کے سینے میں اس طرح سے
سرخ ہوئے رخسار کانوں سے بہنے لگا خون
سکینہ کو تماچے لگائے اس طرح سے

ہاتھوں کو جوڑ کر منتیں کررہی تھی سکینہ
نہ قتل کرو میرے بابا کو چھوڑ دو شمر
سر تن سے جدا کر کے لٹکایا جونیزے پہ
اہل بیت کا چمن اجڑ اس طرح سے

دےکر زہر حسن کو جگرکےٹکڑ ے آئے جو باہر
جنازے پر تیر لگائے حسن کے
پامال کیا لاشوں کو اس طرح سے

نکل رہی یہ صدا زینت جعفری
ہائے مر جاؤں مولا
اہل بیت کا چمن اجڑ اس طرح سے