نظم ”خواب“
آشیانہ اپنا بنانا
اک خواب تھا
زندگی کی الجھنوں کو سلجھانا
اک خواب تھا

راستے میں پیچھے کانٹوں کو صاف کرنا
اک خواب تھا

خوشیوں کی بہاروں میں کھیلنا
اک خواب تھا

بکھرے ہوئے خوابوں کو جوڑنا
اک خواب تھا
چلی جو بھرنے میں خوشیوں کے رنگ
زندگی سہانی بنانا
اک خواب تھا

مٹھی میں لے کر بارش کی بوندون کو
ان بارشوں کی بوندوں سے کھیلنا
ایک خواب تھا

وہ ہمسفر بن کے چلے
یا میرا آشیانہ بن کر چلے
چلیں دونوں ایک ہی سمت
اک خواب تھا
اس کی مصیبتوں کو اپنی مٹھی میں قید کرنا
ہر خوشی اس کی زندگی میں بکھیر نا
اک خواب تھا

لے کر اس کے دکھ اپنے نام کرنا
اک خواب تھا

اس کے پاؤں کی دھول
اپنے دامن سے صاف کرنا
اک خواب تھا

میری ہر سانس اس کے نام سے نکلے
میری ہر دھڑکن اس کے نام سے دھڑکے
دھڑکنوں کا دھڑکنا
سانسوں کا نکلنا
زندگی اس کے نام کرنا
افسوس
اک خواب تھا
جو صرف خواب تھا