نظم ” وقت“
بہت کچھ کہنا تھا تم سے
پر وقت کم ہے
اپنی آنکھوں میں سجّے خواب بتانے تھے تم کو
پر وقت کم ہے

وہ مہندی تمہارے نام کی لگا کے
اس کا رنگ بھی تو دکھانا تھا تم کو
پر وقت کم ہے

وہ روٹھنا منانا معصوم چھیڑ خوانی
سرخ چوڑیوں کی کھنک
ان سب کو اپنا حق سمجھ کر لینا تھا تم سے
پر وقت کم ہے

بال آج بھی کھول کے سامنے آئینے کے
اپنے پاس ہونے کی آس
سامنے تمہارے رہنے کی حسرت لیے
پر وقت کم ہے

ایک گھر بنا کے ساتھ رہنے کی خواہش
وہ ننھے ننھے معصوم فرشتے
ان کے ساتھ مل کر مسکرانا تھا ہم نے
پر وقت کم ہے

گرمیوں کے طویل دنوں میں
سردیوں کی اداس شاموں میں
چاند کو دیکھتے ہوئے
ستاروں کو دیکھتے ہوئے
اچانک چلتے چلتے رک جاتی ہو گویا
تم میرے ہمرا ہی ہو آج بھی

بارش کی بوندوں کو مٹھی میں لیے
تیز ہواؤں کی آواز میں
دنیا کے بدلتے لہجوں سے
ڈرتے ڈرتے گویا
دل ایک بچہ سا بن جاتا ہے
تیری جانب کھینچتا چلا جاتا ہے
اور پھر سینے میں چھپ کے
سب کچھ کہنا تھا تم سے
پر وقت کم ہے

بھلا نصیب کے لکھے کو کیسے مٹائیں
اپنی وفا کے یقین کے لفظ بھی تو ڈھونڈنے تھے
اپنے دور ہونے کے احوال بھی دینے تھے
سماج اور تقریر کے ستم سنانے تھے
اپنی بے رخی کے اسباب بھی بتانے تھے
اپنے پاک رشتے کی دوری
اس کے راز بھی بتانے تھے تم کو
پر افسوس وقت نے وقت ہی نہ دیا
کیونکہ وقت کے پاس وقت ہے
پر وقت کم ہے