نظم ”پرندے“
سنو پرندوں۔۔۔
تم بہت اچھے ہو بہت پیارے بہت خوبصورت
دل کے صاف خدا سے ڈرنے والے
انسان بہت دکھ دیتا ہے ظالم ہے انسان
خوشیوں کی امیدیں دلاتا ہے
مگر توڑتا ہے امیدیں کانچ کی طرح

سنو پرندوں۔۔۔
تم خوبصورت دل کے مالک ہو
تم میں حسد نہیں نفرت نہیں آزاد ہو تم
انسان بہت توڑتا ہے ہر موڑ پر ہر منزل پر

سنو پرندوں ۔۔۔
خوشیوں کا ذریعہ ہو تم
تم ظلم نہیں کرتے دل نہیں توڑتے
انسان غموں میں جکڑ لیتا ہے
تم خواب نہیں دکھا تے حقیقت ہو تم
انسان خواب دکھاتا ہے خوابوں کو چور کر تا ہے
تم محبت بانٹتے ہو ہم ہمسفر بنتے ہو ساتھیوں کے
تو جدا نہیں ہوتے اپنے ہمسفر سے

سنو پرندوں۔۔۔
انسان محبت کے نام پر آزماتا ہے توڑتا ہے
راستے بدلتا ہے ہمسفر بدلتا ہے
تم کانٹے نہیں بیچھاتے راستے صاف کرتے ہو
انسان کانٹے بچھاتا ہے طوفان لاتا ہے

سنو پرندوں۔۔۔
تمہاری منزلیں آسان ہیں خوبصورت راستے ہیں
تمہاری خوبصورت زندگی ہے اڑان ہے پرواز ہے

سنو پردوں۔۔۔
ہماری نہ منزل ہے نہ کوئی راستہ
نہ کوئی زندگی ہے نہ اڑان نہ کوئی پرواز

سنو پرندوں۔۔۔
تم بہت اچھے ہو بہت پیارے بہت خوبصورت