• You must enroll in this course to access course content.
کبھی ایسابھی ہوتا ہے
جسے اپنا سمجھتے ہیں
زباں پر جسکی خاطر ہم
خوشی کے گیت گاتے ہیں
ہزاروں غم چھپا کر بھی
جسے ہر دم ہنساتے ہیں
ہزاروں طرح کے نخرے
خوشی سے سہ بھی جاتے ہیں

کبھی غمگین سی راتیں
کبھی آدھی ملاقاتیں
ہمیں اکثر ملا کرتی ہیں تحفے میں جو سوغاتیں

وہ جس کے نام سے دل کی
روانی تیز ہوتی ہے
جسے پانے کی خاطر
زندگی مہمیز ہوتی ہے
کبھی تیشہ چلا کر ہم
یہاں ندیاں بہاتے ہیں

یوں جاں پر کھیل جاتے ہیں
مگر یہ دکھ بھی تواحمد
ہماری جان لیتے ہیں
جسے اپنا سمجھتے ہیں
ہمارے گہرے زخموں سے
وہی نادان رہتے ہیں