Advertisement
شب فرقت مصیبت ہے نہیں تو
یہ آہیں کیا شکایت ہے نہیں تو
نظر پھر کیوں نہیں ہٹتی ہے ان سے
انہیں پانے کی حسرت ہے نہیں تو
اتاروں عشق کے دریا میں کشتی
تو کیا خود سے عداوت ہے نہیں تو
شب فرقت کا آخر کیوں ہو رونا
 مجھے ان کی ضرورت ہے نہیں تو
سپر جو ڈال دے اس پر شقاوت
بتاؤ کیا شجاعت ہے نہیں تو
زمیں کیا لے گیا وہ آسماں بھی
وقار اس سے شکایت ہے نہیں تو
Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement
Advertisement