تجھی کو دیکھوں تجھی کو چاہوں
دھڑکتے دل کی صدا بھی تو ہے

ترے خیالوں کی بندشوں میں
تجھی کو ڈھونڈو تجھی کو پاؤں

جو تیرے آگے رکھوں یہ دنیا
تجھی کو دوں میں یہ ساری خوشیاں

جو تیری خاطر گراؤں خود کو
تجھے اٹھا کر جتاؤں ہو تجھ کو

میں تجھ کو چھونے کی کوششوں میں
وضو بھی کرلوں دعا بھی کر لوں

تری خطاؤں کو معاف کرکے
میں تجھ کو دل میں بسا لوں پھر سے

کہ تجھ کو پانے کی خواہشوں میں
پہاڑ توڑوں بہاؤں ندیاں

مگر اے جاناں بتا دےتو کیا
مری محبت کا یہ صلہ ہے

جو دیکھو تجھ کو تو پھیر لے منہ
پکاروں تجھ کو نہیں رکے تو

کیا دل میں تیرے ہے اور کوئی
بتا دے دل سے نہ کھیل میرے

نہ ڈال مجھ کو یوں کشمکش میں
اٹھایہ خنجر چلا دے دل پر

مگر یہ پہلے بتا دے مجھ کو
کیا تیرے دل میں ہے اور کوئی

اگر یہ سچ ہے تو سن لے جاناں
نہیں ضرورت ہے خنجروں کی

کہ تیرا بس یہ جواب کافی
ہے میرے مرنے کے واسطے تو

بتا دے مجھ کو کہ تیرے دل میں
ہے اور کوئی ہے اور کوئی
وقار احمد