Back to: عمران احمد ہارون
0
| دستبردار ہوئے اپنی تمام آہ و بکا سے دسترس میں اب اپنا ہی وجود نہیں |
| حاصل کی چاہ میں کیوں بھٹکے مکاں سے وہ جگہ بتا جہاں تو موجود نہیں |
| ہر شئے زیاں ہر زیاں ہر چیز بے معنی سی کوئی بیچارگی نہیں اب کوئی قیود نہیں |
| بندگی بھی آوارگی بھی ہے تماشہ زندگی بھی مختصر ہے یہ سفر مگر سفر محدود نہیں |