تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”سرِ راہِ شہادت“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام ابو الاثر حفیظ جالندھری ہے۔ یہ نظم شاہ نامہ اسلام سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر

ابو الاثر کا نام محمد حفیظ ، حفیظ ہی تخلص اور ابوالاثر کنیت تھی۔ لاہور آ کر آپ نے "ہونہار بک ڈپو” قائم کیا اور علمی و ادبی کتابوں کی طباعت و اشاعت میں مصروف ہوگئے۔ آپ نے پہلے غزلیں کہیں پھر گیت لکھے۔ اس کے بعد "شاہ نامۂ اسلام” جیسی شاہ کار نظم لکھی۔ ان کی نظموں کے مجموعے”نغمہ زار، سوز و ساز، تلخابۂ شیریں” ہیں۔ ہمارا قومی ترانہ بھی آپ نے ہی لکھا۔

وہ حمزہ ناز تھا اہلِ عرب کو جس کی طاقت پر
فدا ہونے چلا تھا اب بھتیجے کی صداقت پر

اس شعر میں شاعر حضرت حمزہ کی طاقت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہلِ عرب کو حضرت حمزہ کی طاقت پر ناز تھا اور آج وہی حضرت حمزہ اپنے بھتیجے یعنی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی صداقت پر قربان ہونے چلے تھے۔ دراصل یہ غزوہ احد کا منظر پیش کیا گیا ہے جہاں حضرت حمزہ میدانِ جنگ کی جانب بڑھنے والے ہیں اور کچھ ہی دیر میں اسلام کے نام پر شہید ہونے والے ہیں۔

رسولِ پاکﷺ کے چہرے سے اِک رِقّت نمایاں تھی
یہ وہ رحمت تھی جس کی کوئی غایت تھی نہ پایاں تھی

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب حضرت حمزہ میدانِ جنگ کی جانب جانے لگتے ہیں تو رسولِ پاک کے چہرے پر ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ حضرت حمزہ آپﷺ کے چچا تھے اور ایک ایسی رحمتِ خداوندی تھے جن کی کوئی غایت تھی نہ پایاں تھی۔ اس لیے آپﷺ کو ایک صحابی اور اپنے عزیز از جان چچا سے بچھڑنے کا دکھ ہوتا ہے جو ان کے چہرہ مبارک پر نظر آتا ہے۔

نگاہیں مُضطرِب ، ہلکا تبسُّم رُوئے زیبا پر
تصوّر مطمئن تھا مرضئ عرشِ معلیٰ پر

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آپﷺ کی نگاہیں تو پریشان اور مضطرب تھیں لیکن آپ کے حسین چہرے پر ایک خوبصورت مسکان تھی۔ آپ کا تصور و دل مطمئن تھا کیونکہ آپﷺ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر راضی تھے اور جانتے تھے کہ حضرت حمزہ شہادت کا جام نوش کر کے بہت اعلیٰ مرتبہ پانے والے ہیں۔

ہوا ارشاد اے عَمِِّ خَجستہ فام، بسم اللہ
خدا حافظ ہے کیجیے نصرتِ اسلام ، بسم اللہ

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ وقتِ رخصت کے وقت آپﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا کہ آپ جائیں اور اسلام کا جھنڈا بلند کر کے شہید ہوں۔ اللہ پاک آپ کا محافظ ہے اور مجھے علم ہے کہ اس نے آپ کے لیے شہادت کا مرتبہ چن لیا ہے اب آپ جائیں اور اسلام کی نصرت کیجیے۔ اور یہ کہہ کر آپﷺ نے حضرت حمزہ کو رخصت کیا اور میدانِ جنگ میں بھیجا۔

یہ اقدامِ شہادت بر سبیلِ حُسنِ نیّت ہے
محمد اس پہ راضی ہے جو اللہ کی مشیت ہے

اس شعر میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ شہادت کا قدم آپ کی یعنی حضرت حمزہ کی نیت کی اچھائی کا نتیجہ ہے اور میں یعنی حضرت محمد ہر اس بات پر راضی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے۔ اس لیے آپﷺ کا دل مطمئن تھا اور آپ نے چہرے پر ہلکے سے تبسم کے ساتھ حضرت حمزہ کو رخصت کیا۔

یہ فرما کر دکھائی انتہائی شانِ رحمانی
کہ بڑھ کر چوم لی سرکار نے حمزہؓ کی پیشانی

اس شعر میں شاعر بتاتے ہیں کہ یہ سب فرما کر آپﷺ نے آگے بڑھ کر فرطِ جذبات سے اپنے چچا حضرت حمزہ کی پیشانی چوم لی جو چچا بھتیجے کی محبت کا ثبوت تھا۔ یہ آپﷺ کی شانِ رحمانی تھی کہ آپ نے اپنے چچا کو خود میدانِ جنگ کی جانب رخصت کیا۔

وفورِ نورِ حق سے چہرہ حمزہ چمک اٹھا
جلا کندن نے پائی یہ زرِ خالص دمک اٹھا

اس نظم کے آخری شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آپﷺ نے جب حضرت حمزہ کی پیشانی چومی تو ان کا شہرہ چمک اٹھا۔ شاعر حضرت حمزہ کو سونے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ خالصتاً سونا تھے اور اس نور سے آپ کا پورا وجود جگمگا اٹھا تھا اور آپ اس نور کو لے کر میدانِ جنگ کی جانب روانہ ہوگئے۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ و تراکیب کے معنی بتائیے :

الفاظمعنی
رقتآنسو نکلنے کی کیفیت
روئے زیباحسین چہرہ
عرش معلیٰاللہ تعالیٰ کا عرش
مشیتاللہ کی مرضی
حسن نیتارادے کی نیکی

سوال نمبر 3 : نظم کے پہلے شعر کی تشریح کیجیے۔

وہ حمزہ ناز تھا اہلِ عرب کو جس کی طاقت پر
فدا ہونے چلا تھا اب بھتیجے کی صداقت پر

اس شعر میں شاعر حضرت حمزہ کی طاقت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہلِ عرب کو حضرت حمزہ کی طاقت پر ناز تھا اور آج وہی حضرت حمزہ اپنے بھتیجے یعنی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی صداقت پر قربان ہونے چلے تھے۔ دراصل یہ غزوہ احد کا منظر پیش کیا گیا ہے جہاں حضرت حمزہ میدانِ جنگ کی جانب بڑھنے والے ہیں اور کچھ ہی دیر میں اسلام کے نام پر شہید ہونے والے ہیں۔

سوال نمبر 4 : اپنی کتاب کے حصہ نظم سے پانچ مطلعے تلاش کیجیے :

۱) خلق کے سرور ، شافع ِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسلِ داور ، خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم
۲) خدایا نہیں کوئی تیرے سوا
اگر تو نہ ہوتا تو ہوتا ہی کیا
۳) کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز
۴) وہ حمزہ ناز تھا اہلِ عرب کو جس کی طاقت پر
فدا ہونے چلا تھا اب بھتیجے کی صداقت پر
۵) مشاعرے کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے
مشاعرے میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے

سوال نمبر 5 : درج ذیل جوابات میں سے درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے :

(الف) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کے :

  • (۱)ماموں تھے
  • (۲)خالو تھے
  • (۳)چچا تھے ✔
  • (۴)تایا تھے

(ب) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا اقدامِ شہادت تھا :

  • (۱)غلبہ اسلام پر
  • (۲)شکست باطل پر
  • (۳)حسن نیت پر ✔
  • (۴)جنگ میں فتح پر

(ج)اہلِ عرب کو امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی اس خوبی پر ناز تھا :

  • (۱)خوش اخلاقی
  • (۲)شان وشوکت
  • (۳)طاقت ✔
  • (۴)رحم دلی

(د) وہ صحابی جن کے شوقِ شہادت سے خوش ہو کر حضورﷺ نے ان کی پیشانی چومی :

  • (۱)حضرت طلحہؓ ہیں
  • (۲)حضرت حمزہؓ ہیں ✔
  • (۳)حضرت مصعیبؓ ہیں
  • (۴)حضرت خالدؓ ہیں