"ایک چادر میلی سی” راجندر سنگھ بیدی کا اکلوتا ناول ہے جو پنجاب کی دیہاتی زندگی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔یہ ایک مختصر ترین ناول ہے جو صرف 150 صفحات پر مشتمل ہے۔یہ ناول پہلی بار رسالہ ‘نقوش’ میں دو قسطوں میں 1960ء میں شائع ہوا تھا اور کتابی صورت میں مکتبہ جامعہ دہلی نے 1962ء میں شائع کیا۔اس ناول پر ہندوستان میں ‘ایک چادر میلی سی’ ہی کے نام سے لیکن پاکستان میں ‘مٹھی بھر چاول’ کے نام سے ایک فلم بھی بنی تھی۔ ناول کی مختصر ترین کہانی اس طرح سے ہے کہ پنجاب کے کسی گاؤں میں رانو نام کی ایک لڑکی رہتی تھی جس کی شادی اس کے والدین نے افلاس سے تنگ آکر تلوکا نامی شخص سے کردی تھی جو پیشہ سے یکہ بان تھا۔تلوکا کو شراب نوشی کی لت لگی ہوئی تھی جسے رانو بالکل پسند نہیں کرتی تھی اور اس کی وجہ سے دونوں کے تعلقات میں تلخی بھی رہتی تھی۔تلوکا یکہ چلانے کے ساتھ ساتھ چوہدری مہربان داس کے لیے بھولی بھتکی عورتوں کو بٹور کر بھی لاتا تھا۔ ایک دن اس جرم کے بدلے کے طور پر ایک جاترن نامی لڑکی کے بھائی کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا ہے۔ تلوکا کے قتل کے بعد اس کا چھوٹا بھائی منگل یکہ چلا کر گھر کے اخراجات سنبھالتا ہے اور رانو کی شادی منگل سے پنجابی رسم کے مطابق اس طرح ہوجاتی ہے کہ منگل رانو کے سر پر چادر ڈال دیتا ہے۔اگرچہ منگل سماجی اور رسمی طور پر رانو کو تو اپنا لیتا ہے مگر جسمانی اور ذہنی طور پر نہیں اپنا پاتا ہے۔رانو شراب سے سخت نفرت کرتی تھی لیکن اسے ہی بروئے کار لاکر وہ منگل کو جیتتی ہے اور اس سے جسمانی تعلقات قائم کرتی ہے۔اس طرح وہ منگل کو پورے طور سے اپنے قبضے میں لے لیتی ہے اور منگل ایک مطیع اور فرمانبردار شوہر بن جاتا ہے۔اس ناول کو پی ڈی ایف(pdf) کی صورت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔

Download Now

Advertisements