• پرائے ہاتھوں جینے کی ہوس کیا
  • نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
  • مکان و لامکان سے بھی گزر جا
  • فضاے شوق میں پرواز خس کیا
  • کرم صّیاد کے صدہا ہیں، پھر بھی
  • فراغ خاطر اہل قفس کیا
  • محبت سرفروشی ، جاں سپاری
  • محبت میں خیال پیش و پس کیا
  • اجل خود زندگی سے کانپتی ہے
  • اجل کی زندگی پر دسترس کیا
  • زمانے پر قیامت بن کے چھا جا
  • بنا بیٹھا ہے طوفان در نفس کیا
  • قفس سے ہے اگر بے زار بلبل
  • تو پھر یہ شغل تزئین قفس کیا
  • لہو آتا نہیں کھینچ کر مژہ تک
  • نہ آئے گی بہار اب کی برس کیا
Advertisements