خدا کی بستی پاکستان کے مشہور ناول نگار شوکت صدیقی کا ایک بہترین اردو زبان کا ناول ہے۔ اس ناول کے اب تک تقریباً پچاس آڈیشن مختلف ناشرین کے زیر اہتمام شائع ہو چکے ہیں اور اس کو ڈرامائی شکل دے کر پاکستانی ٹیلی وژن سے پانچ مرتبہ نشر کیا گیا ہے۔شوکت صدیقی کو اس ناول کے لیے 1960ء میں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایک ایسا ناول ہے جس میں پاکستان کی شہری زندگی اور نئے معاشرے میں جڑ پکڑنے والی خامیوں اور اونچے طبقے کی مفاد پرستی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اس ناول کو ٹی وی سیریل پاکستان میں پیش کیا جاتا تھا تو کراچی اور لاہور کی گلیاں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ ناول خدا کی بستی اردو کا واحد ناول ہے جس کا ترجمہ اب تک انگریزی کے علاوہ دنیا کی دوسری 41 ترقی یافتہ زبانوں میں ہو چکا ہے۔یہ ناول گیارہ فصلوں پر مشتمل ہے۔شوکت صدیقی نے اس ناول میں 3 بچوں کو بنیاد بنا کر پاکستان کے ہر طبقہ کے اعمال اور افعال کا تجزیہ سماجی حقیقت نگاری کی طرح کیا ہے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ناول میں متوسط اور اس سے زیادہ نچلے طبقے کے کرداروں کو بنیاد بنا کر ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتوں کے چہرے سے نقاب ہٹایا گیا ہے۔انگریزی روزنامہ "انڈین ایکسپریس”(دہلی) میں معروف ادیب خشونت سنگھ اس ناول پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں؛

"مصنف نے بڑے کینوس پر ناکارہ ریاستی نظم و نسق، حکمران طبقہ کی مکروہ بدعنوانی اور دیانتداری اور محبت وطن عناصر پر نااہل اور بداطوار لوگوں کی بالادستی کی نہایت اعلی تصویر کشی کی ہے۔ جہاں امیر، امیر ترین اور غریب، غربت اور تنگدستی کی مزید گہرائی میں گرتے جارہے ہیں۔ "خدا کی بستی” بدعنوان پاکستانی معاشرے پر بڑا بھرپور طنز ہے۔”

ڈاکٹر حنیف فوق اپنے تنقیدی تجزیہ "خدا کی بستی اور ناول نگاری” میں لکھتے ہیں؛

” ‘خدا کی بستی’ میں اپنے دور کی زندگی بڑی صداقت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ شہری تمدن کے نقوش، جن میں سماجی مرتبے کی خواہش، دولت کے حصول کی اندھی طلب، مستقبل کا خوف، بے روزگاری، بھوک، بے راہروی، جنس، ہنگامہ اور تصنع نمایاں عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں، اس ناول میں فنکارانہ طنز کے ساتھ ابھارے گئے ہیں”

ناول کے مرکزی کردار تین ہیں جن میں راجہ ایک آوارہ قسم کا انتہائی غریب لڑکا ہے جو ایک بوڑھے کو ریڑھی میں ڈال کر گداگری کرتا ہے اور ملے ہوئے پیسوں سے جوا کھیلتا اور سینما کے مزے لیتا ہے۔ دوسرا مرکزی کردار شامی جو دبلا، پتلا، تیز مزاج لڑکا ہے اور اپنے باپ کی دکان پر بیٹھا ہے۔ تیسرا مرکزی کردار نوشہ، ایک یتیم لڑکا اور راجہ کا جگری دوست ہے جسے اس کی ماں گھر سے نکال دیتی ہے۔اس ناول کو پی ڈی ایف(pdf) کی صورت میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔

ناول خدا کی بستی pdf 1

Download Now

Advertisements