ماں کی محبت پر مضمون

ماں جان جہاں ہے

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے۔
منور رانا

ماں کائنات میں خدائے یکتا کی ایک عظیم نعمت ہے جو ہر زی روح کو عطا کی گئی ہے ماں کو اس جہان فانی میں یہ شرف حاصل ہے کہ اسی کے بطن سے نسل انسانی کا کارواں رواں دواں ہے اگر ماں نہ ہوتی تو نسل انسانی کا کارواں رک جاتا ۔ہر عورت کو ماں بننے کا شرف حاصل نہیں ہوتا اس لئے ہم نے اس مضمون میں لفظ “ماں” کو نسل انسانی کا ضامن قرار دیا ہے۔

ماں نہ صرف نسل انسانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے نوع انسان کو ترقی کے منازل طے کرنے کے قابل بناتی ہے انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے اس کی ترقی میں دبستان ماں کا کلیدی رول ہوتاہے ۔خداوند عالم نے اس کائنات میں ماں کو وہ شرف عطا کیا ہے کہ اس کی شفقت ،محبت اور رحم دلی کا مقابلہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا یہ ماں اپنے بیٹے یا بیٹی کو اتنی محبت کرتی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا یہ نسل انسانی کو سنوارتی ہے اور شکم مادر سے لے کر زندگی کےآخری لمحے تک اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے فکر مند رہتی ہے۔

جب اس کا بیٹا یا بیٹی گھر سے باہر اپنے دفتر ،اسکول،امتحان یا کسی دوسرے کاروبار کے لیے نکلتے ہیں تو یہ ماں خدائے واحد سے دست دعا ہو جا تی ہے اور اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دعا کرتی ہے تو پھر ان بچوں کے لیے کامیابی ان کا مقدر بن جاتی ہے جیسا کہ ایک عظیم واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آیا ہے کہ جب وہ کوہ طور پر خدا تعالٰیٰ سے ہم کلام کے لیے جاتا تو اس کی بوڑھی ماں مصلیٰ بچھا دیتی اور خدا تعالٰیٰ کے حضور دعا کرتی کہ اے مالک کائنات میرے بیٹے کو بلند آواز میں کلام کرنے کی عادت ہے تو اگر اسے ہم کلامی میں کسی قسم کی کوتاہی سرزد ہو جا ئے تو اسے معاف کر دینا وقت گزرتا گیا۔

جب ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں انتقال کر گئی تو اسے کفنا دفنا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر خدا تعالٰیٰ سے ہم کلام کے لیے گیا تو پہلے ہی آواز آئی اے موسیٰ آج زرا ادب سے بات کرنا کیونکہ آج آپ کے گھر سے دعا کرنے والی چلی گئ آج آپ کے پیچھے دعا کرنے والی موجود نہیں ہے لہٰذا ہوش سے بات کرنا گویا ماں کے انتقال تک اگر موسیٰ علیہ السّلام کو خدا سے ہم کلامی میں کسی قسم کی کوتاہی ہو جا تی تو اللہ تعالی اس کی کوتاہی کو ماں کے دعا کی بدولت سے معاف کر دیتا گویا ماں کے دعا میں اتنی طاقت اور اثر ہے کہ پیغمبر وقت سے اللہ تعالی کی طرف سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ آج ادب سے بات کرنا کیونکہ آج آپ کے پیچھے آپ کی ماں کا دعا نہیں ہے۔

عزیز دوستو اس دنیا میں جتنے بھی کامیاب انسان گزرے ہے ان کی کامیابی میں ماں کا کلیدی رول رہا ہے اسی لیے ہر صاحب دانا نے ماں کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ان سے بہتر سلوک روا رکھنے کی تاکید کی ہے اور خدائے بزرگ نے بھی ماں کو اعلیٰ درجہ دے کر فرمایا ہے کہ”ماں کے پیروں تلے جنت ہے” جس کے پاس ماں جیسی عظیم نعمت ہے اسے کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے اگر اس سے ہو سکے تو وہ دنیا کا ایک عظیم اور کامیاب انسان بن سکتا ہے ورنہ اسی ماں کی ایک آہ سے وہ زلیل وخوار بھی ہو سکتا ہے۔

ماں کے آنسوں کا ایک قطرہ انسان کو زمین سے فلک تک پہنچا سکتا ہے اور یہی ایک آنسوں کا قطرہ اسے زلیل وخوار کر کے آسمان کی بلندی سے زمین پر گرا سکتا ہے مختصر یہ کہ لفظ ,,ماں ،، کی عظمت کاجتنا ہم بیان کریں گے وہ کم ہے کیونکہ اس عظیم رشتے کا انسان کیا بیان کرے جس کے بارے میں خود خدا و رسول خدا بیان کرے ہمیں چاہئے کہ ہم اس نعمت عظمیٰ کے قدردان بن جائیں اور جس طرح یہ ماں اپنے بچوں کو پیار ومحبت دیتی ہے اسی طرح اس کے ساتھ بھی شفقت اور ہمدردی کا سلوک روا رکھ کر اپنی دنیا وآخرت کو کامیاب بنانے کی از حد کوشش کریں تب بھی ماں کا وہ حق ادا نہ ہو سکے گاجو اس نے اس وقت ادا کیا ہے جس وقت انسان ماں کے پیٹ سے نکل کر اس دنیائے فانی میں آتا ہے جس شخص نے بھی ماں کی خدمت کی آخر پہ اس کی بھی یہی صدا رہی کہ,, حق یہی ہے کہ حق ادا نہ ہوا ،،

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی
Amir Hussain Kishtwar Marwah