مرثیۂ ”دہلی مرحوم” مولانا الطاف حسین حالی کا مشہور مرثیہ ہے، جس میں انہوں نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد دہلی کی تباہی اور بربادی کا ذکر کیا ہے۔ حالی نے دہلی کو ایک تاریخی، تہذیبی، اور علمی مرکز کے طور پر بیان کیا ہے اور جنگ کے بعد اس کے زوال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مرثیے میں حالی نے دہلی کی شان و شوکت، عظمت اور ثقافتی اہمیت کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح اس شہر میں علم، ادب، فنون لطیفہ اور اخلاقیات کا چرچا تھا۔ لیکن 1857 کی جنگ کے بعد دہلی تباہ ہو گئی، اور اس کی خوبصورت عمارتیں، گلیاں اور بازار ویران ہو گئے۔
حالی نے اس بربادی کو بہت ہی دردناک انداز میں پیش کیا، خاص طور پر اس بات کو اجاگر کیا کہ کس طرح بڑے بڑے فنکار موجود تھے مثلاً ذوق ،غالب،شیفتہ، نیر اور آرزو وغیرہ لیکن اب کوئی موجود نہیں ہے مؤمن ،علوی، صہبائی وغیرہ کے بعد اب شعر کا نام لیوا کوئی نہیں ہے لہٰذا اب داغ و مجروح وغیرہ کو سن لو اس کے بعد اب کوئی بلبل کا ترانہ نہیں سنے گا الغرض حالی یہ کہتے ہیں کہ اب ان باتوں کو یاد کرکے کسی کو رلانا مناسب نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حالی نے “مرثیہ دہلی مرحوم” میں دہلی کی عظمت کے زوال، تہذیبی بربادی، اور انسانی حالت زار کو بڑے درد اور افسوس کے ساتھ بیان کیا ہے۔