افسانے کی شروعات بیدی نے ایک پنجابی مصرعے سے کی ہے جس کے معنی کہانی کے اصل مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔تقسیم ہند کے دوران دیگر مظالم کے ساتھ ساتھ ذہنی ہیجان پیدا کرنے والا ایک معاملہ اغوا شدہ خواتین کا تھا جو اس افسانے کا موضوع ہے۔ملا کشور محلے میں”پھر بساؤ”کے نام سے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے، جس کا سیکریٹری سندرلال، وہ شخص ہے جس کی اپنی بیوی "لاجونتی”بھی اغوا ہو چکی ہے۔کمیٹی کا مقصد لوگوں میں اغوا شدہ عورتوں کے تئیں ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنا ہے اس کمیٹی کے ممبران پربھات پھیری صبح کے وقت ریلی نکالتے ہوئے وہی پنجابی مصرعہ”ہتھ لاۂیاں کملاں نی لاجونتی دے بوٹے”گنگناتے ہیں اور لوگوں میں جاگرتی پھیلاتے ہیں.

سندرلال کو اپنی بیوی ‘لاجونتی’ یاد آتی رہتی ہے۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا ہے کہ اغوا ہونے سے پہلے وہ کس طرح اس کو ستایا کرتا تھا، اسے مارتا تھا اور بدسلوکی کی کوئی کسر باقی نہیں رکھتا تھا۔لاجونتی سب کچھ سہہ لیتی تھی، وہ کتنی نازک سی حسین لڑکی تھی جو دیر تک اداس نہ رہ سکتی تھی۔وہ لڑائی کے بعد جلدی ہی سندرلال سے پیار سے بات کرتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ سبھی مردوں کا یہی طریقہ کار ہوتا ہے اس لئے وہ اسے عام سی بات سمجھتی تھی۔

سندرلال کو اس نے پہلی بار اپنی بہن کی شادی میں دیکھا تھا۔ سندر لال کو یہ سب باتیں یاد آتی ہیں اور اسے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اپنے دل میں سوچتا ہے کہ اغوا ہونے والی عورتوں کا کیا قصور ہے، قصور تو ظالم سماج کا ہے۔ چنانچہ وہ ریلی کے دوران لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اغوا شدہ عورتوں کے واپس آنے پر انہیں خلوص دل سے اپنائیں اور انہیں عزت دیں۔اس دوران مس مردولا سارا بھائی خاتون چند اغوا شدہ عورتوں کو تبادلے میں لاتی ہے۔ عورتوں میں سے کچھ کو تو ان کے گھر والوں نے اپنایا لیکن کچھ ایسی بھی تھیں جنہیں ان کے اپنوں نے جان بوجھ کر پہچاننے سے انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ ان عورتوں کو اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے اپنی جان دینی چاہیے تھی۔سارا بھائی کی لائی ہوئی عورتوں میں لاجونتی شامل نہیں تھی جس پر سندر لال کو بہت دکھ ہوا تھا لیکن اس نے کمیٹی کے مشن کو اور زیادہ زور شور سے جاری رکھا۔صبح کی ریلی کے علاوہ وہ اور اس کے ساتھی اب شام کو بھی ریلی نکالنے لگے تھے۔

ایک بار صبح سویرے جب سندر لال اپنے ساتھیوں سمیت ریلی کے ساتھ جا رہا تھا کہ ریلی اس جگہ پہنچی جہاں نارائن بابا رامائن کی کتھا سنا رہے تھے۔اس وقت بابا رامائن کا وہ حصہ سنا رہے تھے جس میں ایک دھوبی اپنے دھوبن کو گھر سے نکال دیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں رام چندر جی نہیں ہوں جس نے اتنے سال راون کے ساتھ رہ کر بھی سیتا کو اپنایا۔ رام چندر جی یہ سن کر سیتا جی کو گھر سے نکال دیتے ہیں حالانکہ وہ حاملہ ہوتی ہیں۔نارائن بابا یہ واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسی کو رام راج کہتے ہیں۔ سندرلال نارائن بابا سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا رام راج نہیں چاہئیے جہاں اپنے آپ سے بے انصافی کرنے کو باپ نہ سمجھا جائے۔ وہ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج بھی ہم اغوا شدہ عورتوں کی شکل میں سیتا کو گھر سے نکال رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ راون کے پاس رہ کر آئی ہیں۔ہم کیوں نہیں سوچتے کہ سیتا جی کا کوئی قصور نہیں تھا وہ بھی ہماری اغوا شدہ ماؤں بہنوں کی طرح وحشت اور فریب کا شکار ہوئی تھی۔سندر لال سیتا اور پھر لاجونتی کا نام لے کر رونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھی سندرلال زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اسی صبح لال چند نام کا ایک شخص سندر لال کے پاس آتا ہے اور اسے یہ خوشخبری سناتا ہے کہ اس نے لاجونتی کو واگا سرحد پر دیکھا ہے۔وہ کہتا ہے کہ عورتوں کے تبادلے کے دوران ہندوستان اور پاکستان کے ولنٹئیرز کے درمیان جھگڑا ہوا۔جھگڑا اس بات پر ہوا کہ ہندوستانی والینٹرز کہتے تھے کہ پاکستانیوں نے جو عورتیں بدلے میں دی ہیں وہ عمر رسیدہ اور بیکار ہیں۔ اس پر پاکستانیوں والنٹیئر لاجونتی کو سامنے لا کر کہتے ہیں کہ یہ تمہیں بوڑھی لگتی ہے۔؟ تکرار بڑھتی ہے اور دونوں فریق اپنا اپنا مال یعنی عورتیں واپس لے جاتے ہیں۔ بیدی اس واقعے کو انسانی اقدار کے خاتمے، انسانی و اخلاقی گراوٹ اور عورتوں کی توہین سے تعبیر کرتے ہیں۔

بہرحال سندرلال واگا سرحد پر جانے کی تیاری کررہا تھا کہ اسے لاجونتی کے آنے کی خبر ملی تو فوراً اس سے ملنے گیا۔ لاجونتی سندرلال کو دیکھ کر بہت ڈر گئی کہ وہ تو اس سے پہلے ہی اس قدر مارتا تھا اور اب جبکہ وہ ایک پرائے مرد کے ساتھ رہ کر آئی ہے اس کا کیا حشر کر دے گا۔سندر لال اس کی اچھی صحت دیکھ کر سوچنے لگا کہ وہ پاکستان میں خوش رہی ہے۔ لیکن پھر وہ خود سے سوال کرنے لگا کہ اگر وہ اس قدر خوش تھی تو پھر وہ واپس اس کے پاس کیوں آئی؟ پھر اس نے سوچا کہ وہ غم کی وجہ سے موٹی ہوگئی ہے اور صحت مند نظر آتی ہے۔وہاں اور بھی کئی لوگ موجود تھے ان میں سے کسی نے کہا کہ ہم مسلمان کی جھوٹی عورت نہیں لیں گے۔ لیکن یہ آواز سنتے ہی سندر لال کے ساتھیوں نے نعرے لگانے شروع کئے جن کی گونج میں یہ آواز دب کر رہ گئی۔سندر لال اپنی بیوی لاجونتی کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ لاجونتی کے واپس آ جانےکے بعد بھی سندر لال نے "دل میں بساؤ” تحریک کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا۔ پہلے جن لوگوں کو سندر لال کی باتیں کھوکھلی نظر آتی تھیں وہ اب لاجونتی کو عزت سے گھر لے جانے کے بعد سندر لال کی باتوں کے قائل ہوگئے۔ ادھر لاجونتی جو پہلے اپنے شوہر کی بدسلوکی کی وجہ سے خوفزدہ رہتی تھی اب اس کا بہت اچھا سلوک دیکھ کر خوش تھی۔

سندر لال نے صرف ایک بار لاجونتی سے پوچھا کہ وہ کون تھا جس نے اسے اغوا کیا تھا اور وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرتا تھا؟ اس پر جب لاجونتی نے کھل کر بات کرنی چاہیے اور اپنے آپ پر بیتی ہوئی ساری کہانی سنانی چاہی تو سندر لال نے اس موضوع کو ہی ڈال دیا اور لاجونتی کی باتیں اس کے دل میں ہی رہ گئیں۔سندر لال لاجونتی کو اب دیوی کہتا تھا۔ وہ اپنے جسم کو دیکھنے لگی جو تقسیم کے بعد دیوی کا جسم بن چکا تھا۔ کئی روز بعد لاجونتی کی خوشی شک میں بدل گئی۔ شک کی وجہ یہ تھی کہ سندرلال اس سے بہت ہی اچھا سلوک کرتا تھا۔ وہ سندر لال کی وہی پرانی لاجو ہونا چاہتی تھی جو چھوٹی سی بات پر جھگڑ دیتی تھی اور پھر جلدی ہی پیار بھی کرنے لگتی تھی۔ لیکن اب سندرلال لڑائی کا نام بھی نہ لیتا تھا۔ لاجونتی یہ محسوس کرنے لگی تھی کہ جیسے وہ کوئی کانچ کی چیز ہے جو چھونے سے ہی ٹوٹ جائے گی۔وہ آئینے میں اپنا سراپا دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ وہ سب کچھ تو ہو سکتی ہے لیکن اب وہ لاجو نہیں ہو سکتی۔وہ دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ وہ بس گئی، مگر اجر بھی گئی۔سندرلال اس کے دکھ سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ بہرحال سدھار کی ریلیاں نکلتی رہیں اور سندر لال اور اس کے ساتھی مل کر وہی گانا گاتے رہے جس سے اس افسانے کا آغاز ہوتا ہے۔

Advertisements