آب حیات محمد حسین آزاد کا تحریر کردہ اردو شعراء کا تذکرہ ہے جس سے ایک طرف ادبی تاریخ نویسی کا راستہ کھلتا ہے اور دوسری طرف اردو زبان کی عہد بہ عہد ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔آب حیات کا پہلا ایڈیشن 1880ء میں شائع ہوا اور دوسرا 1883ء میں منظر عام پر آیا۔

مولانا محمد حسین آزاد کی ‘آب حیات’ کو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔اس میں سخن ہائے ادب کے مختلف ادوار کا ذکر نہایت اچھوتے اور دلکش انداز میں کیا گیا ہے۔اس تذکرے سے شعر و ادب کی ایک جامع اور دقیع تاریخ مرتب ہوتی ہے، جو اس سے پہلے کسی ادبی تذکرے میں اس انداز سے موجود نہیں تھی۔لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آزاد نے پہلی بار اپنے دور میں تذکرہ نگاری کا ایک نیا باب ایجاد کیا۔واقعات نگاری کے ساتھ ساتھ شخصیات کی تصویر کشی میں آزاد کی تخلیقی اور فنکارانہ تحریر قاری کو مسحور کر دیتی ہے اور وہ اسی سحر میں اپنے آپ کو اس کتاب کا ایک کردار محسوس کرتا ہے۔

اساتذہ کے ادبی معرکے، شعراء کی معاصرانہ چشمکیں اور چھیڑچھاڑ اس تزکرے کا حسن ہے، جسے مصنف نے ایک داستانی اسلوب کے تحت نہایت دلکش انداز میں کیا ہے۔آب حیات میں محمد حسین آزاد نے شاعروں کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے۔پہلے دور میں 6 شعراء کو شامل کیا ہے جن کے نام شمس اللہ ولی (ولی دکنی)، شاہ مبارک آبرو، شیخ شرف الدین مضمون، محمد شاکر ناجی، محمد احسن احسن اور مصطفی خان یکرنگ ہیں۔

دوسرے دور میں تین شعراء کا ذکر ہے جن میں شاہ حاتم، سیراج الدین علی خان آرزو اور اشرف علی فغاں کے نام شامل ہیں۔

تیسرے دور میں سات شعراء کا تذکرہ ہے جن میں مرزا جان جاں مظہر، میر عبدالحئی تاباں، مرزا رفیع سودا، میر ضاحک، میر درد، میر سوز اور میر تقی میر کے نام شامل ہیں۔

چوتھے دور میں چار شعراء کا تذکرہ ہے جن میں شیخ قلندر بخش جرأت، میرحسن، سید انشاءاللہ خان انشاء، اور شیخ غلام ہمدانی مصحفی کے نام شامل ہیں۔

پانچویں دور میں نو شعراء کا تذکرہ ہے جن میں شیخ امام بخش ناسخ، میر مستحسن خلیق، خواجہ حیدر علی آتش، شاہ نصیر، مومن خان مومن، شیخ ابراہیم ذوق، مرزا اسد اللہ خان غالب، مرزا سلامت علی دبیر، اور میر ببر علی انیس کے نام شامل ہیں۔اس طرح محمد حسین آزاد نے آب حیات میں کچھ 29 شعراء کا تذکرہ کیا ہے۔

شعر و ادب سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہو جس نے اس سے ذوق و شوق سے نہ پڑھا ہو۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بعد کی تحقیق نے کئی نئے زاویے تراشے لیکن "آب حیات” ایک ایسا تذکرہ ہے جس نے بعد کے تذکروں کو تحقیق کی نئے رحجان سے روشناس کروایا۔اس اعتبار یہ کتاب شعراء کے حالات واقعات کے ضمن میں ایک احساسی حیثیت کی حامل ہے۔
اس کتاب کو پڑھنے یا ڈونلوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

Close