استاد کا معنی ہم نے ان لفظوں میں لیا ہے کہ وہ کسی کو تعلیم سے روشناس یا آگاہ کریں۔ ٹھیک ہے وہ یہ کام بخوبی انجام دیں لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہۓ کہ استاد کو روزانہ کم از کم دو تین گھنٹے مطالعہ کرنا چاہۓ۔ اگر بلگیٹس کو دیکھا جاۓ تو وہ ہفتے میں ایک اور سال میں پچاس کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ اگر استاد خود مطالعہ نہیں کرتا ہے تو میرے خیال سے وہ سوکھے ہوۓ درخت کی مانند ہے جو آہستہ آہستہ سے خاک کی طرح بوسیدہ ہو جا تا ہے۔ جنگلوں میں ایسے گرے پڑے درخت دیکھنے کو بہت مل جاٸیں گے۔
استاد قوموں کا ایک معمار ہوتا ہے۔ اس سے قوم سنور بھی جاتے ہیں اور بگڑھ بھی جاتے ہیں۔ یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں ۔کہ استاد سے قوم سنورتے ہیں لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ اس سے کوٸی قوم بگڑھ بھی سکتی ہے۔ جب استاد نے خود محنت نہیں کی اور بچوں کو وہ نہیں ملا جس سے ان کو فیض یافتہ ہونا تھا ممکن ہے کہ بچے یا شاگرد اصل علم سے مفر ہو جاٸیں گے۔ جب استاد ایسے ہی بلا تیاری کلاس روم میں جاۓ گا پہلے تو اس کو خود دن میں تارے نظر آ جاٸیں گے پھر تو بچوں کا کیا حال ہو گا۔ یہ تو خدا ہی جانے۔ ایسے میں ایک استاد اگر جفا کش نہیں ہوتا ہے تو میرے خیال سے وہ بے مصرف چراغ ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ یہاں مجھے علامہ اقبال ؒ کا ایک شعر یاد آگیا وہ فرماتے ہیں:
بے محنت پیہم کوٸی جوہر نہیں کھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے خانہ فرہاد
استاد کے اوپر جو ذمہ داریاں میرے خیال سے نافذ یا عاید ہوتی ہیں وہ کچھ اسطرح ہیں:
- الف: طلبہ میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا
- ب۔ خود ہر روز مطالعہ کرنا
- ج۔ کردار و گفتار میں تجہیز
- د۔ علم اور تجربے سے آراستہ
- ہ۔شاگردوں کے ساتھ مشفقانہ رویہ اختیار کرنا تاکہ وہ استاد سے بلا ججک کوٸی سوال پوچھے۔
- اب یہ بھی تو ضروری نہیں کہ استاد کے پاس سب چیزوں کا علم ہولیکن اسکو کہنا چاہۓ کہ اس سوال کا جواب آپکو کل مل جاۓ گا لیکن ایک استادکو یہ بھی یاد رکھنا چاہۓ کہ Delays are dangerous یا Procrastination is the thief of time . اس سے وہ استاد نا قابل تو نہیں ہوا بل کہ اس نے محنت کر کے بچوں کو کل آکے جواب دینا ہے۔ وہ تو کوٸی ولی بھی نہیں ہے کہ اسکو الہام ہو سکے ہاں وہ تو وحی اور وجدان کو چھوڑ کے ذاتی محسوسات یا جسمانی مشاہدہ و تجربہ، اسناد و روایات اور عقل کے ذریعے حقیقت سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ جیسے صاحب انکشاف تنقیدی اصطلاحات عقلیت Rationalism کے بارے میں صفہ نمبر 170 پر رقمطراز ہیں:
- “مختلف لوگ حقیقت کو سمجھنے کے لۓ مختلف ذراٸع پر اعتماد کرتے ہیں۔ حقیقت سے آگاہی حاصل کرنے کے ذراٸع یہ ہیں:
- الف۔ ذاتی محسوسات یا جسمانی تجربہ و مشاہدہ
- ب ۔ وحی
- ج۔ وجدان
- د۔ اسناد و روایات
- ہ ۔ عقل
- و۔ طلبہ میں استفہامیہ یعنی سوال کرنے کا انداز پیدا کرنا۔ وہ بھی خاص کر کیوں؟ اور کیسے ؟ سوالوں سے۔ بچوں میں سوال کرنےکی صلاحیت بیدار ہونی چاہۓ کیونکہ یہ Parker کا بھی کہنا ہے کہ Questioning is the key to all educative activities .
- ز ۔ اشاروں کی زبان جاننے والا۔ یعنی ایک استاد کو پتھر کی طرح جامد نہیں بل کہ اسے متحرک ہونا چاہۓ۔ اسے Gesture language استعمال کرنی چاہۓ تاکہ بچے اکٹاہٹ یا بے لذتی محسوس نہ کریں۔
پڑھانے کے کچھ phases یا کچھ steps ہوتے ہیں. وہ یہ ہیں:
- pre-active phase پڑھانے سے پہلے
- inter-active phase دورانِ تدریس
- Post-active phase تدریس کے بعد یعنی evaluate کرنا
- یا بچوں سے کچھ سوالات کرنا اور recapitulation یعنی دوبارہ دوہرانا یا تلخیص summarize کے ساتھ بیان کرنا۔
یہ تھیں میری طرف سے کچھ گزارشات و تجویزات معلم کے بارے میں۔ آخر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ خود حضرت محمد ﷺ نے فرمایا اِنَّما بعِثتُ مُعلماً( بحوالہ ابن ماجہ حدث نمبر 229)۔ تو پتا چلا کہ یہ یعنی تعلیم سکھانا پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ اس پیشے کی ہمیں بہت قدر کرنی چاہیے۔