ادب میں تحقیق و مخطوطات کی اہمیت

تحریرڈاکٹر محمد آصف ملک علیمی
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، جموں وکشمیر

مخطوطہ ادب میں نخل (بیج) یا اصل (جڑ) کی اہمیت رکھتا ہے۔ جو اصل، تحقیق کی شکل میں ایک فربہ تنا بن کر شاخ نقد کی صورت میں پھیل کر امکاناتِ معنیٰ کے جوہر پشتوں کے پیرا میں ابلاغ و ترسیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انہیں علمی، ادبی، تحقیقی ، انتقادی اوراق کے سائے تلے ، اہل علم و ادب اور اہل شعور و ذوق حضرات ، علمی ، ادبی، تحقیقی اور انتقادی آسودگی حاصل کرتے ہیں۔

تحقیق اپنی یا زیابی اور سچائی کی ان تھک کوششوں کے سبب اس حقیقت سے پردہ کشائی کرنے میں سرخرو ہو جاتی ہے کہ اس درخت اصل یا اس کے نخل فلاں چیز ہے ، تب جا کر شجر نقد پر امکانات معنیٰ کے صحت یاب اور شیریں ثمرات بار آور ہو پاتے ہیں۔ کسی چنار یا سیب کے درخت کی قلم کسی دوسرے پیڑ کے تنے پر لگادی جاتی ہے اگر چہ وہ قلم کسی دوسرے پیڑ کے تنے پر چنار یا سیب کے پودے کی شکل اختیار کرلے گی لیکن اپنی جڑ کو تیار کرنے میں وہ قلم ضرور کسی دوسرے درخت کے تنے کی محتاج ہو گی جس کے دامن میں اس نے اپنی اصل کو تیار کیا ہے۔ نتیجہ یہی حق پر مبنی ہوگا کہ بلا واسطۂ غیر اس کا تعلق دامن زمین سے نہیں جڑ سکا، اس کا محقق ضرور اس حقیقت کا انکشاف کر ڈالے گا کہ اس پودے کی اپنی اصل یا نخل (بیج) زمین کی گود میں نہیں بلکہ اسے قلم لگا کر تیار کیا گیا ہے۔

اس درخت کے جوان ہونے کے بعد اس کے مفید یا غیر مفید پہلو میں سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ راست اوقات (دن) میں درخت یا پودا آکسیجن فراہم کرتا ہے اور غیر راستہ اوقات (رات یا رات کی تاریکی میں) یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتا ہے ٹھیک اسی طرح اگر متن صحت کے اصولوں کو پا لے تو دماغوں کی تازگی اور ترقی کا سبب بنے گا اور اگر متن یا مخطوطے کی تدوین گمراہ کن طریقوں سے انجام کو پہنچی تو علمی معاشرہ اور سماج گمراہیوں اور دماغی مرض کی دلدل میں سر پٹکتا رہ جائے گا۔ ذہن کو قریب تر کرنے کے لیے پیڑ کی اس پر غور کر لیں۔

ضروری نہیں کہ ہر لحاظ سے من و عن یہ ادب کے مفید اور غیر مفید ہونے میں منطبق ہو، تشبیہ کسی ایک اشتراکی وصف کی بنیاد پر بھی ہو سکتی ہے اور دو یا چند اشتراکی وصف کے باعث بھی، مکمل طور پر صادق آنے والی صنعت، تشبیہ نہیں بلکہ وہ کچھ اور کہلاتی ہے۔
اسی طرح مخطوطہ، قلمی نسخہ یا متن کو بآسانی اور خوبصورت انداز میں سمجھا جا سکتا ہے کہ متن یا قلمی نسخہ، اداب تحقیق اور نقد و انتقاد کے پیڑ میں اصل (جڑ) یا نخل (بیج) کا دوسرا نام ہے۔ صحیح تحقیق کے نتائج ہمیں اس حقیقت تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں یہ تحریر، متن، قلمی نسخہ یا مخطوطہ فلاں فنکار یا فن پارہ یا ادب پارہ ہے تبھی وہ فن پارہ یا ادب پارہ ادب میں لائق اعتبار اور استناد کا درجہ حاصل کر سکتا ہے اور اس پر نقد کا دلکش مینار کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر فن پارے کی تدوین اصول تدوین و تحقیق کا لحاظ رکھتے ہوئے سختی اور اخلاص کے ساتھ انجام کو نہ پہنچے تو پھر کوئی بھی متن نہ مستند ہو سکتا ہے اور نہ ہی مفید، لہذا یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ادب میں تحقیق و مخطوطات کی اہمیت اصل یا نخل اور درست و سالم مضبوط تنے کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے ادب سدا بہار یا سرسبز و شاداب اور ثمرات سے پُر ایسے درخت کا وجود اختیار کر لیتا ہے جس سے ہر شخص مستفیض و مستفید ہو سکتا ہے۔

”مخطوطہ مادہ خط سے اسم مفعول ہے ، جس کا معنی ہے لکھا ہوا، یا تحریر، لیکن اصطلاحِ ادب میں ایسی تحریر کو کہا جاتا ہے جو فن کار کا قلمی نسخہ اور بہ معنیٰ ہو۔ اس نسخے کی عمر کم از کم پچاس سے پچھتر ۷۵ برس کی ہو۔

اسی مخطوطے یا قلمی نسخے پر صحیح متن کے تحقیقی منازل سے گذر کر تنقیدی کارگزاریوں کے دائرے کا آغاز ہوتا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ اگر مخطوطہ یا قلمی نسخہ تصحیح متن کا یقین نہیں دے رہا ہے تو کسی بھی علم یا ادب کی بنیاد اس پر نہیں رکھی جاسکتی اور نہ ہی اُس کی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کہ یہ کتاب تین یا چار صدی پہلے کی ہے۔ اُس کی حقیقت تک پہنچے کے لئے ایک مدوّن کو اس کا خیال رکھنا ہوگا کہ تین یا چار صدی قبل لکھنے والوں کی زبان ، لب ولہجہ محاورات اور لفظیات (Dictation) کیسی تھیں۔ اس علم کے ذریعے یہ آسانی ہو جائے گی ، آیا جس فن پارے کے بارے میں تین یا چار صدی پہلے لکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہ درست ہے یا نہیں کیوں کہ بعض شاطر دماغ لوگ ایسا دعویٰ اس لئے کرتے ہیں کہ یا تو وہ دعویٰ کر نے والا کسی بڑے خاندان کا چشم و چراغ ہوتا ہے تا کہ ہمارے خاندان کی فضیلت بڑھ جائے یا کسی ادبی ادبستان کا نمائندہ ہوتا ہے تا کہ ہمارے دبستان کو کسی صنف اولیت کا سہرا مل جائے۔

ابتدائی ریختہ کی تخلیق کے عہد میں فارسی و عربی زبانوں کا تتبع کیا جاتا تھا اور فارسی لفظ ”گ“ کا دوسرا مرکز نہیں لکھا جاتا تھا جو تقریباً انیسویں صدی کے وسط کے بعد لکھا جانے لگا۔ اس سے پہلے ک، گ، میں کوئی املائی امتیاز نظر نہیں آتا تھا یا زبان کی قدامت جو بعد کی جدت سے یکسر مختلف ہے اور بہت سارے املے کے اختلافات جو انیسویں صدی کے وسط سے قبل پائے جاتے ہیں اور بعد میں یا آج نہیں ہیں ، مدون اگر اختلافات و اشتراکات سے واقف ہے یا ہم ہیں، تو اس حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ تحریر جو بیسوی یا اکیسویں صدی میں لکھی گئی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سترویں یا اٹھارویں صدی کی تحریر ہے یقیناً یہ تحریر بیسویں یا اکیسویں صدی کی ہے نہ کہ سترویں یا اٹھارویں صدی کی۔

دوسرا طریقہ جدید ٹیکنالوجی کا ہے ، آج ہمارے پاس جدید سائنسی آلات موجود ہیں جن کے ذریعے ہم اس سچائی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں کہ فلاں قلمی نسخہ یا متن ایک یا دو صدی پہلے کا ہے یا زیادہ۔

جدید ٹیکنالوجی میں کسی چیز کی قدامت کو جاننے کے لئے فوسل ریکارڈ ہے جس کے اصطلاحی معنیٰ ہیں کہ کسی جاندار کے اس جسم کو فوسل کہتے ہیں جو ایک طویل مدت پہلے مر چکا ہو لیکن وہ آج بھی اپنی فطری صورت میں باقی ہو مثلاً انسان کا ڈھانچہ یا جانور کا ڈھانچہ ، سائنس کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے پتہ لگا لیتی ہے کہ یہ چیز کتنی پرانی ہے، جیسے کہ ایک میڈک دو سو اسی (280) ملین سال قبل بھی ویسا ہی تھا جیسا کہ آج ہے۔

عدنان اوکتار المعروف ہارون یحییٰ ترکی (پ1956) نے فوسل ریکارڈ کے ذریعہ اپنی کتاب ”اٹلس آف کری ایشن (Atlas of Creation) میں چارلس رابرٹ ڈارون (پ 1809 ء م 1882) کے اس نظریے کہ انسانی بندر کی ترقی یافتہ شکل ہے، کو رد کر دیا اور یحییٰ نے ناقابل تنسیخ دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ارتقائی عمل (Evolution) ناممکن اور محال ہے۔

اسی طرح نشانات انگشت (Finger Prints) سر فرانس گالٹ کی تحقیق کو اٹھارہ سو اسی (1880ء) میں نشانات انگشت کی شناخت کو سائنسی طریقے کا درجہ حاصل ہوا ہے ، جس کے ذریعے سے آج ہم اس راز سربستہ کا پتالگا سکتے ہیں کہ کسی چیز کے اوپر کس شخص کے نشانات انگشت ہیں ، اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی آلات کے ذریعے اس حقیقت تک بھی پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ تحریر کس کی اور کتنی پرانی ہے، ایک تحریر سائن کو دوسرے تحریر سائنس سے تقابل کر کے صحیح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ، اگر ان طریقوں کو استعمال میں نہ لایا جائے تو ادب، تحقیق اور علمی تحریروں میں گمراہوں کے در آنے کا کلی یا جزوی طور پر یقینی ہے اس لئے ادب صحیح ادب کہلانے کے مستحق اُسی وقت ہوسکتا ہے جب اُس کے اصلی فن کار اور عہد تک پہنچا جاسکتا ہو اور یہ عمل ایک مدون محقق کی تحقیقی خدمات کے باعث ہی ممکن ہے۔ مان لیجئے اگر ان تمام جدید آلات کے ذریعے ہم اصل مخطوطے اور مصنف تک رسائی حاصل کر لیتے بھی ہیں پھر مسئلہ بن جاتا ہے کہ ان کی قرآت کیسے ممکن ہو ، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر عہد کے مخطوطات کی قرآت کے لئے کچھ محقق افراد تیار کئے جائیں جو قدیم زبانوں کے املے کی جانکاری حاصل کریں ورنہ جتنا بھی تنقیدی یا تحریری سرمایہ ان غیر تحقیق شده مخطوطات ( Manuscripts) جڑیا (اصل) کی حیثیت رکھتے ہیں اور تحقیق اس اصل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو ادب کو معتبر اور مستند بنا کر فائدہ بخش اور ترقیِ علم کا باعث بنتی ہے۔ چوں کہ مدوّن و مرتبین کلام غالب کے نسخوں کو دیکھنے سے یہ یقین اٹھ جاتا ہے کہ اگر غالب جیسے عظیم اور شہرت یافتہ شاعر کے کلام میں اختلاف متن اور اغلاط متن کے اتنے شاخسانے ہیں تو پھر باقی شعرا یا ادبا کے فن پاروں یا ادب پاروں کا اللہ ہی حافظ ہے ان کے متون پر کیسے اعتماد کیا جائے۔

دیوان غالب ، حیات غالب میں چھ بار چھپا تھا۔ پہلی دفعہ سید المطابع دہلی سے ۱۸۳۱ء میں ، دوسری دفعہ مطبع دار السلام ۱۸۳۷ء میں دہلی سے ، تیسری دفعہ مطبع احمدی سے ۱۸۶۱ء میں، چوتھی بار ۱۸۶۲ء میں مطبع نظامی کان پور سے، پانچویں بار مومن و ذوق کے دواوین کے ساتھ ۱۸۶۲ء میں لیکن ان میں سے ایک بھی اس لائق نہیں تھا جو معیار غالب پر پورا اتر سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سب سے اعتبار والا مطبع نظامی کان پور کا نسخہ ہے ، بعد وفات غالب ، کلامِ غالب کو اتنی بار زیورِ طباعت و اشاعت سے آراستہ کیا گیا ہے اس کے لئے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے۔ ان میں نسخہ مالک رام، گل رنما، نسخہ حمیدیہ ، مرقع چغتائی نسخہ عرشی ، نسخہ حسرت موہانی نسخہ حامد عالی خان ، عام صدی اڈیشن اور دیوان غالب مرتبہ نور الحسن نقوی قابل ذکر ہیں۔

جس عہد کے مخطوطے کی تفہیم اور شناسائی مقصود ہو، مدوّن کے لئے ضروری ہے کہ اُس عہد کی لفظیات کی ہیت پر ضرور غور کرے ، پیشِ نظر قلمی نسخے کے مقابل اُس عہد کے دیگر قلمی نسخوں کو عرق ریزی کے ساتھ دیکھے تا کہ اُس عہد کے رسم الحظ اور املے کی ہیئت کو سمجھا جاسکے۔

عہد غالب میں یا اس سے قبل یائے معروف و مجہول کو حسب منشا کبھی ”ی“ اور کبھی ”ے“ لکھ دیا جاتا تھا ، بعد کے بعض مرتین اور اہلِ تدوین حضرات نے املے کے اس ہیئتی اشتراک کا خیال نہیں رکھا اس طرح ہائے لٹکن اور ہائے دو چشمی کے املے کی ہیئت کا خیال نہیں رکھا گیا۔ جس کے سبب گہر ( موتی ) کو گھر ، اور گھر ( خانہ ) کو گہر ( موتی ) لکھ دیا جاتا تھا۔ ایسے ہی یائے معروف و مجہول میں امتیاز نہ کرنے کے سبب میری بیٹی اور میری بیٹے کا امتیاز نہ رہا، مسعود حسن رضوی نے فائز دہلوی کے مخطوطہ کلیات سے ایک مثال پیش کی ہے جسے پروفیسر گیان چند جین صاحب نے اپنی تصنیف ”تحقیق کا فن“ میں پیش کیا ہے کہ ”کالی ندی کمانی“ جسے ”گالی نہ دے گمانی“ پڑھنا چاہئے۔

اسی یائے معروف و مجہول کا فرق نہ کرتے ہوئے مرتبین کلامِ غالب نے بھی مذکر و مونث کی غلطیاں کر ڈالی ہیں اس شعر کو دیکھا جا سکتا ہے:

دیوانگی سے روش پر زنار بھی نہیں
یعنی ، ہمارے حبیب میں اک تار بھی نہیں

”جیب“، ” گریبان“ کے معنیٰ میں مذکر ہے چوں کہ دیوانِ غالب کے قدیم نسخوں میں عموماً یائے معروف کا استعمال ہوا ہے، اس لئے دیوان کے جدید متداول نسخوں میں بھی ” ہمارے جیب“ کے بجائے ”ہماری جیب“ چھپ گیا اور یہ غلطی عام ہوگئی ہے۔

کلامِ غالب کے ترتیب شدہ نسخوں میں اختلاف متن پر غور کریں:

کیا وہ بھی بے گنہ و حق نا شناس ہیں
مانا کہ تم بشر نہیں ، خورشید و ماہ ہو

نسخہ نظامی میں ”حق ناسپاس“ ہے جس سے مطلب کی وضاحت نہیں ہو پاتی ممکن ہے یہ کتابت کی غلطی ہو اس لئے بعض قدیم نسخوں میں ” حق نا شناس“ بھی ملتا ہے ، حسرت موہانی ، مولانا امتیاز علی خاں عرشی اور میر نے اس کو ترجیح دی ہے۔

پڑیے اگر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمار دار
اور اگر مرجائے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

لفظ ” بیمار دار“ کی جگہ اب عام طور پر ”تیمار دار“ پڑھا جاتا ہے جب کہ اصل نسخے میں ” بیمار دار“ ہے اور قدیم نسخوں میں اس کی پیروی کی گئی ہے بعد کو جب ”تیمار دار“ رائج ہوا تو مرتبین نے یہاں بھی تحریف کر ڈالی اور منشائے غالب کو فنا کر ڈالا۔ دیوان مرتبہ مجلس یادگار غالب کے مرتب حامد علی خان صاحب کی رائے درست معلوم ہوتی ہے کہ غالب کا لفظ ”بیمار دار“ ہی ہے اور ثبوت غالب کا یہ شعر ہے جس کو نور الحسن نقوی صاحب نے اپنے ترتیب شدہ دیوان غالب میں پیش کیا ہے:

لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج

مندرجہ ذیل شعر میں دیکھئے کہ کیسے ایک اضافت کے سبب منشائے غالب ہی بدل جاتی ہے:

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

نسخہ مالک رام اور نسخہ حمید یہ میں ”پنہا تھا دام سخت قریب آشیان کے“ ہے دام کی اضافت سے مفہوم بدل جاتا ہے جب کہ شاعر کی مراد “سخت قریب“ سے ”نہایت قریب“ معلوم ہوتی ہے۔

تب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاں
جب اک نفس اُلجھا ہوا ہر تار میں آوے

نسخۂ نظامی ، نسخۂ طباطبائی، نسخۂ حسرت موہانی اور متعدد دیگر نسخوں میں ” دل نالاں“ چھپا ہے۔ جب کہ عرشی اور مالک رام کے نسخوں میں ”دل ناداں“ ملتا ہے۔ حامد علی خاں لکھتے ہیں کہ شعر مضمون یہاں پر ”دل نالاں“ کا تقاضا کرتا معلوم ہوتا ہے۔

رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو، کیا ہے

بعض جدید نسخوں ” جب آنکھ ہی سے“ کر دیا گیا ہے کہ اس طرح مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے جب کہ اصل اور قابلِ اعتبار نسائخ میں بھی ” جب آنکھ سے ہی“ ہے اور دیوانِ غالب عام اڈیشن جسے صدی کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کی ناشر غالب اکیڈیمی بستی حضرت نظام الدین نئی دہلی ہے، میں تو اور بھی گل کھلائے گئے ہیں کہ اس میں صفحہ نمبر ۷۸ ۱ پر ہے:

رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ، ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا ، تو پھر لہو کیا ہے
کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
کہ ایک عمر سے حسرت پرست بالیں ہے

اصل اور دیگر معتبر نسخوں میں ” دل شوریدہ“ ہے۔ طباطبائی نے اسے برقرار رکھا ہے اور ساتھ ہی یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ غالباً ” بالیں” کی رعایت سے غالب نے ”سر شوریدہ“ کہا ہوگا۔ جسے نور الحسن نقوی صاحب نے دیوانِ غالب کے حاشیے میں پیش کیا ہے اور نسخۂ عرشی میں بھی ”سر شوریدہ“ ہی درج کیا گیا ہے۔

وہ آئیں گھر میں ہمارے ، خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

اس شعر میں ” وہ آئیں“ قابل غور ہے۔ نسخۂ نظامی میں ”آئیں“ کی جگہ ”آئے“ کر دیا گیا ہے ” آئیں“ ایک تو جمع کی طرف اشارہ کر رہا تھا (یہ الگ بات ہے کہ احترام کے لئے واحد کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور یہاں بھی واحد کے لئے معلوم ہوتا ہے)۔ دوسرا زمانہ استقبال کو ظاہر کر کے تمنا کی کیفیت کو شدت کے ساتھ پیش کر رہا تھا لیکن لفظ ” آئے“ ایک تو واحد کو ظاہر کرتا ہے اور دوسرا ماضی کو یعنی اُن کا آنا وقوع پذیر ہو چکا ہے، جو غالباً کتابت کی غلطی ہے، لیکن آئے سے بھی مطالب نکلتا ہے۔ مگر ” آئیں“ میں مطلب زیادہ واضح بھی ہو جاتا ہے اور جذبہ تمنا میں شدت بھی پیدا ہوتی ہے نیز انتظار کا لطف بھی بڑھتا جاتا ہے اور غالب جیسا شاعر اس قسم کے مزے زیادہ لیتا ہے۔

نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں
تیسرے زلفیں جس کے بزو پر پریشاں ہو گیں

مولانا حالی نے یہ مصر ” یادگار غالب“ طبع دوم صفحہ ۱۳۶ پر یوں لکھا ہے:
جس کے بازو پر تری زلفیں پریشان ہوگئیں

چلتے چلتے اختلافِ نسخ کا ایک شاخسانہ اور ملاحظ کر لیں : غالب نے یہ حضور شاہ ، قطعات پیش کئے ہیں جس کا ایک شعر اس طرح ہے:

تا ، تیرے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر
تا، ترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل

تو غیر بہ معنی افراط ہے جو تقلیل کی مناسب سے درست بھی معلوم پڑتا ہے جو قدیم نسخوں میں بھی برقرار ہے لیکن نسخۂ نظامی نیز نسخۂ آگرہ طبع ۱۸۶۸ء میں توقیر چھپا ہے جو سہوِ کتابت معلوم پڑتا ہے۔

دیوانِ غالب کی پہلی غزل کے ایک شعر میں قرآت کی غلطی کی جاتی ہے جس کے بعد میں جگہ جگہ اس نے املے کی غلطی کا روپ لے لیا ہے۔ تدوین متن میں مدون کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لغت کی جانکاری کا خاص خیال رکھے۔ غالب کے شعر:
کاؤ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جو سے شیر کا

میں کاؤ بہ معنی کاوش ہے جس کا کاؤ کاوِ پڑھنا درست ہے جب کہ بعض نسخوں میں ” کاوِ کاوِ“ اور بعض میں ” کاؤ کاؤ“ لکھا گیا ہے۔ ہر دو طرح غلط بھی ہے اور بے معنی بھی۔
مطبع نظامی میں غالب کا شعر اس طرح ہے:

حیف اس چارہ گرہ کپڑے کی قسمت ، غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

لیکن بعض نسخوں میں ” قیمت“ لکھا گیا ہے جو درست نہیں ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے حروف کا تعین محض نقطوں سے ہوتا ہے اور کاتب نقطے لگانے میں صحت سے کام نہیں لیتا، کہیں صحیح شوشے یا دندانے کے ساتھ نقطے نہیں رکھتا بل کہ دور لکھ دیتا ہے یا پورے نقطے نہیں لگاتا اور اس میں کسی اصول کی پابندی نہیں کرتا، ایسے موقعوں پر مدون کی عدم توجہی بھی تدوین متن میں غلطی پیدا کر سکتی ہے ، جس کی مثال میں غالب کے دو اشعار کو پیش کیا جا سکتا ہے:

افسوس کہ دنداں کا کیا رزق ملک نے
جن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہرا انگشت

نسخۂ نظامی اور بعض قدیم نسخوں میں ”دنداں” کی جگہ ” دیداں” ہے اور یہ جمع ہے عربی لفظ ”دودہ“ کی جس کے معنی ہیں کیڑا علم معانی کے اصول کے مطابق یہ لفظ نا مانوس ہے اور غالب جیسا عظیم شاعر ادبی وفنی اصطلاح کے مطابق غیرمانوس لفظ استعمال کرے قرین قیاس نہیں لگتا۔ نور الحسن نقوی دیوانِ غالب کے حاشئے میں لکھتے ہیں، نسخۂ مجلس یادگار غالب لاہور کے مرتب حامد علی خان صاحب نے اس کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ قبر میں صرف انگلی ہی نہیں بلکہ سارا جسم کیڑوں کی خوراک بن جاتا ہے۔ موجودہ صورت میں شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جن لوگوں کی انگلی اس قابل تھی کہ موتیوں جڑی انگوٹھی کے حلقے میں ہوتی وہ آج حیرت و افسوس سے ان کے موتیوں جیسے دانتوں میں دبی ہوئی ہے۔

نقطے کے زیادہ لکھنے کی ایک مثال یہ دیکھیے :

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

کلام غالب کے تمام قدیم نسخوں میں ردیف ” ہوئے تک“ اور جدید نسخوں میں ”ہونے تک“ ہے۔ نسخۂ حمید یہ میں بھی ”ہونے تک“ ہے۔ نور الحسن نقوی لکھتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ غالب جو فن کی باریکیوں پر گہری نظر رکھنے کے ماہر تھے وہ تنافر حرفی کے ایسے عیب کو اپنی غزل کی ردیف میں کیوں کر جگہ دیں گے۔

اتنے سارے تجزیے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں کہ اگر غالب جیسے عظیم شاعر کے کلام کی تدوین یا ان کے کلام کے مختلف نسخ کے درمیان اتنا اختلافِ متن جو آج تک کلی طور پر کسی ایک املا کے تحت نہ آسکا تو باقی شعرا کے کلام کے استناد کا ہم کیسے یقین کر لیں۔

لہذا اربابِ علم و دانش اور خاص کر یونی ورسٹیوں کے حل عقد کو اس گراں قدر اثاثے کی حفاظت کی جانب خصوصی توجہ کرنے کی ضرورت ہے جو صرف ہماری تہذیب و ثقافت اور تمدن و عقائد ہی کا بیش بہا سر مایہ نہیں بلکہ ہمارے علمی جوہر پارے اور شہ پارے ان میں ورثے کے طور پر موجود ہیں جن کی شناسائی سے ہم اور ہماری نسلیں حیرت انگیز ترقیاں کر سکتے ہیں ۔ ان مخطوطات کے تحفظ کے بغیر نہ ہی ہم اپنی تہذیب و ثقافت اور نہ ہی اپنے عقائد سے جڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی تدریس و تفہیم کے بغیر ہم ان مخطوطات سے علمی خزانے حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں اپنے ماضی اور علمی وراثت سے تعلق جوڑنے کے لیے ادب میں مخطوطات و تحقیق کی اہمیت کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ میں شروع میں ہی کہہ آیا ہوں کہ مخطوطہ ادب میں اصل یا نخل کی حیثیت رکھتا ہے جیسے جڑ کسی پیڑ کی بنیاد میں۔ اگر جڑ ہی کا وجود ختم ہو گیا تو پھر تحقیق و نقد کے درخت کا تصور ہی بے سود ہے۔

مصادر

  • ١- دیوان غالب مرتبہ نور الحسن نقوی
  • ٢-دیوان غالب ناشر: غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین نئی دہلی عام صدی ایڈیشن
  • ٣- تحقیق کا فن گیان چند جین
  • ٤- ادبی تحقیق: مسائل اور تجزیہ رشید حسن خاں
  • یاد گار غالب الطاف حسین حالی
  • مصباح اللغات لغت