• دھواں سا جب نظر آیا سواد منزل کا
  • نگاہِ شوق سے آگے تھا کارواں دل کا
  • چراغ لے کے کسے ڈھونڈتے ہیں دیوانے
  • نشان تو دور ہے یاں نام تک نہیں دل کا
  • کبھی تو موج میں آئے گا تیرا دیوانہ
  • اشارہ چاہیے ہے جنبشِ سلاسل کا
  • ازل سے اپنا سفینہ رواں ہے دھارے پر
  • ہوا ہنوز نہ گرداب کا نہ ساحل کا
  • نہ سر میں نشہ ہے باقی نہ دل میں کیفیت
  • زبان پر رہ گیا اک ذکرِ خیر محفل کا
  • وہ دست شل جو دعا کے لیے بھی اٹھ نہ سکے
  • ارادہ کون سے بل پر کرے گا ساحل کا
  • نہ جانے جھوٹ ہے یا سچ ہے وعدۂ فردا
  • اجل پہ فیصلہ ٹھہرا ہے حق عدم و باطل کا
  • پرائی موت کا احساں بھی ہے ہمیں منظور
  • کہیں طلسم تو ٹوٹے عدم کی منزل کا
  • خود اپنی آگ میں جلتاو تو کیمیا ہوتا
  • مزاج داں نہ تھا پروانہ شمع محفل کا
  • ہوا پھری افسردہ دلوں کی رت بدلی
  • ابل پڑا ہے کہیں رنگ نقش باطل کا
  • امید و بیم نے وہ راستہ ہی چھوڑ دیا
  • چراغ گل ہوا، جب آستانۂ دل کا
  • جواب حسن طلب بے دلوں سے بن نہ پڑا
  • حیا سے گڑ گئے جب نام آگیا دل کا
  • فلک ہے دونوں طرف کا نگہبان جب تک
  • نہ اپنی آنکھ اٹھے گی نہ پردہ محمل کا
  • حضور دوست یگانہؔ کچھ ایسے غائب تھے
  • زبان گنگ تک آیا نہ ماجرہ دل کا
Advertisements