• ہنوز زندگی تلخ کا مزا نہ ملا
  • کمال صبر ملا، صبر آزما نہ ملا
  • مری بہار و خزاں جس کے اختیار میں ہے
  • مزاج اس دل بے اختیار کا نہ ملا
  • جواب کیا، وہی آواز بازگشت آئی
  • قفس میں نالۂ جاں گاہ کا مزہ نہ ملا
  • امیدوار رہائی قفس بدوش چلے
  • جہاں اشارۂ توفیق غائبا ‌ نہ ملا
  • ہوا کے دوش پہ جاتا ہے کاروانِ نفس
  • عدم کی راہ میں کوئی پیادہ پا نہ ملا
  • ہزار ہاتھ اسی جانب ہے منزل مقصود
  • دلیل راہ کا غم کیا، ملا ملا نہ ملا
  • بس ایک نقطۂ فرضی کا نام ہے کعبہ
  • کسی کو مرکز تحقیق کا پتہ نہ ملا
  • امید و بیم نے مارا مجھے دوراہے پر
  • کہاں کے دیر و حرم گھر کا راستہ نہ ملا
  • خوشا نصیب ، جسے فیض عشق شور انگیز
  • بقدر ظرف ملا، ظرف سے سوا نہ ملا
  • سمجھ میں آگیا عجب عذرِ فطرتِ مجبور
  • گناہ گار ازل کو نیا بہانہ ملا
  • بجز ارادہ پرستی خدا کو کیا جانے
  • وہ بدنصیب جسے بخت نارسا نہ ملا
  • نگاہِ یاسؔ سے ثابت ہے سعی لاحاصل
  • خدا کا ذکر تو کیا ، بندۂ خدا نہ ملا
Advertisements