کمپنی کی زمین ، ملکہ کا ملک !

0
  • از قلم: محمود مظہر خاں موسی
  • صنف: افسانہ
  • نام: کمپنی کی زمین ، ملکہ کا ملک !

رنگیل پور کی فضا اس کے لغوی اور اصطلاحی دونوں معنوں کے برعکس تھی۔ اس میں متضاد کا عنصر اس قدر غالب تھا کہ رنگ پہ بھی بے رنگ کا گماں ہوتا۔ اس کے دشت و بحر میں یکسانیت کا یہ عالم تھا کہ دن رات کے متبادل نہ لگتا۔ کوہ ندا کا معاملہ بھی بے کیف معلوم ہوتا تھا۔ نہ منٹگمری جیسی ہاتھ میں لکیر کہ یہاں سے ریل کی پٹری گزرتی اور راتوں رات دیکھتے ہی دیکھتے سرزمین ہندوستان پر انگلستانی سائے تلے ایک ادنیٰ سا قصبہ کسی غیرمعمولی ضلع کی حیثیت قرار پا جاتا۔

ہر چشم دل قصداً اور غیر قصداً اس منظر کی عکاسی کرتی۔ روئیے زار زار کیا، کیجیے ہائے ہائے کیوں۔ افسوس صد افسوس کہ یہ امید بھی 14 اگست 1947ء کو گاندھی کی ہندوستان چھوڑ دو تحریک، علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کی تعمیر و تکمیل اور قائدا اعظم محمد علی جناح کی طلب اسلامی ریاست کی نذر ہو گئی۔ ہندوستان اب محض ہندوستان نہیں تھا بلکہ جہاں اب یہ ایک آزاد پاکستان تھا وہاں آزاد بھارت بھی تھا۔ انگریزی سامراج کی آخری شمع تک بجھ چکی تھی۔ یہ رابرٹ کلائیو کا ہندوستان نہیں تھا۔ جہاں آئے روز معجزے ہوتے اور یہاں کی عوام تکرار سے پہلے غلامی اختیار کر لیتی۔

اب یہ یہ رام اور رحیم کا ہندوستان تھا جہاں ظلم و جبر کی داستان تو از سر نو لکھی جا رہی تھی مگر سامراجی ترقی تک ناپید تھی۔ گویا ہندوستان کے ہر خطے کا نہ صرف مقام و مرتبہ اور حیثیت بدل چکی تھی بلکہ بیشتر کو اپنی سیاسی, سماجی، معاشی اور مذہبی قدرو قیمت کا بھی بخوبی ادراک بھی تھا۔ ہر خطے نے اپنے سر پر انفرادیت کا قلا پہن رکھا تھا۔ کوئی اسے اپنے اجداد کی میراث خیال کرتا تھا جبکہ کوئی اسے انگریز سرکار کے تشکر سے تشبیہ دیتا۔

بے خودی کہیں ہوں میں۔ مگر رنگیل پور پاکستان کے اس حصے پر واقع تھا جس کے خدوخال چیخ چیخ کر یہ الل اعلان کر رہے تھے کہ یہاں نہ کبھی سامراج کا سورج غروب ہوا ہے اور نہ ہی یہاں کبھی بھولے سے آزادی کا پروانہ پھڑکا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس پروانہ آج بھی مولوی محمد باقر کے جیسی انقلابی روش رکھنے کی بجائے اصول شمع کی پاسداری کر رہا تھا اور اسی میں اپنی تسکین و بقا خیال کئے ہوئے تھا۔ یہ صدیوں پہلے کی اس کی نامرادی کا صلہ و انعام تھا۔ گویا یہاں آزادی کے برسوں بعد بھی ایکٹ 1857 لاگو تھا۔

آسمان تو سبزہلالی تھا مگر زمین یونین چیک میں لپٹی ہوئی تھی جس میں جا بجا خون کے دھبے عیاں تھے۔ آخر اس بات میں حیرت کیا ہے، جرات کیا تھی۔ شک کی ضرورت کیوں کر۔ فقط آزادی کے چوتھے سال) 1951ء( میں جس کی تصدیق اور تشریح پاکستان کے حاکم نے کی اور درایوان سے قوم کو مخاطب کیا کہ یہ سازش محض پاکستان کے خلاف شازش نہیں بلکہ یہ ملکہ کے خلاف شازش رچائی گئی ہے۔ یہ آئین پاکستان کی ہی کی توہین نہیں بلکہ یہ آئین انگلستان کی بھی توہین ہے۔

یہ غلام کی اپنے حاکم کے خلاف بغاوت ہے۔ گو آج رنگیل پور میں آزادی کے پچاس برس بعد اس کی دوسری تصدیق کوئی غیر معمولی یا غیر فطری بات نہ تھی۔ بلکہ یہ گواہی اور شہادت انگلستانی قرض تھا جسے رنگیل پور نے ایک بار پھر سے جلا بخشی اور روایت کو دوبارہ زندہ کر دیا ۔ مگر آج رنگیل پور میں دوبارہ صدا ہی نہ صرف بلند ہوئی بلکہ ایک قیامت بھی برپا ہوئی۔ انقلاب، انگلستانی سامراج کا خاتمہ اور آزادی و ہجرت کے تمام تر لمحات ایک ہی پل میں طے ہو گئے۔ ساری کی ساری فضا یکسر بدل گئی ۔ آسمان کو زمین پر دے مارا ہو جیسے کسی نے۔

گویا یہ انقلاب ایران ہو جس نے شاہ کے برہنہ ایران کو خمینی کا برقعہ پہنا دیا ہو۔ عالم کی تمام سفیدی پر سیاہ رنگ غالب آ گیا ہو۔ وہ منتر پھونکا گیا کہ جس نے براہمن کو نیچ بنا دیا۔ ملا ، قاری، حافظ ،زاہد سب کے سب فتویٰ دینے پر بے کس اور قاصر نظر آنے لگے۔ شعور اور لاشعور کے تمام گوشے منجمد ہوگئے۔ جامی و رومی کی تمام تر اصطلاحیں ایک دیوانے کے بے ربط و بحر فقرے کے گرد گردش کرنے لگیں۔ حکمت کے تمام زاویے مہمل معلوم ہونے لگے۔ آج کسی سکندر کے لیے کوئی خضر نہ تھا کہ جو منزل کی نشاندہی اور راستے کے نشیب و فرازعیاں کرتا۔ ہرکوزہ یقیں سو گماں تھا۔ گویا شوکے کی عالم تقریر کا مدعا عنقا تھا۔

شوکے کے اس نعرے “کمپنی کی زمین،ملکہ کا ملک” نے رنگیل پور کو آزاد پاکستان کے نقشے پر ایسے دریافت کیا کہ گویا کرسٹوفر کولمبس نے امریکہ دریافت کر لیا ہو۔ یو تو شوکا نیم پاگل تھا مگر ایک بار جو بات اس کے ہاتھ لگ جاتی تو اس کا ورد تب تک بلند رکھتا جب تک سارا گ اؤں اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کر لیتا اور اس کی بات کی تائید نہ کر دیتا۔

آج اس نے گاؤں کے نمبردار اور شہری بابو کو خفیہ باتیں کرتے پایا۔ شہری بابو خفیہ باتوں اور سازشوں کا پلندا اپنے ساتھ لایا تھا۔ بلکہ یہ 1925 کے بعد پہلا سرکاری اور غیر سرکاری شخص تھا جس نے رنگیل پور کا رخ کیا تھا۔ ایسا رخ جو رنگیل پور کی ازسرنو تاریخ لکھنے جا رہا تھا۔ اس کی کارووائی زمین پر آسمان گرانے جا رہی تھی۔ شوکے نے انہیں یہ درپردہ گفتگو کرتے سنا کہ ہندوستان آزاد ہو چکا ہے۔ انگریزی سرکار روئے ہندوستان سے کب کی چل بسی۔ پاکستان اور ہندوستان کو بنے آج پچاس برس بیت چکے ہیں۔ رنگیل پور ہندوستان کے نقشے پر نہیں بلکہ پاکستان کے نقشے پر ہے۔ اس کی معلومات کے مطابق بڑے پیپل والے چار ایکڑ حکومت پاکستان کی ملکیت ہیں۔

جو اعداد شمار کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور لگانے کے لیے موزوں ترین جگہ ہے۔ بس نام بدلا ہے مگر آج بھی یہاں کا قانون مغربی طرز کا ہے کہ جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی بھی گاؤں یا قصبے میں موجود سرکاری زمین کی نیلامی اور خریداری کے سلسلے میں پہلا حق نمبردارکا ہے۔ اگر تم یہ چار ایکڑ خرید لو تو ہماری پرائیویٹ کمپنی کو ٹاور لگانے میں کوئی آڑنہ ہوگی۔ جس کے بدلے تمہیں لاکھوں روپے ماہانہ کمپنی کی طرف سے بطور کرایہ میسر آئیں گے اور زمین بھی تمہارے نام رہے گی۔ یہ معاملہ اسی طرح ہے جیسے ہندوستان کبھی کمپنی کی زمین اور ملکہ کا ملک تھا۔

نمبر دار کی رال ٹپکنے لگے۔ اسے فرعون بننے کا موقع میسر آیا۔ اس بات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہ تاجے کی بیوہ نجمہ اور اس کی چار یتیم بچیوں کا انحصار انہی چار ایکڑوں پر ہے۔ جو دن دوگنی رات چوگنی محنت کرنے کے باوجود مشکل سے ان کو دو وقت کی روٹی فراہم کرتے ہیں ۔ مگر کب کس کو کیا معلوم کہ یہ چار ایکڑ ان کے سندور کی نیلامی اور سانسوں کی غلامی کا باعث بنیں گے جو کل تک ان کے چارہ ساز تھے۔

وہاں دوسری طرف کان دھرنے کے باوجود کمپنی کی زمین ملکہ کا ملک کے فقرے کے سوا شوکے کے کچھ پلے نہ پڑا۔ البتہ شوکے کے بضد نعرے نے سارے گاؤں کو حیرت میں ڈال دیا۔ یہ اجنبی الفاظ جس قدر حیران کن تھے اس قدر ہی ان الفاظ کے ساتھ نمبردار اور شہری بابو کی اصطلاح بھی حیرت انگیز تھی۔ شوکا ہر دو منٹ بعد کہتا:

“نمبر دار, شہری بابو، کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک “

شوکا گاؤں کے ہر فرد کے پاس جا جا کرسوال کرتا،” کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک؟” مگر اب کی بار کسی کے پاس شوکے کے اس سوال کا جواب نہ تھا۔ جہاں گاؤں والوں پر یہ عیاں تھا کہ شوکا جواب ملنے تک چپ نہ ہوگا وہاں دوسری طرف اس بات پر بھی کامل یقین تھا کہ یہ وہی بات کرتا ہے جو کسی نے سکھائی ہو یا کسی سے سنی ہو کیونکہ یہ اپنے سے باتیں بنانے پر قدرت نہیں رکھتا تھا۔ گویا اس کی بات کسی راز کی طرف اشارہ تھا۔ وہ راز جس کے نقش پا نمبردار کے دروبام کی طرف جاتے دکھائی دیتے تھے ۔

گاؤں لوگ جوگ در جوگ شوکے کے گرد جمع ہونے لگے۔ ان میں محض شریر مرد و زن اور بچے ہی نہ تھے جو اکثر شوکے کو چھیڑتے، ہلڑ بازی کرتے اور اس کی باتوں کا مذاق اڑاتے بلکہ آج سورج مغرب سے طلوع ہوا تھا۔ صف اول میں گاؤں کی تمام برگزیدہ اور ذی شعور ہستیاں شامل تھیں۔ ہر نفس شریر پہ چپ لگی تھی۔ گویا اک تماشا عقل و خرد تھا۔ تخت نشیں ایک دیوانہ تھا اور دعوت عام تھی۔

سو چپ کے کوئی دم
یہ حرف یا ندا ہے

شوکے کے نعرے نے جہاں گاؤں والوں کے شعور و لاشعور کو جھنجھوڑ دیا تھا وہاں دوسری طرف جب اس خبرکی دستک نمبردار اسم کرامت علی کے کانوں پر ہوئی تو اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئ۔ حواس باختہ نظر آنے لگا۔ آج کرامت علی کے سامنے ایسی کرامت ہوئی کہ سامری کا فسوں بھی مائل پڑ گیا۔ جہاں اس خبر نے اسے اس طور شش و پنج میں مبتلا کیا کہ یہ راز شوکے جسے دیوانے پر کیسے فشاں ہوا وہاں دوسرے دہانے پر اسے خواب لذت مال و متاع کی تکمیل بھی زیاں ہوتی دکھائی دینے لگی۔ کرامت علی کو پل بھر میں اپنے خواب ٹوٹتے دکھائی دینے لگے جو اس کی منشا اور لالچ کے برعکس تھا۔ جن کی تکمیل کے لیے یہ ہر حد پار کرنے کے لیے ہر طرح سے تیار تھا۔ وہاں شوکا ہر چار سانسوں کے بعد کہتا:

“کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک”

کرامت علی نے اگلے چند ہی لمحوں میں اپنے اعصاب پر قابو پا لیا اور مسلح ہو کر بڑے پیپل کی جانب تیزی سے لپکا۔ جہاں اس کے خوابوں کی دنیا آباد ہونے والی تھی۔ مگر اب یہاں شوکے اور اس کے تکیہ کلام کی اجارہ داری تھی۔ جو کرامت علی اور اس کے خوابوں کی تکمیل کے درمیان اچانک دیوار چین کی طرح بلند ہوا۔ بہاروں سے قبل خزاں کا رجوع تھا۔ بحر پھر بحر نہ رہا۔ اس کے کون و مکاں میں دشت ہوا جاتا تھا۔

کرامت علی : یہاں کیا تماشا لگا رکھا ہے؟
منشی: سرکار شوکا صبح سے کچھ بک رہا ہے۔
شوکا: کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک!

کرامت علی: بھگاو اسے یہاں سے پتا نہیں کیا آناب شناب بک رہا ہے۔ ایک پاگل نے سارے گاؤں کو پاگل بنا دیا ہے۔ یہ داڑھیاں دھوپ میں سفید کی ہیں۔ عقل گھٹنوں میں آ گئی ہے سب کی!

منشی: جو حکم سرکار۔
(منشی بے دردی سے شوکے کو دھکے دیتے ہوئے بڑے پیپل کے نیچے پڑے چبوترے سے اتارتا ہے جہاں پنچایت لگتی اور پنچوں بیٹھا کرتے تھے)

شوکا: کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک، شہری بابو، نمبردار، مردہ باد!

حکیم صاحب: کرامت علی یہ تمہارا نام لے رہا ہے اور کسی شہری بابو کا ذکر کر رہا ہے۔

کرامت علی: حکیم صاحب آپ تو ہوش کے ناخن لیں۔ آپ تو اس گاؤں کے سب سے سمجھدار شخص ہیں۔ اگر آپ بھی پاگل کی باتوں پر کان دھرنے لگے تو باقیوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔

(سارا گاؤں خاموشی سے سن رہا ہے)

حکیم صاحب: مجھے شوکے کے الفاظ کسی راز کی طرف اشارہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ کسی پنہا قیامت کا سراغ ہے جو بہت جلد برپا ہونے والی ہے۔ جس کی تباہ کاریاں کرامت علی تم سے منسوب ہیں۔ فقط یہ کوئی قصہ پارینہ نہیں جسے یوں ہی تہ خاک سپرد کر دیا جائے۔ حقائق کو گاؤں والوں کی آنکھ کے سامنے لانا ہو گا اور یہ نمبردار کی ذمہ داری ہے۔

)حکیم صاحب کی باتوں نے گاؤں والوں کو شش وپنچ میں ڈال دیا۔ کیونکہ حکیم صاحب نہ صرف گاؤں کی ایک دانا شخصیت تھے بلکہ کردار میں بھی فرشتہ صفت انسان تھے۔ وسعت نظر کا یہ عالم تھا کہ ان کی آج تک کوئی پیشن گوئی غلط ثابت نہ ہوئی تھی۔ جو بات کہتے آج یا کل پوری ہوتی۔ وہاں دوسری جانب کرامت علی عرف نمبردار کی شخصیت حکیم صاحب کے برعکس تھی۔ جھوٹ اور فراڈ کرامت علی کا شیوہ عام تھا جسے وہ اپنا ہنر اور کرامت خیال کرتا تھا۔ انسانی ظلم و ستم اور جبری کارووائیاں اس کے نزدیک روزمرہ کی باتیں تھیں۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ گاؤں میں اس کے ڈر کی بقا ہی گاؤں میں امن و سلامتی کی علامت ہے۔ گویا کرامت علی عملی طور پر مارکسی نظریے کے جبری پہلو سے اتفاق رائے رکھتا تھا۔ جو اس بات کا قائل ہے کہ اقتدار جبر کے بغیر ممکن نہیں۔ چند لوگوں کی قربانی حقیقی طور پر دوام و فلاح انسانیت ہے(

کرامت علی: حکیم سٹھیا گیا ہے۔ نظر کے ساتھ ساتھ عقل بھی جاتی معلوم ہوتی ہے۔ گاؤں والے میری قربانیوں سے بے خبر نہیں۔ میں نے رنگیل پور کے لیے خون پسینہ ایک کیا۔ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک رہا۔ ہزاروں آفتوں کو گاؤں پر آنے سے پہلے کرامت علی کی لاش سے گزرنا پڑا ۔

) گاؤں والے ابھی شوکےکے نعرے، حکیم صاحب کی پیشنگوئی اور کرامت علی کی صفائی کا معمہ سلجھانے میں جٹےہوتے تھے کہ اگلے ہی دن نجمہ اسی بڑے پیپل کے نیچے ہاتھ میں سرکاری پتر لیے واویلا مچاتی ہے۔اس میں لکھا تھا کہ گزشتہ اس کے زیر قبضہ چار ایکڑ قانونی طور پر اس کی ملکیت نہ تھے۔ حکومت پاکستان نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ان چار ایکڑوں کو کرامت علی کو فروخت کر دیا ہے۔ جہاں فلاں کمپنی کرامت علی کے راضی نامے کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور لگانے جارہی ہے۔ وہاں دوسری طرف شہری بابو مشینری لے کر گاؤں میں وارد ہوتا ہے۔ پھر ایک بار سارا گاؤں بڑے پیپل کے نیچے جمع تھا۔ پنچایت کا سا سماں تھا۔(

نجمہ: نمبر دار ہائے ہائے۔ کرامت علی تیرے بچے مریں۔ ہائے میری زمین، ہائے یتیموں کی روٹی، ہائے لاچاروں کی چھت ۔

شوکا: کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک!

نجمہ: شوکے منحوس، کالی زبان والے، تیرا منہ کالا، نہ تو منہ سے بد بختی نکالتا، نہ میرا سہارا جاتا۔
حکیم صاحب: میں پہلے نہ کہتا تھا یہ نمبردار کی کوئی چال ہے۔

نجمہ: نمبر دار تیرا بیڑا غرق ہو۔ تو نے بیوہ کو رلایا ، تو نے یتیموں کو ستایا ۔ تجھ پہ خدا کا قہر نازل ہو۔ تجھے بے کسوں کی بد دعا لگے۔

کرامت علی: اپنی بکواس بند کر۔ اپنی زبان کو لگام دے۔ میں عورت ذات ہونے کا لحاظ کر رہا ہوں۔

شوکا: کمپنی کی زمین، ملکہ کا ملک۔

نجمہ: تجھے میری سفید ساڑھی کا لحاظ نہ آیا ۔ باپ کے سائے سے محروم بچوں کا خیال نہ آیا۔ سارے گاؤں کی زمین ہڑپ کر کے بھی تیری مکاری کو تسکین نہ ہوئی جو بے بس اور مجبوروں کے کلیجے پر لالچ کے تیر چلائے۔

شہری بابو: بی بی! خدا کا شکر کر اور کرامت علی کا احسان جان کہ جس نے حکومت کو تیرے خلاف مقدمہ چلانے سے باز رکھا۔ ورنہ ان چار ایکڑوں پر سالوں سے قبضے کے عوض تجھ پر ضخیم جرمانہ عائد ہوتا اور سالوں جیل کی چکی پیسنی پڑتی۔

شوکا: کمپنی کی زمین ، ملکہ کا ملک!

نجمہ: ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔ یہ میرے شوہر کی میراث ہے۔ یہ ہمارے اجداد کی بہادری کا صلہ ہے جو انہیں انگریز حکومت نے تحفے میں دیا تھا۔ چاہو تو گوری سرکار سے پوچھ لو۔ ہائے یہ چار ایکڑ ہم غریبوں کی کل مال و متاع۔

شوکا: کمپنی کی زمین ، ملکہ کا ملک!

شہری بابو: بی بی! یہ جناح کا آزاد پاکستان ہے۔ گوری سرکار ہندوستان کو تقسیم کرتے پچاس برس قبل گزر چکی۔ کوئی کاغذ پتر یا ملکیت نامہ ہے، تو لا دکھا!

نجمہ: کیا آزاد پاکستان، کیا محکوم ہندوستان؟ وہی بادشاہ ، وہی رعایا ، وہی ظلم ، وہی جبر۔ ہائے میری زمین، ہائے میری زمین۔ ہائے طاقت، ہائے مفلوج ۔

منشی: کرامت علی زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد ۔



) سب پر سب عیاں ہو جاتا ہے۔ چار ایکڑوں کا معاملہ ایک قانونی کارروائی قرار پاتا ہے۔ حکیم صاحب کے ساتھ ساتھ تمام گاؤں والوں کی گتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔ سارا گاؤں سر تسلیم خم ہے۔ شوکا خاموش ہو جاتا ہے۔ کرامت علی سرخرو ہوتا ہے۔ شام ڈھلتے ہی ایک اور شام نجمہ کے در و دیوار پر دستک دیتی ہے۔ اس کی دو بڑی بیٹیوں کو رشتے سے انکار ہو جاتا ہے جن سے محض چار ایکڑوں کی لالچ میں رشتہ استوار کیا گیا تھا ۔ البتہ صبح کا آغاز رنگیل پور میں دوبارہ ایک نعرے سے ہوا مگر اب کی بار نہ امریکہ دریافت ہوا تھا اور نہ ہی ہندوستان آزاد بلکہ یہ نعرہ طاقت کے سامنے مفلوج کی آخری آہ تھا جسے نجمہ کی بڑی بیٹی گڈو نے بلند کیا(

گڈو: ہائے ہم لٹ گئے، ہائے ہم برباد ہو گئے۔ ہم پھر سے یتم ہو گئے۔ اماں، اماں، آنکھیں کھول، جواب کیوں نہیں دیتی۔

)سارا گاؤں نجمہ کی لاش کے گرد جمع ہوتا ہے۔ کوئی موت کا سبب چار ایکڑوں کا صدمہ قرار دیتا ہے۔ کوئی کرامت علی کو دی ہوئیں بد دعاؤں کا الٹا چکر خیال کرتا ہے۔ لاش سے بے پرواہ ، باقیات سے بے نیاز__ اپنی اپنی تسلی و تسکیں کے لئے قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہوتا ہے(

کرامت علی: کیا ہوا گڈو!

گڈو: ہائے دشمن کی کرنی ، ہائے ہماری جنت، ہائے ہم بے کس، ہائے قدرت، سب سپرد قیامت۔

) کرامت علی نے دریا دلی کا مظاہرہ کیا اور نجمہ کی لاش پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ وہ نہ صرف اس کی بچیوں کی کفالت کی ذمہ داری اپنے سر لے گا بلکہ یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ ماسوائے ٹاؤر کی جگہ وہ بقیہ زمین قبرستان کے لیے دان کرتا ہے۔ کرامت علی کی اس کرامت نے تمام گاؤں والوں کے دل مول لیے۔ البتہ حکیم صاحب جانے کیوں مسکرا رہے تھے۔ آج ہی شہری بابو نے 2 لاکھ روپے بطور کرایا ارسال بھی کیا تھا۔ قبرستان میں پہلی قبر نجمہ کی بنی۔ جسکے کتبے پر لکھا تھا، کمپنی کی زمین ملکہ کا ملک(

شوکے نے ایک بار پھر نعرہ بلند کیا؛

” کرامت علی زندہ باد، قبرستان پائندہ باد”