ہے عجب کرم ان نگاہوں میں

0
ہے عجب کرم ان نگاہوں میں
اشک بھی خرم ان نگاہوں میں

ہوش اب جاں گدازی ہے کیا ، جو
جامِ جم ، سو رم ان نگاہوں میں

ہوتا ہے اب کے یہ گماں مجھ کو
قصہِ پرم ان نگاہوں میں

کہ نہ زاہد ، نہ کشتہِ مے ، یہ
دل کہ چاک اثرم ان نگاہوں میں

موسی وہ مدعاِ شوخ نظر
مادِ صد پرم ان نگاہوں میں